The news is by your side.

Advertisement

زندگی محنت و عمل سے سنورتی ہے!

اپنی زندگی آدمی خود بناتا ہے اور یہ محنت و عمل کے ذریعے سے سنورتی ہے۔

محنت سے عزت حاصل ہوتی ہے۔ محنت کے بغیر خود اپنی نظر میں بھی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ بچپن ہی سے محنت کی عادت ڈالنی چاہیے، تاکہ بڑے ہو کر انسان محنت سے نہ گھبرائے، ایک بار محنت کی عادت پختہ ہو جائے، تو وہ عمر بھر کام آتی ہے اور انسان کی دولت و عزّت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ محنت باعثِ ذلّت نہیں، ذریعۂ عزت ہے۔ محنت کرنے سے عزّت حاصل ہوتی ہے، محنت کسی بھی قسم کی ہو، فائدہ پہنچاتی ہے۔ محنتی آدمی بہت جلد کام یاب ہو کر عزت کا مستحق بن جاتا ہے۔

ایک مزدور جو دن بھر محنت کر کے اپنی روزی کماتا ہے، اس پیسے والے آدمی سے کہیں بہتر ہے، جو دن بھر بے کار رہتا ہو اور کاہلی میں اپنا وقت گزارتا ہو۔

جو طالب علم اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے محنت مزدوری کر کے اپنی تعلیمی مصارف پورے کرتا ہو، وہ ان طالب علموں سے بھی زیادہ قابل قدر ہے، جن کے والدین ان کی تعلیم کا خرچ برداشت کرتے ہیں۔ دولت نہ ہو تو آدمی غریب نہیں ہوتا، وہ محنت سے دولت حاصل کر سکتا ہے، لیکن محنت کی عادت نہ ہو تو امیر آدمی بھی اپنی دولت کھو کر غریب ہو جائے گا اور دوبارہ اس کو دولت میسر نہیں آئے گی۔

جو لوگ محنت نہیں کرے، وہ محنتی آدمی کی عزّت بھی نہیں کرتے۔ محنت کی عادت ڈالو، محنتی آدمی کی عزت کرو۔

(بچّوں اور نوجوانوں کی تربیت اور راہ نمائی کے لیے حکیم محمد سعید کی مختصر مگر پُر اثر تحریر)

Comments

یہ بھی پڑھیں