The news is by your side.

Advertisement

ہانگ کانگ کس ویکسین کے لاکھوں ڈوز ضائع کرنے جا رہا ہے؟

ہانگ کانگ: جہاں ایک طرف دنیا کرونا ویکسین کے حصول میں لگی ہوئی ہے، وہاں ہانگ کانگ جلد ہی کرونا وائرس ویکسین کے لاکھوں کی تعداد میں ڈوز ضائع کرنے والا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین کا انتظامی علاقہ ہانگ کانگ میعاد ختم ہونے کی وجہ سے کرونا ویکسین کے لاکھوں ڈوز جلد ضائع کر دے گا، یہ ویکسین پڑے پڑے ایکسپائر ہو رہی ہے، ​جب کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے ویکسینیشن کے لیے خود کو رجسٹر نہیں کرایا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ کی سرکاری ویکسین ٹاسک فورس نے عوام کو تنبیہ کی ہے کہ فائزر بائیو این ٹیک ویکسین کی پہلی کھیپ کے استعمال کی مقررہ مدت ختم ہونے میں صرف تین مہینے کا وقت رہ گیا ہے۔

سینٹر برائے تحفظ صحت کے سابق کنٹرولر تھامس سانگ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ویکسینز کی ایک مقررہ میعاد ہوتی ہے، جس کے بعد وہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں، بائیو این ٹیک کے لیے ویکسینیشن سینٹرز منصوبے کے مطابق ستمبر میں ویکسین لگانا بند کر دیں گے۔

انھوں نے کہا ایسے میں یہ بالکل بھی درست نہ ہوگا کہ ہانگ کانگ غیر استعمال شدہ ویکسین ڈوز لے کر بیٹھا رہے اور باقی دنیا ویکسین حاصل کرنے کے لیے جدوجہد میں لگی ہو۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ نے آبادی کی تعداد کے لحاظ سے فائزر بائیو این ٹیک اور چین کی سائنو فارم ویکسین کے 75 لاکھ ڈوز خریدے تھے، تاہم آن لائن افواہوں اور وائرس فری شہر میں ہنگامی صورت حال نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں ویکسین لگوانے کے لیے ہچکچاہٹ دیکھی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب تک صرف 19 فی صد آبادی نے ویکسین کا ایک ڈوز، اور صرف 14 فی صد نے دو ڈوز لیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تشویش ناک امر یہ ہے کہ خود طبی عملے میں بھی ہچکچاہٹ پائی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ ویکسین کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے اور یہ 6 مہینے تک قابل استعمال رہتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں