The news is by your side.

"وہ باتیں جن پر عمل کرکے آپ زندگی میں کام یاب نہیں ہوسکتے!”

ہم لوگ خوش قسمت ہیں کیوں کہ ایک حیرت انگیز دور سے گزر رہے ہیں۔ آج تک انسان کو ترقّی کرنے کے اتنے مواقع کبھی میسر نہیں ہوئے، پرانے زمانے میں ہرایک کو ہر ہنر خود سیکھنا پڑتا تھا، لیکن آج کل ہر شخص دوسروں کی مدد پر خواہ مخواہ تلا ہوا ہے اور بلاوجہ دوسروں کو شاہراہِ کام یابی پر گام زن دیکھنا چاہتا ہے۔

اس موضوع پر بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ اگرآپ کی مالی حالت مخدوش ہے تو فوراً ’لاکھوں کماؤ‘ خرید لیجیے۔ اگر مقدمہ بازی میں مشغول ہیں تو ’راہ نمائے قانون‘ لے آئیے۔اگر بیمارہیں تو ’گھر کا طبیب‘ پڑھنے سے شفا یقینی ہے۔ اس طرح ’’کام یاب زندگی‘‘، ’’کام یاب مرغی خانہ‘‘، ’’ریڈیو کی کتاب‘‘، ’’کلیدِ کام یابی‘‘، ’’کلیدِ مویشیاں‘‘ اور دوسری لاتعداد کتابیں بنی نوع انسان کی جو خدمت کر رہی ہیں، اس سے ہم واقف ہیں۔

مصنّف ان کتابوں سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے ازراہِ تشکر کلیدِ کام یابی، حصّہ دوم، لکھنے کا ارادہ کیا، تاکہ وہ چند نکتے جو اس افادی ادب میں پہلے شامل نہ ہو سکے، اب شریک کر لیے جائیں۔

حافظہ تیز کرنا
اگر آپ کو باتیں بھول جاتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا حافظہ کم زور ہے۔ فقط آپ کو باتیں یاد نہیں رہتیں۔ علاج بہت آسان ہے۔

آئندہ ساری باتیں یاد رکھنے کی کوشش ہی مت کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ باتیں آپ کو ضرور یاد رہ جائیں گے۔

بہت سے لوگ بار بار کہا کرتے ہیں۔ ہائے یہ میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا؟ اس سے بچنے کی ترکیب یہ ہے کہ ہمیشہ پہلے سے سوچ کر رکھیے اور یا پھر ایسے لوگوں سے دور رہیے، جو ایسے فقرے کہا کرتے ہیں۔

دانش مندوں نے مشاہدہ تیز کرنے کے طریقے بتائے ہیں کہ پہلے پھرتی سے کچھ دیکھیے، پھر فہرست بنائیے کہ ابھی آپ نے کیا کیا دیکھا تھا۔ اس طرح حافظے کی ٹریننگ ہوجائے گی اور آپ حافظ بنتے جائیں گے۔ لہٰذا اگر اور کوئی کام نہ ہو تو آپ جیب میں کاغذ اورپنسل رکھیے۔ چیزوں کی فہرست بنائیے اور فہرست کو چیزوں سے ملایا کیجیے۔ بڑی فرحت حاصل ہوگی۔

مشہور فلسفی شوپنہار سیر پر جاتے وقت اپنی چھڑی سے درختوں کو چھوا کرتا تھا۔ ایک روز اسے یاد آیا کہ پل کے پاس جو لمبا درخت ہے، اسے نہیں چھوا۔ وہ مردِعاقل ایک میل واپس گیا اور جب تک درخت نہ چھو لیا، اسے سکونِ قلب حاصل نہ ہوا۔ شوپنہار کے نقشِ قدم پر چلیے۔ اس سے آپ کا مشاہدہ اس قدر تیز ہوگا کہ آپ اور سب حیران رہ جائیں گے۔

خوف سے مقابلہ
دل ہی دل میں خوف سے جنگ کرنا بے سود ہے۔ کیوں کہ ڈرنے کی ٹریننگ ہمیں بچپن سے ملتی ہے اور شروع ہی سے ہمیں بھوت، چڑیل، باؤ اور دیگر چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے۔ اگر آپ کو تاریکی سے ڈر لگتا ہے تو تاریکی میں جائیے ہی مت۔

