The news is by your side.

ایک درخت کا قتل

دنیا بھر میں‌ انسانی آبادی میں‌ اضافہ اور شہر، قصبات بسانے کی غرض سے سبزہ پامال اور پیڑ پودے جڑ سے اکھاڑ دینا عام بات ہے۔

یہ افسانہ بھی اسی موضوع پر ہے اور ایک درخت کے کٹنے کی روداد ہے، لیکن درخت اور اسے کاٹنے کی انسانی کوشش کو مصنّف نے پرانی روایات اور قدروں کے مٹنے سے جوڑ کر بتایا ہے کہ نئی نسل بھی اب بے پروا اور بے نیاز ہوچکی ہے اور وہ اپنی روایات کے مٹ جانے کا کچھ احساس نہیں‌ رکھتی۔ یہ اختر اورینوی کا پُراثر افسانہ ہے جو انھوں‌ نے ایک درخت کا قتل کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ وہ ایک تنقید نگار، محقق، فکشن رائٹر اور شاعر تھے۔ آئیے افسانہ پڑھتے ہیں۔

ایک کوارٹر کے پہلو میں ایک بہت ہی اونچا، مضبوط، گھنیرا اور خوب صورت درخت تھا۔ شہر کے مشہور باغ کو بڑی بدسلیقگی سے کاٹ کاٹ کر بے ربط، بد وضع کوارٹر کھڑے کر دیے گئے تھے۔ بے ہنگم، نہ ناک درست نہ نقشہ۔

صرف ایک کوارٹر اسی چھتنار اور بلند و بالا درخت کی وجہ سے بہت بھلا لگتا تھا۔ ہرا بھرا، سایہ دار، ماحول کے بے کیف سپاٹ پن اور بد آہنگی کو دور کرنے والا۔ گہری جڑیں، سڈول، بھاری بھرکم، اونچا تنا، پھلی ہوئی صحت مند شاخیں، سر سبز کو نپلیں، سندر، ہرے بولتے ہوئے پتے۔

اس پیڑ کی سر بلندی کو دیکھ کر جی خوش ہو جاتا تھا اور آسمان کی طرف نظر یں اٹھ جاتی تھیں۔ دل میں بڑا اعتماد اور حوصلہ پیدا ہوتا تھا۔ جس مٹی سے ایسا وشال درخت اگے وہ مقدس محسوس ہوتی تھی۔ اس پرانے باغ کے نہ جانے کتنے خوب صورت اور پھل دار درخت کاٹ کر پھینک دیے گئے ہوں گے۔ آم، لیچی، جامن، امرود اور شریفے کے پیڑ۔ افتادہ زمینوں اور بنجر قطعوں کی کمی نہ تھی لیکن نہ جانے کس جبلت کی تسکین کے لئے یہی حسین باغ قتل گاہ بنایا گیا۔

اس برباد باغ کی ایک تاریخ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شاہی وقت کا باغ تھا۔ ایک فراخ دل نواب نے اپنے جگری دوست ایک مہاراجہ کو تحفتاً یہ باغ پیش کیا تھا۔ انھیں دنوں ایک کامل فقیر باغ کے ایک گوشے میں دھونی رما بیٹھا۔ مہاراجہ نے کوئی مزاحمت نہ کی بلکہ اسے نیک شگون سمجھا اور پہلو میں ایک قطعہ اراضی بھی شاہ صاحب کو دے دیا۔ آج بھی اس احاطے میں قبر میں موجود ہیں۔ خدا رسیدہ فقیر کا سالانہ عرس ہندو مسلمان سب دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ جس عظیم الشان درخت کا ذکر ہے، شاہ صاحب کی قبر پر سایہ کئے ہوئے تھا، جیسے چتر لگانے کی سعادت حاصل کر رہا ہو۔ لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ یہ درخت بھی متبرک ہے اور اس خطے کی خاک پاک ہے۔ جب انگریزوں کا راج ہوا تو لیفٹیننٹ گورنر بہار نے سخت دباؤ ڈال کر یہ باغ مہاراجہ سے اونے پونے خرید لیا۔ یہیں سرکار بہادرکی کوٹھی بنی مگر باغ کا بڑا حصہ قائم رہا اور وقت پر پھل دیتا رہا۔ قبریں رفتہ رفتہ مہندم ہو گئیں اور ان کے نشانات بھی مٹتے گئے لیکن پیر صاحب کی قبر جیسی تھی ویسی ہی رہی۔

1857ء کے ناکام ہندوستانی انقلاب کے بعد اسی باغ میں کئی مجاہدوں کو سولی پر لٹکا کر شہید کر دیا گیا۔ انگریزی راج محل خون اور گوشت کے گارے سے تعمیر ہوا۔ اس وشال پیڑ نے یہ خونی ڈرامہ دیکھا تھا۔ خلقت کہتی ہے کہ اس عجیب درخت کی خونِ شہداء سے آبیاری ہوتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر درخت کے پتے یا شاخیں کوئی توڑتا تو ان سے سرخ خون ٹپکنے لگتا تھا۔ اسی وجہ سے جب نئے کوارٹر باغ کے درختوں کو کاٹ کاٹ کر بنائے جانے لگے تو کسی بڑھئی کی یہ جرأت نہ ہو سکی کہ اس متبرک زندہ جاوید درخت پر آرا چلائے۔

یہ درخت عجوبۂ روزگار تھا۔ اس کا نام کوئی صحیح طورپر نہیں جانتا تھا۔ کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ۔ نہ پھول نہ پھل مگر ہریالی، شادابی، نین سکھ اور سکونِ دل و جان۔ یہ بھی مشہور تھا کہ انقلاب 1857ء کے پہلے پھول لگتے تھے، پھل لگتے تھے۔ اس بات کی شہرت بھی تھی کہ فرنگیوں کی حکومت کے بعد تین چار بڑے خوشبو دار پھول کھلے اور لال لال پھل آئے اور فرنگیوں کو بڑا تعجب ہوا۔ ادھر سالوں سے کسی نے پھول دیکھے نہ پھل کھائے۔ شہر بھر میں ایسا کوئی پیڑ نہ تھا۔ ریاست اور ملک بھر میں لافانی اور فرد ہو تو عجب نہیں۔ مجھے اس درخت کے وقار سے بڑی تسکین ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ آندھیوں اور طوفان کو آڑ لے گا۔ وہ ہماری سپر تھا، سہارا تھا، مربی تھا، ہم سایہ تھا، ساتھی تھا، دوست اور غم گسار تھا۔

وہ قطب نما تھا۔ ایک عظیم و رفیع علامت تھا۔ پورے احاطے کی انفرادیت اس سے قائم تھی۔ میں پہروں اسے دیکھتا رہتا تھا۔ ہر موسم میں اس کی الگ بہار تھی۔ صبح، دوپہر، شام جب بھی دیکھئے وہ دل کش تھا۔ چاندنی راتوں میں اس کا حسن دیدنی تھا۔ اندھیری راتوں میں وہ ایک بلند و بالا، قوی اور جاگتا ہوا سنتری دکھائی دیتا تھا اور اس کی حفاظت میں ہم سب لوگ سکھ کی نیند سوتے تھے۔ اس کی خاموش ہم کلامی میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ کبھی تو میں یہ محسوس کرتا کہ اس درخت کا بیچ میرے دل میں ہے۔ کبھی نہ کبھی وہ آنکرائے گا اور ایک عظیم و سرفراز شجر بن جائے گا۔

اس شاداب درخت کو کاٹ کر گرانے کی برسوں سے کوششیں ہو رہی تھیں لیکن اس کی تقدیس جاننے والے بڑھئی اور مزدور اسے کاٹنے سے ڈرتے تھے۔ درخت کی رگوں میں لال لال لہو تیرتا تھا اور اس کا سایہ پیر صاحب کی خدمت گزاری کرتا تھا۔ وہ قبر کے کنارے جیتے جاگتے پاسبان کی طرح چوکس کھڑا رہتا تھا۔ کبھی کوئی ٹھیکہ دار دور کے شہر سے مزدور لا کر اس پاک پیڑ کو کاٹ کے اس کی لکڑیاں بیچ کر نفع کمانا چاہتا تھا لیکن یہ دیکھا گیا کہ درخت کے کسی تنے یا شاخ پر تبر چلاتے ہی سرخ عرق ٹپکنے لگتا اور کارندوں پر دہشت طاری ہو جاتی اور کام رک جاتا۔

ایک بار کوئی کلہاڑا چلانے والا درخت کی کسی اونچی شاخ سے گر کر مر گیا۔ کبھی کوئی مزدور خطرناک طور پر بیمار پڑ جاتا۔ غرض یہ کہ حیات اور رحمت کا علم بردار درخت فضا کی رفعتوں پر لہلہاتا رہا اور اس کا ماحول اس کا گہوارہ بنا رہا۔ اسے دیکھ کر شکتی اور شانتی کا احساس ہوتا تھا۔

پچھلی گرمیوں میں نہ جانے کہاں سے ایک سخت دل اور بے باک ٹھیکہ دار کو انجان اور ڈھیٹ کارندے مل گئے اور ایک نئی ترکیب سے اس شان د ار پیڑ کا قتل شروع ہوا۔ بڑے بڑے، لانبے اور موٹے رسوں سے اس درخت پر پھانسیاں بنائی گئیں۔ بالائی پتلی پتلی شاخوں کو کاٹ کاٹ کر پھانسی پر چڑھایا جانے لگا۔ پھر بڑے تنوں کی باری آئی اور انھیں آرے سے کاٹ کاٹ کر پھانسی پر لٹکایا گیا۔ کئی مزدور کٹے ہوئے تنوں کو آہستہ آہستہ جھلاتے ہوئے زمین پر لے آتے۔ یہ اہتمام اس لئے تھا کہ کوارٹروں کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ پیڑ جڑ کے پاس سے گرایا نہیں جا سکتا تھا۔ اس کا وقار و جلال لرزہ پیدا کرتا تھا۔ اس میں زمین کا جاں بخش رس تھا، بلند آسمان کی کرنوں کی روشنی اور دھڑکتی ہوئی زندگی کی شادابی تھی۔

پندرہ دنوں تک اس درخت کو پھانسی دی جاتی رہی۔ عضو بہ عضو لال لال عرق بہتا رہا۔ پھر وہ تھوڑی دیر کے بعد خون کے چکتوں کی طرح جم جاتا۔ اس کے عرق کا رنگ ببول کے گوند کی طرح پیلا نہ تھا۔ کوارٹروں کی نالیوں میں لال لال لوتھرے کیچڑ کے ساتھ مل کر بہہ رہے تھے۔ اچانک کئی مزدور بیمار پڑ گئے اور کئی موٹے موٹے رسے پارہ پارہ ہو گئے۔ پندرہ دنوں کے لئے کام رک گیا۔ لانبے لانبے بالوں اور چڑھی ہوئی آنکھوں والے ٹھیکہ دار کو بڑی تشویش ہوئی۔ محلے کے لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں اور پیر صاحب کی کرامات کے چر چے ہونے لگے، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو چاہتے تھے کہ یہ اونچا جھماٹ درخت کٹے تو وہ اپنے کوارٹروں کے چھوٹے احاطوں میں مولی، گوبھی، آلو اور چقندر اگا کر کچھ پیسے حاصل کر لیں۔ اس عظیم درخت کی قلمرو میں مولی اور چقندر کہاں اگ سکتے تھے۔ ہاں امن، سکون، طمانیت، راحت اور حسن کی نشوو نما ہوتی رہتی تھی اور چین کی برکھا برستی تھی۔

کام پھر شروع ہو گیا۔ درخت کے بڑے بڑے موٹے تنے کٹنے لگے۔ کئی تنوں سے جہازی رسے کئی سمتوں میں باندھے جاتے تھے اور ان کے سرے درجنوں مزدور زمین پر کھڑے تن کر پکڑے رہتے تھے۔ درخت کے تنوں پر کلہاڑے اور آرے سے تیز دست مزدور اس کے جوڑ بند کاٹتے جاتے تھے اور مضبوط رسوں سے باندھ کر انھیں آہستہ آہستہ جھلا جھلا زمین پر کوارٹروں سے بچا بچا کر گرایا جاتا تھا۔ دور سے ایسا لگتا تھا جیسے گٹھیلے بدن کے پہلوانوں کو پھانسی دی جا رہی ہے اور ان کی جسیم لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ روزانہ دو ہی تین تنے کاٹے جا سکتے تھے اور انھیں نیچے لانا بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ رسے کئی پہلوؤں سے باندھے جاتے اور کئی سمتوں سے کھینچے جاتے تھے اور مرکزی رسے کو دھیرے دھیرے ڈھیل دے کر اس حساب سے دیوقامت تنوں کے ٹکڑوں کو کوارٹروں کی چھتوں اور دیواروں سے بچا بچا کر زمین پر گرایا جاتا تھا کہ ان پر ضرب نہ پڑے۔ پھر بھی زور کا دھماکا ہوتا تھا اور درد دیوار لرز جاتے تھے۔

چند دنوں میں جیتے جاگتے، شاداب و مسرت بار درخت کا عضو عضو کاٹ ڈالا گیا، جیسے پہلے لوگوں کو صلیب پر چڑھانے کے بعد ان کی ہڈیاں توڑ دیتے تھے۔ میرا ذہن مہینے بھر تک سولی پر چڑھتا رہا اور میرے دل کو صلیب دی جاتی رہی۔

اب ایک محیط، رعب دار جڑیلا تنا اور اس سے نکلے ہوئے دو ثانوی تنوں کے ٹکڑے بے برگ و بار، بے دم ہو کر ہ گئے۔ اوپر کے دونوں تنوں سے بندھے رسے جھول رہے تھے۔ ایک صبح میں اپنے احاطہ میں ٹہل رہا تھا۔ میری نظر اس ٹھنٹھ درخت پر پڑی۔ زمین پر تنوں کی لاشیں بے سدھ بکھری پڑی تھیں۔ بہت سے تنے اور شاخیں ٹھیکہ دار بیل گاڑیوں میں لے جا چکا تھا۔ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ سامنے ایک دیو قامت غلیل ہے۔ اس کا عظیم دو شاخہ آسمان تک بلند ہو جانا چاہتا ہے اور مہیب دستہ دھرتی کے ہاتھوں میں ہے اور اب شکتی شالی دھرتی کٹے ہوئے تنے کے چھوٹے چھوٹے ٹونوں کو چموٹی پر جما کر شست باندھے گی اور قاتلوں پر بھرپور نشانہ لگائے گی۔

ایک روز دو شاخہ بھی کاٹ دیا گیا مگر گرتے گرتے دو شاخہ کے ایک بازو نے ایک کوارٹر کی دیوار سے ٹکرا کر اسے شق کر دیا اور دوسرے بازو نے دوسرے کوارٹر کی گیراج کی چھت کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ نہ جانے کیوں مہینوں قتل و غارت کا کام ٹھیکے دار نے روک دیا اور وسطی جڑیلا تنا دیوار سے اٹکی ہوئی لاش کی طرح کھڑا رہا۔ ہفتوں یہ درد ناک تنا مقتول امن و شادابی کی علامت بن کر میرے دل میں تیر نیم کش کی طرح پیو ست رہا اور دو شاخے کے دونوں بازو کسی عظیم ٹوٹی ہوئی بیساکھی کے بالائی حصوں کی مانند اس سر و تن بریدہ درخت کی لاش کے سامنے زمین پر پڑے رہے۔

بیساکھ اور جیٹھ کے مہینے ختم ہوگئے اور اساڑھ آ گیا۔ وقفے وقفے سے بادل کے ٹکڑے آئے اور کچھ چھڑکاؤ ہوتا رہا۔ ایک صبح روح پرور معجزہ رونما ہوا، اسے دیکھ کر ہم سب خوشی سے لہلہا اٹھے۔ چند ہی دنوں بعد ٹھیکہ دار پھر نمودار ہوا۔ درخت کے وسطی تنے پر مزدوروں کو آرا چلانے کے لئے آمادہ کیا۔ پہلے کلہاڑیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ ہم چوکنا ہو گئے اور بھاگتے ہوئے مقتول درخت کی طرف دوڑ پڑے۔ دیکھا کہ درخت کو جڑ سے کاٹا جا رہا ہے۔ ہم لوگوں نے ٹھیکہ دار اور عملوں سے پُر زور احتجاج کیا اور انھیں صاف صاف کہہ دیا کہ جڑ والا تنا ہرگز نہیں کٹے گا۔ جو زمین پر تنوں کے گرے ہوئے ٹکڑے ہیں، چاہو تو اٹھا کر لے جاؤ۔ جڑ میں اب ہرگز ہاتھ لگانے نہیں دیا جائے گا۔ تند و تیز مجادلے کے بعد ٹھیکہ دار اور اس کی ذریت دفع ہوئی اور دوسرے دن وہ لوگ تنوں کے افتادہ ٹکڑے لاد کر لے گئے۔

مجروح، جڑیلا تنا صبر، استقلال، اطمینان اور امید کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ اس کے بالائی پہلو میں سر سبز نئی کو نپلیں پھوٹ رہی تھیں اور کوارٹروں کی چھتوں سے اونچی چند نئی ہری بھری شاخیں ہوا میں لہرا رہی تھیں۔ وہ رحمت نشاں درخت مَر کر بھی جی اٹھا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں