The news is by your side.

Advertisement

نئی مشرقیت….

اقبالؔ نے اپنے متعلق کہا ہے،

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
میں ابلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

ابلۂ مسجد اس پرانی مشرقیت کی علامت ہے جو ایک جامد مذہبی تصور رکھتی ہے اور صرف عقائد و عبادات سے سروکار رکھتی ہے۔ معاملات کی اہمیت کو نظر انداز کرتی ہے اور عقائد اور عبادات میں روح پر نہیں لفظ پر اصرار کرتی ہے۔

تہذیب کا فرزند اس مزاج کی نمائندگی کرتا ہے جو مغرب، اس کے افکار و اقدار، اس کی تہذیب، اس کے نظامِ حیات اور اس کے اداروں کو نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ اس کی تقلید میں ہی اپنی نجات سمجھتا ہے۔

ایک قدامت کا علم بردار ہے دوسرا جدّت کا۔ ایک کے لیے ماضی سب کچھ ہے اور دوسرے کے لیے افسانہ و افسوں۔ ایک کے لیے اس کی تاریخ، تہذیب، قانون، سماجی نظام، خاندان، قبیلہ، مذہبی برادری قابلِ تقلید ہے تو دوسرے کے لیے یہ دفترِ بے معنیٰ ہے اور انسان کی ترقّی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ۔ ایک کے لیے پرانی لکیر زندگی کی سب سے اعلیٰ قدر ہے، دوسرے کے لیے زمانے کے دھارے پر چلنا سب سے بڑی مسرت۔

اقبال نے جہاں مغربیت پر طنز کی ہے وہاں یہ طنز در اصل تہذیب کے فرزندوں پر ہے لیکن انہوں نے ابلۂ مسجد کے علاوہ صوفی، ملا، فقیہہ حرم، پیر حرم کو بھی نہیں بخشا ہے۔ مشرقیت اور مغربیت کے خلاف ان کے یہ اعتراضات ملحوظ رہیں۔

ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں زمانہ

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک
ہے جس کے تصور میں فقط بزمِ شبانہ
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید
مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ

یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
وہاں مرض کا سبب ہے نظامِ جمہوری
نہ مشرق اس سے بری ہے نہ مغرب اس سے بری
جہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رنجوری

پھرا میں مشرق و مغرب کے لالہ زاروں میں
کسی چمن میں گریبانِ لالہ چاک نہیں

خودی کی موت سے مغرب کا اندروں بے نور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام

زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر
یہ فرنگی مدنیت کہ جو ہے خود لبِ گور

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق صہبا ہے

نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و سازِ حیات
خودی کی موت ہے یہ اور وہ ضمیر کی موت

غرض یہ بات واضح ہے کہ اقبال مثلاً اکبر کی طرح مشرقیت کے علم بردار نہیں ہیں اور مشرق کے جمود، مریضِ روحانیت، مزاجِ خانقاہی، تقدیر پرستی، بے عملی پر برابر وار کرتے ہیں۔ وہ مغربی علم وحکمت کی قدر کرتے ہیں، ارضیت کے علم بردار ہیں اور اگر زمین کے ہنگامے سہل نہ ہوں تو مستیٔ اندیشہ ہائے افلاکی کو برا سمجھتے ہیں۔ وہ تصوف کے معنی اخلاص فی العمل کے لیتے ہیں اور ترکِ آب و گِل سے مہجوری نہیں، تسخیرِ خاکی و نوری سمجھتے ہیں، وہ بقول اینی میری شمل جرمنی کے Vitalist اسکول سے متاثر ہیں اوران کی خودی کے تصور میں فشتے کا پرتو صاف جھلکتا ہے۔

(آل احمد سرور کے مضمون اقبال اور نئی مشرقیت سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں