The news is by your side.

Advertisement

رانچی کے پاگل خانے کی “پری”

رانچی پاگل خانے کا جو منظر مجھے کبھی نہیں بھول سکا، وہ ایک بنگالی لڑکی تھی، جیسے سنگِ مَر مَر کو تراش کر کسی نے کوئی بُت بنایا ہو۔ باغیچے کے ایک الگ تھلگ کونے میں اکیلی بینچ پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے جیسے موتیوں کے دانے گر رہے ہوں۔

میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ نیپال کی ڈاکٹر جو مجھے سینی ٹوریم دکھا رہی تھی، اس کا گلا یک لخت بھر آیا اور وہ خاموش ہو گئی۔

پَل دو پَل کے لیے میرے قدم رک گئے اور میں اس حسینہ کی طرف دیکھنے لگ گیا۔ دودھیا سفید کپڑے پہنے یوں لگ رہی تھی جیسے عرش سے اتری کوئی پری ہو۔ وہ ہلے جلے بغیر ایک جگہ خاموش بیٹھی تھی اور اس کے آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔ ” جیسے سنگِ مَرمَر کا کوئی پھوارا ہو۔“ میرے منہ سے نکلا۔

اور پھر ہمارے ساتھ چل رہی نرس نے اس کی کہانی سنائی۔ ”بڑی بدقسمت لڑکی ہے۔ شکل سے سولہ سترہ سال کی ہو گی۔ اس کا پیار اپنے ٹیوٹر سے ہو گیا۔ وہ اسے پڑھانے آتا تھا۔ اتنے امیر ماں باپ کی بیٹی۔ اس کا بیاہ ایک معمولی ٹیوٹر سے وہ کیسے کر دیتے۔ گھر والوں نے ٹیوٹر کو کچھ دے دلا کر اس کا بیاہ کسی اور سے کروا دیا۔

لڑکی نے جب سنا تو اس کا دماغ ہل گیا۔ بولتی ہے نہ کچھ کہتی ہے۔ کتنی کتنی دیر بھوکی کی بھوکی پڑی رہتی ہے۔ اسے جب موقع ملتا ہے سج سنور کر اس الگ تھلگ بینچ پر آکر بیٹھ جاتی ہے اور گھنٹوں بھر چھم چھم آنسو بہاتی رہتی ہے۔ جیسے چناب اس کے اندر پھوٹ پڑی ہو، اس کے آنسو نہیں رکتے۔ اس کی پلکیں نہیں سوکھتیں۔ اسے یہیں بیٹھے بیٹھے آنسو بہاتے رات ہو جائے گی۔

اسی اسپتال کا ایک دوسرا واقعہ
اسپتال کی سوشل ورکر ہمیں اس کے کمرے میں لے جا رہی تھی کہ ایک مریض جلدی جلدی آیا اور مجھے روک کر کہنے لگا۔ ”آپ کے ساتھ پردے میں ایک بات کرنی ہے۔“ میں ہنسنے لگا۔ ”ہاں بتاﺅ۔“ میں نے اس سے کہا۔

”ادھر چلو۔ ادھر۔“ اور وہ مجھے ایک طرف لے گیا جہاں دو شمال کی طرف پہاڑ دکھائی دیتے تھے۔

”ادھر سے آ رہے ہیں۔“ وہ مریض کہنے لگا۔ چیونٹیوں کی طرح فوجیں پہاڑوں سے اتر رہی ہیں۔ بم برسیں گے۔ گولے پھوٹیں گے۔ تڑ تڑ مشین گنیں چلیں گی۔ کوئی نہیں روک سکے گا، کوئی نہیں روک پائے گا۔ وہ دھکیلتے ہوئے ہمارے ملک میں داخل ہو جائیں گے۔ وہ ایسی مار ماریں گے کہ ہم کسی کو شکل دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔

آپ مانو یا نہ مانو میں نے بتا دیا ہے۔ میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ مجھے تو ان کی فوجیں سامنے سے آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ آپ کو نظر نہیں آ رہیں۔ عجیب ہے آپ کی نظر۔ آپ کے پاس آنکھیں ہی نہیں ہیں۔ کتنی دیر وہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھے یوں بولتا رہا۔

مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ میں مند مند مسکراتا ہوا اس کی طرف دیکھتا رہا۔ چار دن بعد خبر آئی۔ چین نے ہمارے ملک پر حملہ کر دیا ہے۔ ان کی فوجیں چیونٹیوں کی طرح ہمارے ملک میں زبردستی گھس آئی ہیں۔ آگے ہی آگے بڑھ رہی تھیں۔

(ناول نگار اور پنجابی زبان کے شاعر کرتار سنگھ دگل کی یادوں سے ترجمہ، مصنف کا تعلق گر داس پور، ہندوستان سے تھا)

Comments

یہ بھی پڑھیں