اگر اندھیرا ہوجائے تو جلدی سے ڈر کر روشنی کی طرف چلے آئیے۔ آہستہ آہستہ آپ کو عادت پڑ جائے گی اور خوف کھانا پرانی عادت ہوجائے گی۔

تنہائی سے خوف آتا ہو تو لوگوں سے ملتے رہا کیجیے۔ لیکن ایک وقت میں صرف ایک چیز سے ڈریے، ورنہ یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ اس وقت آپ دراصل کس چیز سے خوف زدہ ہیں۔

وقت کی پابندی
تجربہ یہی بتاتا ہے کہ اگرآپ وقت پر پہنچ جائیں تو ہمیشہ دوسروں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے اکثر دیر سے آتے ہیں۔ چنانچہ خود بھی ذرا دیر سے جائیے۔ اگر آپ وقت پر پہنچے۔ تو دوسرے یہی سمجھیں گے کہ آپ کی گھڑی آگے ہے۔

وہم کاعلاج
اگر آپ کو یونہی وہم سا ہوگیا ہے کہ آپ تندرست ہیں تو کسی طبیب سے ملیے۔ یہ وہم فوراً دور ہوجائے گا۔ لیکن اگر آپ کسی وہمی بیماری میں مبتلا ہیں تو ہر روز اپنے آپ سے کہیے۔ میری صحّت اچھی ہو رہی ہے… میں تندرست ہو رہا ہوں….

احساسِ کمتری ہو تو بار بار مندرجہ ذیل فقرے کہے جائیں۔ میں قابل ہوں…. مجھ میں کوئی خامی نہیں… جو کچھ میں نے اپنے متعلق سنا، سب جھوٹ ہے…. میں بہت بڑا آدمی ہوں۔ (یہ فقرے زور زور سے کہے جائیں تاکہ پڑوسی بھی سن لیں)

بے خوابی سے نجات
اگر نیند نہ آتی ہو تو سونے کی کوشش مت کیجیے۔ بلکہ بڑے انہماک سے فلاسفی کی کسی موٹی سی کتاب کا مطالعہ شروع کر دیجیے۔ فوراً نیند آجائے گی۔ مجرّب نسخہ ہے۔ ریاضی کی کتاب کا مطالعہ بھی مفید ہے۔

ہمیشہ جوان رہنے کا راز
اوّل تو یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ جوان رہنا کوئی بہت بڑی خوبی ہے۔ اس عمر کے نقصانات فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ ملاحظہ ہو وہ شعر،

خیر سے موسمِ شباب کٹا
چلو اچھا ہوا عذاب کٹا

تاہم اگر آپ نے ہمیشہ جوان رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تو بس خواہ مخواہ یقین کر لیجیے کہ آپ سدا جوان رہیں گے۔ آپ کے ہم عمر بیشک بوڑھے ہوجائیں، لیکن آپ پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ جوانوں کی سی حرکتیں کیجیے۔ اصلی نوجوانوں میں اٹھیے بیٹھیے۔ اپنے ہم عمر بوڑھوں پر پھبتیاں کسیے۔ خضاب کا استعمال جاری رکھیے اور حکیموں کے اشتہاروں کا بغور مطالعہ کیجیے۔

دلیر بننے کا طریقہ
دوسرے تیسرے روز چڑیا گھر جا کر شیر اور دیگر جانوروں سےآنکھیں ملائیے (لیکن پنجرے کے زیادہ قریب مت جائیے) بندوق خرید کر انگیٹھی پر رکھ لیجیے اور لوگوں کو سنائیے کہ کس طرح آپ نے پچھلے مہینے ایک چیتا یا ریچھ (یا دونوں) مارے تھے۔ بار بار سنا کر آپ خود یقین کرنے لگیں گے کہ واقعی آپ نے کچھ مارا تھا۔

(اردو ادب میں شفیق الرّحمان طنز و مزاح نگار کے طور پر پہچان رکھتے ہیں، یہ سرخیاں ان کی شگفتہ تحریر "کلیدِ کام یابی” سے لی گئی ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں