The news is by your side.

Advertisement

اپر چترال: 12 ہزار فٹ بلندی سے عمر ایوب سمیت پیراگلائیڈرز کی اڑان

اپر چترال: 12 ہزار 800 فٹ بلندی پر پاکستان کے خوب صورت مقام زینی پاس پر پہاڑ کی چوٹی سے فضاؤں میں اڑان بھرنے کے مقابلے شروع ہو چکے ہیں، اپر چترال کے علاقے زینی میں پیرا گلائیڈنگ کے انتہائی دل چسپ مقابلے جاری ہیں، تین روزہ پیرا گلائیڈنگ مقابلوں کا انعقاد ضلعی انتظامیہ اپر چترال نے کیا ہے۔

ان مقابلوں میں ملک بھر سے 63 سے زائد پیرا گلائیڈرز شرکت کر رہے ہیں، وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب بھی پیرا گلائیڈنگ مقابلوں کے لیے زینی پاس پہنچ گئے، عمر ایوب نے بھی دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ پیرا گلائیڈنگ مقابلوں میں حصہ لیا۔

اڑان بھرنے سے قبل عمر ایوب نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ وہ پہلے بھی پیرا گلائیڈنگ کے مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں، زینی پاس انتہائی بلندی پر واقع پیرا گلائیڈنگ اسپاٹ ہے، یہاں پیرا گلائیڈنگ کا اپنا مزہ ہے۔

عمر ایوب نے بتایا کہ ان کی حکومت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اس سوال پر کہ چترال کی سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے، عمر ایوب نے بتایا کہ انھوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان سے اس بارے میں بات کی ہے، سڑکوں کو ٹھیک کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی خان خود پیرا گلائیڈنگ کے ان مقابلوں کی نگرانی کر رہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ملک بھر سے 63 پیرا گلائیڈرز مقابلوں میں شریک ہوئے ہیں، پہلی بار ملکی سطح پر پیرا گلائیڈنگ کے مقابلے منعقد کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا زینی پاس پیراگلائیڈنگ کے لیے ایشیا کا دوسرا سب سے بڑا موزوں مقام ہے، پیرا گلائیڈنگ کے مقابلے اب یہاں ہر سال منعقد کیے جائیں گے، اور ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال غیر ملکی کھلاڑی بھی مقابلوں میں شرکت کریں، اور یہاں انٹرنیشل سطح پر پیرا گلائیڈنگ مقابلے ہوں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا چترال میں سیاحت کے ساتھ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سیاح یہاں کے خوب صورت نظاروں کے ساتھ کھیلوں کے مقابلوں سے بھی لطف اندوز ہوں۔

زینی پاس میں پیرا گلائیڈنگ مقابلوں میں شریک کھلاڑی بھی اتنی اونچائی پر پہلی بار پیرا گلائیڈنگ مقابلے منعقد ہونے پر خوش ہیں، چترال سے تعلق رکھنے والے پیرا گلائیڈر محمد شفیق نے بتایا کہ زینی پاس پر تیز ہوائیں چلتی ہیں، جس کی وجہ سے یہاں پیرا گلائیڈنگ کرنا آسان نہیں ہے، تیز ہواؤں کی وجہ سے نئے کھلاڑیوں کو یہاں اڑان بھرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

اسلام آباد سے آئے پیرا گلائیڈر محمد سلمان نے بتایا کہ پہلے بھی پیرا گلائیڈنگ کر چکے ہیں لیکن آج پہلی بار اتنی اونچائی سے پیرا گلائیڈنگ ہو رہی ہے، یہاں پیرا گلائیڈنگ ایڈونچر سے کم نہیں ہے۔

محمد سلمان نے کہا 12 ہزار فٹ سے زائد بلندی سے جب آپ پرواز بھرتے ہیں تو اس علاقے کے خوب صورت نظاروں کو دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور جب آپ ققلشت میں اترتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہاں میں نے پیرا گلائیڈنگ کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں