The news is by your side.

Advertisement

‘‘آپ ہمارے تیسرے شکار ہیں!’’

دوسروں کو بنانا خاص کر ان لوگوں کو جو چالاک ہیں یا اپنے کو چالاک سمجھتے ہیں، ایک فن ہے۔

آپ شاید سمجھتے ہوں گے کہ جس شخص نے بھی ‘‘لومڑی اور کوّے’’ کی کہانی پڑھی ہے۔ وہ بخوبی کسی اور شخص کو بنا سکتا ہے۔ آپ غلطی پر ہیں۔ وہ کوّا جس کا ذکر کہانی میں کیا گیا ہے ضرورت سے زیادہ بے وقوف تھا۔ ورنہ ایک عام کوّا لومڑی کی باتوں میں ہرگز نہیں آتا۔

لومڑی کہتی ہے۔ ‘‘میاں کوّے! ہم نے سنا ہے تم بہت اچھا گاتے ہو۔’’وہ گوشت کا ٹکڑا کھانے کے بعد جواب دیتا ہے۔‘‘ بی لومڑی۔ آپ نےغلط سنا۔ خاکسار تو صرف کائیں کائیں کرنا جانتا ہے۔’’

تاہم مایوس ہونےکی ضرورت نہیں۔ تلاش کرنے پر بیوقوف کوّے کہیں نہ کہیں مل ہی جاتے ہیں۔ اس اتوار کا ذکر ہے۔ ہمیں پتہ چلا کہ رائے صاحب موتی ساگر کا کتّا مرگیا۔ ہم فوراً ان کے ہاں پہنچے۔ افسوس ظاہر کرتے ہوئے ہم نے کہا۔ ‘‘رائے صاحب آپ کےساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ برسوں کا ساتھی داغِ مفارقت دے گیا۔’’

‘‘پرماتما کی مرضی۔’’ رائے صاحب نے مَری ہوئی آواز میں جواب دیا۔

‘‘بڑا خوب صورت کتّا تھا۔ آپ سے تو خاص محبت تھی۔’’

‘‘ہاں مجھ سے بہت لاڈ کرتا تھا۔’’

‘‘کھانا بھی سنا ہے آپ کے ساتھ کھاتا تھا۔ کہتے ہیں آپ کی طرح مونگ کی دال بہت پسند تھی۔’’

‘‘دال نہیں گوشت۔’’

‘‘آپ کا مطلب ہے چھیچھڑے۔’’

‘‘نہیں صاحب بکرے کا گوشت۔’’

‘‘بکرے کا گوشت! واقعی بڑا سمجھ دار تھا۔ تیتر وغیرہ تو کھا لیتا ہوگا۔’’

‘‘کبھی کبھی۔’’

‘‘سنا ہے۔ ریڈیو باقاعدگی سے سنتا تھا۔’’

‘‘ہاں ریڈیو کے پاس اکثر بیٹھا رہتا تھا۔’’

‘‘تقریریں زیادہ پسند تھیں یا گانے؟’’

‘‘یہ کہنا تومشکل ہے۔’’

‘‘میرے خیال میں دونوں۔ سنیما جانے کا بھی شوق ہوگا۔’’

‘‘نہیں سنیما تو کبھی نہیں گیا۔’’

‘‘بڑے تعجب کی بات ہے۔ پچھلے دنوں تو کافی اچھی فلمیں آتی رہیں۔ خیر اچھا ہی کیا۔ نہیں تو خواہ مخواہ آوارہ ہو جاتا۔’’

‘‘بڑا وفادار جانور تھا۔’’

‘‘اجی صاحب۔ ایسے کتّے روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ آپ نے شاید اڑھائی روپے میں خریدا تھا۔’’

‘‘اڑھائی روپے نہیں اڑھائی سو میں۔’’

‘‘معاف کیجئے۔ کسی مہاراجہ نے آپ کو اس کے لئے پانچ روپے پیش کئے تھے۔’’

‘‘پانچ نہیں پانچسو۔’’

‘‘دوبارہ معاف کیجئے۔ پانچسو کے تو صرف اس کے کان ہی تھے۔ آنکھیں چہرہ اور ٹانگیں الگ۔’’

‘‘بڑی رعب دار آنکھیں تھیں اس کی۔’’

‘‘ہاں صاحب کیوں نہیں جس سے ایک بار آنکھ ملاتا وہ آنکھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔’’

‘‘چہرہ بھی رعب دار تھا۔’’

‘‘چہرہ! اجی چہرہ تو ہو بہو آپ سے ملتا تھا۔’’ ‘‘رائے صاحب نے ہماری طرف ذرا گھوم کر دیکھا۔ ہم نے جھٹ اٹھتے ہوئےعرض کیا۔‘‘اچھا رائے صاحب صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں واقعی آپ کو بہت صدمہ پہنچا ہے۔ آداب عرض۔’’

رائے صاحب سے رخصت ہو کر ہم مولانا کے ہاں پہنچے۔ مولانا شاعر ہیں اور زاؔغ تخلص کرتے ہیں۔

‘‘آداب عرض مولانا۔ کہیے وہ غزل مکمل ہوگئی۔’’

‘‘کونسی غزل قبلہ۔’’

‘‘وہی۔ اعتبار کون کرے۔ انتظار کون کرے؟’’

‘‘جی ہاں ابھی مکمل ہوئی ہے۔’’

‘‘ارشاد۔’’

‘‘مطلع عرض ہے۔ شاید کچھ کام کا ہو۔

جھوٹے وعدے پہ اعتبارکون کرے
رات بھر انتظار کون کرے’’

‘‘سبحان اللہ۔ کیا کرارا مطلع ہے ؎ رات بھر انتظار کون کرے۔ واقعی پینسٹھ سال کی عمر میں رات بھر انتظار کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اور پھر آپ تو آٹھ بجے ہی اونگھنے لگتے ہیں۔’’

‘‘ہے کچھ کام کا۔’’

‘‘کام کا تو نہیں۔ لیکن آپ کے باقی مطلعوں سے بہتر ہے۔’’

‘‘شعرعرض کرتاہوں ؎

گو حسیں ہے مگر لعیں بھی ہے
اب لعیں سے پیار کون کرے’’

‘‘کیا بات ہےمولانا۔ اس‘لعیں’کا جواب نہیں۔ آج تک کسی شاعر نےمحبوب کے لیےاس لفظ کا استعمال نہیں کیا۔ خوب خبر لی ہے آپ نے محبوب کی۔’’

‘‘بجا فرماتے ہیں آپ۔ شعر ہے ؎

ہم خزاں ہی میں عشق کرلیں گے
آرزوئے بہار کون کرے

‘‘بہت خوب۔ خزاں میں بیگم صاحب شاید میکے چلی جاتی ہیں۔ خوب موسم چنا ہے آپ نے اور پھر خزاں میں محبوب کو فراغت بھی تو ہو گی۔’’

‘‘جی ہاں۔عرض کیا ہے ؎

مر گیا قیس نہ رہی لیلی
عشق کا کاروبار کون کرے

‘‘بہت عمدہ، عشق کا کاروبار کون کرے۔ چشمِ بَد دور آپ جو موجود ہیں۔ ماشاء اللہ آپ قیس سے کم ہیں۔’’

‘‘نہیں قبلہ ہم کیا ہیں۔’’

‘‘اچھا کسرِ نفسی پر اتر آئے۔ دیکھیے بننے کی کوشش مت کیجیے۔’’

‘‘مقطع عرض ہے۔’’

‘‘ارشاد۔’’

‘‘رنگ کالا سفید ہے داڑھی
زاغؔ سے پیار کون کرے

‘‘اے سبحان اللہ۔ مولانا کیا چوٹ کی ہے محبوب پر۔ واللہ جواب نہیں، اس شعر کا۔ زاغ سے پیار کون کرے۔ کتنی حسرت ہے اس مصرع میں۔’’

‘‘واقعی؟’’

‘‘صحیح عرض کر رہا ہوں۔ اپنی قسم یہ شعر تو استادوں کے اشعار سے ٹکر لے سکتا ہے۔کتنا خوبصورت تضاد ہے۔ ؎ رنگ کالا سفید ہے داڑھی۔ اور پھر زاغ کی نسبت سے کالا رنگ کتنا بھلا لگتا ہے۔’’

زاغؔ صاحب سے اجازت لے کر ہم مسٹر‘‘زیرو’’کے ہاں پہنچے۔ آپ آرٹسٹ ہیں اور آرٹ کے جدید اسکول سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنی تازہ تخلیق دکھائی۔ عنوان تھا۔ ‘‘ساون کی گھٹا’’ہم نے سنجیدگی سے کہا۔‘‘سبحان اللہ۔ کتنا خوبصورت لہنگا ہے۔’’

‘‘لہنگا۔ اجی حضرت یہ لہنگا نہیں۔ گھٹا کا منظر ہے۔’’

‘‘واہ صاحب آپ مجھے بناتے ہیں۔ یہ ریشمی لہنگا ہے۔’’

‘‘میں کہتا ہوں یہ لہنگا نہیں ہے۔’’

‘‘اصل میں آپ نے لہنگا ہی بنایا ہے لیکن غلطی سے اسے ساون کی گھٹا سمجھ رہے ہیں۔’’

‘‘یقین کیجیے میں نے لہنگا……’’

‘‘اجی چھوڑیے آپ کے تحت الشعور میں ضرور کسی حسینہ کا لہنگا تھا۔ دراصل آرٹسٹ بعض اوقات خود نہیں جانتا کہ وہ کس چیز کی تصویر کشی کررہا ہے۔’’

‘‘لیکن یہ لہنگا ہرگز نہیں….’’

‘‘جناب میں کیسےمان لوں کہ یہ لہنگا نہیں۔ کوئی بھی شخص جس نے زندگی میں کبھی لہنگا دیکھا ہے۔ اسے لہنگا ہی کہے گا۔’’

‘‘دیکھیےآپ زیادتی کر رہے ہیں۔’’

‘‘اجی آپ آرٹسٹ ہوتے ہوئے بھی نہیں مانتے کہ آرٹ میں دو اور دو کبھی چار نہیں ہوتے۔ پانچ، چھ، سات یا آٹھ ہوتے ہیں۔ آپ اسے گھٹا کہتے ہیں۔ میں لہنگا سمجھتا ہوں۔ کوئی اور اسے مچھیرے کا جال یا پیرا شوٹ سمجھ سکتا ہے۔’’

‘‘اس کا مطلب یہ ہوا۔ میں اپنےخیال کو واضح نہیں کرسکا۔’’

‘‘ہاں مطلب تو یہی ہے۔ لیکن بات اب بھی بن سکتی ہے۔ صرف عنوان بدلنے کی ضرورت ہے۔’’ساون کی گھٹا۔‘ کی بجائے’۔ ان کا لہنگا‘ کردیجیے’۔

مسٹر زیرو نے دوسری تصویر دکھاتے ہوئے کہا۔‘‘ اس کےمتعلق کیا خیال ہے، ’’غور سے تصویر کو دیکھنے کے بعد ہم نےجواب دیا۔‘‘یہ ریچھ تو لا جواب ہے۔’’

زیرو صاحب نے چیخ کر کہا۔‘‘ریچھ کہاں ہے یہ’’

‘‘ریچھ نہیں تو اور کیا ہے۔’’

‘‘یہ ہے زمانۂ مستقبل کا انسان۔’’

‘‘اچھا تو آپ کے خیال میں مستقبل کا انسان ریچھ ہو گا۔’’

‘‘صاحب یہ ریچھ ہرگز نہیں۔’’

‘‘چلیے آپ کو کسی ریچھ والے کے پاس لے چلتے ہیں۔ اگر وہ کہہ دے کہ یہ ریچھ ہے تو۔’’

‘‘تو میں تصویر بنانا چھوڑ دوں گا۔’’

‘‘تصویریں تو آپ ویسے ہی چھوڑ دیں تو اچھا رہے۔’’

‘‘وہ کس لیے۔’’

‘‘کیونکہ جب کوئی آرٹسٹ انسان اور ریچھ میں بھی تمیز نہیں کرسکتا۔ تو تصویریں بنانے کا فائدہ۔’’

مسٹر زیرو نے جھنجھلا کر کہا۔‘‘یہ آج آپ کو ہو کیا گیا ہے۔’’

ہم نے قہقہہ لگا کر عرض کیا۔‘‘آج ہم بنانے کے موڈ میں ہیں۔ اور خیر سے آپ ہمارے تیسرے شکار ہیں!۔’’

(معروف مزاح نگار کنہیا لال کپور کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں