The news is by your side.

Advertisement

بوسٹر ڈوز کیوں ضروری ہے؟ اماراتی حکام نے واضح کردیا

دبئی: کرونا وبا کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے متحدہ عرب امارات نے اہم ترین فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فائزر کووڈ نائٹین کی تیسری خوراک کمزوروں میں قوت مدافعت بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

فقیہ یونیورسٹی اسپتال میں فیملی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر عادل سنجوانی نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ فائزر کووڈ نائٹین ویکسین کا کرونا وائرس سے لڑنے میں اچھا رسپانس ہے اور تیسری خوراک طبی ہسٹری رکھنے والے لوگوں کے لئے تجویز کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر عادل سنجوانی نے مزید کہا کہ کینسر اور امیونو تھراپی کے زیر علاج مریضوں اور کم قوت مدافعت والے افراد کی کرونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت کم ہوگی، اور اس طرح کووڈ نائنٹین کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے کے لئے بوسٹر شارٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

دوسری جانب دبئی ہیلتھ اتھارٹی نےاعلان کیا ہے کہ وہ کمپرومائز مدافعتی نظام والے رہائشیوں کو فائزر بائیو ٹیک کووڈ نائنٹین ویکسین کی تیسری خوراک کی فراہمی کا انتظام شروع کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ابوظہبی جانا اب اور بھی آسان ، بڑی پابندی ختم

ڈاکٹر ویشالی روہنکر جنرل پریکٹیشنر اور میڈیکل ڈائریکٹر ایسٹر کلینک شیخ زید روڈ نے کہا کہ ویکسین کی تیسری خوراک ایچ آئی وی کے مریضوں ، کینسر کے لئے کیمو تھراپی سے گزرنے والے اور اعضا یا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے وصول کنندگان کے لئے درکار ہے۔

روہنکر نے مزید کہا کہ ایسے مریضوں میں قوت مدافعت کم ہوسکتی ہےاور عام لوگوں کے مقابلے میں کرونا وائرس کے خلاف کم تحفظ پایا جاسکتا ہے، ان میں اینٹی باڈی رسپانس کی پائیداری ختم ہوجاتی ہے اور وائرس کی نئی شکلوں کے سامنے آنے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے۔

میڈیکوس کا کہنا ہے کہ اینٹی باڈی ٹائٹر عام آدمی اور صحت مند مدافعتی نظام رکھنے والوں میں طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔

بوسٹر خوراک سے متعلق گائیڈ لائن

حکام کے مطابق تیسری خوراک کے لئے اہل افراد کو تصدیق کے لئے ڈی ایچ اے فیملی میڈیسن ڈاکٹر سے مشاورت کی ملاقات کرنی ہوگی، یا 342800پر کال کرکے ٹیلی میڈیسن مشاورت کی درخواست کرنی ہوگی۔

تیسری خوراک کی ویکسین کی منظوری سے پہلے ڈی ایچ اے کے ڈاکٹر کی تفصیلی طبی تشخیص کی ضرورت ہے اور اینٹی باڈی ٹائٹربھی چیک کیا جائے گا۔

ڈی ایچ اے نے پہلے ہی کہا تھا کہ جن افراد کو مکمل طور پر ویکسین دی گئی ہےاور جنہیں مدافعتی بیماری نہیں ہےانہیں بھی ویکسین کی اضافی خوراک لینے کی ضرورت نہیں ہوگی ، کچھ کیسز میں یہاں تک کہ مدافعتی امراض سے متاثرہ مریضوں کو ویکسین کی تیسری خوراک کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں