تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور -
The news is by your side.

Advertisement

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

میں نے فون ایک طرف رکھ دیااور کافی دیر تک اپنے بیڈ پر پڑا آنے والے حالات کے بارے میں سوچتا رہا۔ پھر اٹھ کر تیار ہونے لگا۔ جیسے تیسے اب شاہ اور مسز شاہ سے ملنا تو تھا۔ تیار ہوتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ماما اور پاپا میری اس
بات پر اتنا پریشان کیوں نہیں ہوئے۔ انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کہیں دادا جی نے انہیں جا کر یہ نہ کہہ دیا ہو کہ میں یونہی مذاق کر رہا تھا۔ کوئی ایسی بات نہیں ۔۔۔ہو سکتا ہے انہوں اپنا مان آزما لیا ہو۔
میں تیار ہو کر ڈرائنگ روم کی طرف جانے کی تیاریوں میں تھا کہ میرے سیل فون پر زویا کی کال آگئی۔ اس نے چند لمحے اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد تحمل سے پوچھا۔
”تمہیں معلوم ہے کہ میرے ماما پاپا آج تمہارے گھر آرہے ہیں؟“
”ہاں، اور میں تیار ہو گیا ہوں ان کے استقبال کے لیے“۔
”وہ کیوں؟ جبکہ تم میرے ساتھ شادی ہی نہیں کرنا چاہتے۔ جس مقصد کے لیے وہ آرہے ہیں، اگر تمہیں وہی نہیں پسند تو پھر تم کیوں ملو گے؟“


اس ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


”تمہیں یہ کس نے بتایا؟“ میں نے ایک خیال کے تحت پوچھا۔
”تمہاری ماما نے ….! وہ بہت پریشان تھیں، وہ مجھ سے تصدیق کررہی تھیں کہ ہمارے درمیان کوئی ایسا مسئلہ تو نہیں ہو گیا، جس کی وجہ سے تم انکار کررہے ہو“۔
”تو پھر اب تم کیا چاہتی ہو“۔ میں نے اپنا لہجہ سخت کرتے ہوئے پوچھا۔
”وہی جو تم چاہو گے، مجھے نہیں معلوم کہ تم ایسا کیوں چاہ رہے ہو اور نہ ہی میں تم سے کوئی وجہ پوچھوں گی، ممکن ہے تمہارا فیصلہ بہتر ہو۔ میں بہر حال تمہاراانتظار کروں گی“۔ یہ کہہ کرمیری کوئی بات سنے بغیر اس نے فون آف
کر دیا۔ اسے بلاشبہ دکھ ہوا تھا اور اس کے دکھ پر میں تڑپ کر رہ گیا تھا۔ یہ ایسے لمحات تھے، جن میں خود پر جبر کرنا بہت ضروری تھا۔ میں جذباتی کیفیت میں تھا، اس لیے تھوڑی دیر اپنے کمرے میں رہا اور پھر ڈرائنگ روم میں چلا
گیا۔ جہاں شاہ اور مسز شاہ آچکے ہوئے تھے۔ خوشگوار ماحول میں گپ شپ ہو رہی تھی۔ میں ان کے ساتھ بہت تپاک سے ملا اور پھر دادا جی کے ساتھ ہی صوفے پر آبیٹھا۔ تبھی شاہ صاحب نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”اچھا، مجھے بلال کے بارے میں یہ بات جب پتہ چلی تو بہت اچھی لگا کہ اپنے دادا جی سے بہت پیار کرتا ہے اور دادا جی بھی ، اس سے ….“
”جی شاہ صاحب….!“ دادا نے تحمل سے کہا۔ ”تاجرکو اپنے اصل مول سے کہیں زیادہ اپنے منافع سے پیار ہوتا ہے۔ بس مجھے تو ایک ڈر رہتا ہے“۔
”و ہ کیا….“ شاہ صاحب نے دلچسپی سے پوچھا تو دادا جی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
”جب میں نہیں رہوں گا تو پھر اس کا کیا حال ہو گا، اتنا پیار اسے کرنا نہیں چاہئے“۔
میں نے ان کی بات سن کر تڑپ کے ان کی طرف دیکھا۔ وہ ایک فقرے میں بہت کچھ کہہ گئے تھے۔ اتنا کچھ کہ میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے میری سوچوں پر بندھ باندھ کر رکھ دیا۔ ممکن ہے، ہمارے
درمیان کوئی مزید بات چلتی ، ہمارے ملازم نے آ کر کھانا لگ جانے کی اطلاع دی۔ تب ہم سب میز پر آگئے۔ میں اس سارے دورانیے میں خاموش رہا۔ پاپا اور شاہ صاحب باتیں کرتے رہے۔ گاہے بگائے خواتین بھی بات
کرلتیں۔ میرا دل بجھ گیا تھا۔ نہ جانے کیوں اس وقت مجھے یہ خیال آرہا تھا کہ میں نے بے جا ضد کر کے اچھا نہیں کیا۔ مجھے ایسا نہیں کرناچاہئے تھا۔
ڈنر کے بعد دوبارہ جب ڈرائنگ روم میں چلے گئے تو شاہ صاحب نے خود ہی ہمارے بارے میں بات چھیڑدی۔ تبھی ماما نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں یاسیت بھری ہوئی تھی۔ میں نے انہیں کوئی رسپانس نہیں دیا اور
وہاں سے اٹھ کر جانے لگا تو مسز شاہ بولیں۔
”بلال بیٹا…. کدھر جارہے ہو۔ بیٹھو“۔
”وہ میں….“ میں نے کہنا چاہا تو شاہ صاحب بولے۔
”ارے بیٹھو یار….! تمہارے متعلق بات ہے اور تم ہی نہ ہو۔ میں مانتا ہوں کہ ہماری مشرقیت میں ایسا لحاظ ہوناچاہئے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر بچے ہمارا لحاظ کرتے ہیں تو ہمیں بھی ان پر اعتماد کرناچاہئے“۔
”بالکل ….! آپ نے درست کہا۔شاہ جی ، زندگی انہوں نے گزارنی ہے“۔ پاپا نے بہت محتاط انداز میں کہا۔
”دیکھیں جی! اب آپ سے کیا پردہ، فیصلہ تو یہ خود کر چکے ہیں۔ اب یہ ان کی سعادت مندی ہے کہ انہوں نے ہمارا احترام کیا۔ ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھایا، میرا خیال ہے کہ زویا نے کوئی غلط فیصلہ نہیں
کیا۔ میں راضی ہوں“۔
”شاہ جی ، آپ کے منہ میں گھی شکر، ہم آپ کی طرف سے ہی ہاں سننے کے منتظر تھے“۔ دادا نے انتہائی خوشدلی سے کہا اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے میرا ہاتھ مضبوطی سے یوں پکڑ لیا کہ میں ایک لفظ بھی اپنی زبان سے ادا نہ
کروں۔ میں خاموش رہا۔ تب پاپا نے کافی خوشی دلی سے کہا۔
”شاہ صاحب….! یہ آپ کی بہت مہربانی کہ آپ نے ان بچوں کا ہمارا اور اپنا مان رکھا۔ جیسا آپ کہیں گے ہم ویسے ہی آپ کی بات ماننے کو تیار ہیں۔ کیونکہ ہماری خوشیاں ان بچوں کے ساتھ ہی ہیں“۔
”آپ کو یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ میں خاندان سے باہر یہ رشتہ کر رہا ہوں۔ اب وقت بدل گیا ہے۔ اپنی خاندانی روایات کی خاطر میں اپنی بیٹی کی خوشیوں کا گلا نہیں گھونٹ سکتا، اس نے میرا مان رکھا ہے تو میں بھی اسے خوشیاں دینے
سے دریغ نہیں کروں گا۔ بس میں ہی چاہتا ہوں کہ کبھی بھی مجھے اپنے خاندان کی طرف سے یہ طعنہ سننے کو نہ ملے کہ میں نے کوئی غلط فیصلہ کیا ہے“۔ یہ کہتے ہوئے ان کے لہجے میں دکھ تر آیا تھا۔
”نہیں شاہ جی، مجھے اپنے پوتے پر فخر ہے۔ یہ بات بلا ل اچھی طرح سمجھتا ہے، میری اس سے بہت بات ہو چکی ہے اس موضوع پر، آپ بے فکررہیں۔ بس اب تو میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ بچے جلد از جلد اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں“۔
دادا نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو مسز شاہ بولیں۔
”ہاں جی! بیٹی والے ہمیشہ جلدی میں ہوتے ہیں“۔ آپ جب چاہیں۔ شگون لے کر ہمارے ہاں آجائیں۔ ہم آپ کے منتظر ہوں گے“۔
”ہم تو کل ہی آنے کو تیار ہیں“۔ ماما نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر جلدی سے اٹھتے ہوئے بولیں“۔ اس خوشی کے موقعہ پر منہ میٹھا تو ہوناچاہئے“۔ یہ کہہ کر وہ اندر کی طرف چلی گئیں۔
”بلال، تم نہیں بولے کچھ، تمہارا کیا خیال ہے؟“ مسز شاہ نے یونہی پوچھا تو دادا نے میرا ہاتھ مزید مضبوطی سے پکڑ لیا۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”جب بڑے بات کر رہے ہیں تو پھر مجھے بات کرنے کی کیا ضرورت اور آپ میں سے کسی نے بھی مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا، جس کا میں جواب دوں“۔
”چلواب کر لیتے ہیں سوال، منگنی کی تقریب گھر میں ہونی چاہئے یا کسی ہوٹل و غیرہ میں۔ تم دونوں اپنے دوستوں کو دعوت دو گے، یا ہم صرف فیملی والے ہوں گے اور پھر سب سے بڑی بات کہ منگنی ہونی بھی چاہئے یا۔۔۔“
انہوں نے خوشدلی سے کہا تو میں بولا۔
”آنٹی….! آپ بڑے ہیں، آپ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، لیکن پہلے مجھے اور دادا جی کو جھتوال جانا ہے، وہیں بھان سنگھ کی شادی ہے۔ وہاں دوہفتے تو لگ جائیں گے، شادی بھی ہو گی اور کچھ کاروباری باتیں بھی ہو
جائیں گی، بعد میں سیدھے سبھاؤ نکاح ہی ہو جائے گا۔ میری بہر حال یہ رائے ہے“۔ میں نے جان بوجھ کر یہ کہا تاکہ دادا جی کا ردعمل دیکھ سکوں تبھی مسز شاہ نے کہا۔
”ٹھیک ہے، اگر آپ لوگ جلدی جانا چاہتے ہیں تو ۔۔۔جو فیصلہ کرلیں، اگرکچھ دیربعد جانا ہے تو…. اب یہ آپ دونوں پر ہے کہ آپ کیا کرناچاہتے ہیں“۔
وہ انجانے میں وہ بات کہہ گئیں جو میں دادا جی سے کرناچاہ رہا تھا۔ تبھی پاپا نے کہا۔
”یہ تو ابھی پلان ہیں، ایک دو دن میں یہ سب طے کر کے آپ کو بتادوں گا۔ بہر حال اب یہ طے ہے کہ ہم نے ان بچوں کی شادی کرنی ہے اور بہت اچھے انداز میں کرنی ہے، دونوں ہی اکلوتے ہیں“۔
”بالکل….! آپ نے ٹھیک کہا“۔ شاہ صاحب نے کہا۔ اتنے میں ماما کافی ساری مٹھائی لے آگئیں۔ یوں باتوں کا رخ کسی دوسری طرف ہو گیا۔ میں خاموش بیٹھا رہا۔ یہاں تک کہ شاہ صاحب اور مسز شاہ خوشی خوشی رخصت ہو
گئے۔
میں اپنے کمرے میں آیا اور آتے ہی بیڈ پر لیٹ گیا۔ دادا جی نے عین وقت پر میرا ہاتھ ہی نہیں ،مجھے بھی دبا کر اپنی بات منوالی تھی۔ مجھے رہ رہ کر زویا کی بات یاد آرہی تھی۔ میں نے اسے ہرٹ کیا تھا۔ وہ خوشی جو اس موقعہ پر ہونی
چاہئے تھی، وہ نہیں ہو رہی تھی۔ ایک افسوس تھا جس نے میرے پورے وجود کو بہت بھاری بھاری کر دیا تھا۔ میں اوندھے منہ پڑا تھا کہ دادا کے بیڈ پر بیٹھنے کا احساس کر کے میں سیدھا ہو گیا۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے
ہوئے کہا۔
”اوئے پتندرا….! یوں کیسے پڑا ہے۔ چل تو جو چاہتا ہے۔ویسا ہی کرلے۔ میں تیری بات مان لیتا ہوں“۔
”لیکن دادا جی، و ہ خوشی تو نہ ہوئی نا، جو آرام سے بات مان لینے میں تھی۔ ہم دونوں ہی نے ایک دوسرے کو بلیک میل کیا ہے، کیا فائدہ ایسی خوشی کا“۔ میں نے افسوس بھرے انداز میں کہا تو وہ سنجیدگی سے بولے۔
”پتر….! جب تو میری عمر میں آئے گا نا تو تجھے پتہ چلے گا، عزت کیا شے ہوتی ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ تو نے جھتوال جانے کا کیوں کہا۔ بس ایک بات کی فکر ہے مجھے“۔
”وہ کیا؟“ میں نے پوچھا۔
”دیکھو….! ایسا تو نہیں ہے کہ ہم جائیں اور جاتے ہی کہہ دیں کہ آؤ امرت کور ہم تمہیں لینے کے لیے آئے ہیں اور وہ ہمارے ساتھ چل پڑے گی۔ ایسا نہیں ہے میرے بچے، اس کا ایک خاندان ہے، ان کی وہاں عزت ہے، ان
کی بھی کوئی رائے ہو گی، اور زویا سے بھی میری بات ہوئی تھی۔ اس کے مطابق ، ابھی تک تم لوگوں نے اس کے ساتھ بھی کوئی سنجیدہ بات نہیں کی۔ فرض کرلو، میں مان گیا ہوں، امرت کور مان گئی، لیکن اس کے خاندان والے
آڑے آگئے۔ یہ صورتِ حال ایسی نہیں ہے کہ جیسے تم دونوجوانوں کی ہے“۔
”میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر وہ سب راضی ہوں تو پھر آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہو گانا….“ میں نے تیزی سے پوچھا۔
”نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا“۔ انہوں نے حتمی انداز میں کہا تو میں نے جلدی سے پوچھا۔
”تو پھر میں پاپا اور ماما سے بات کر لوں…. انہیں….“
”ساری بات معلوم ہے، تمہاری بے جا ضد کی وجہ سے میں نے انہیں، ساری بات بتا دی تھی۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اور زویا کو بھی میں نے ابھی فون کر کے بتا دیا ہے کہ پریشان نہیں ہونا، بلال ایویں خواہ مخواہ کی بونگیاں
ماررہا ہے“۔ آخر لفظ کہتے ہوئے دادا ہنس دیئے۔ میں ان سے لپٹ گیا۔ وہ دیر تک مجھے پیار کرتے رہے۔ پھر ان سے الگ ہو کر بولا۔
”آئیں….! آپ کو آپ کے کمرے تک چھوڑ آؤں۔ پھر میں بھان اور پریت کے ساتھ گپ شپ لگا کر انہیں ساری صورت حال بتاتا ہوں“۔
”تو نے جو کرنا ہے کر، میں چلا جاؤں گا“۔ یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اپنے کمرے کی طرف چل دیئے۔ میں نے جلدی سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اسے آن کیا۔ میری توقع کے مطابق ، زویا، بھان اور پریت آن لائن تھے۔ میرے آن
لائن ہوتے ہی مجھ پر سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ زویا نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔ میں نے آہستہ آہستہ انہیں ساری صورت ِ حال سے آگاہ کر دیا۔
”اب جو کچھ کرنا ہے تم لوگوں نے کرنا ہے“۔ میں نے بھان اور پریت سے کہا۔
”مگر تم نے جو زویا کو ہرٹ کیا، یہ غلط کیا“۔ بھان نے فوراً کہا۔
”یہ پارٹ آن گیم تھا یار، زویا کو بھی معلوم ہے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا، مگر دیکھ لو، وہ اب بھی نخرے دکھا رہی ہے“۔ میں نے لکھا۔
”میں کوئی نخرے نہیں دکھا رہی“۔ زویا نے کہا۔
”اچھا چلو ٹھیک ہے، میں اسے منالوں گا، اب تم لوگ ماحول کو بہتر کرو تو میں دادا کو لے کر جھتوال آجاؤں“۔ میں نے کہا۔
”تم آجاؤ، میری دادی ہرمنیت سے بات ہوگی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ سریندر پال سنگھ انکل ، کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ انہیں احساس ہو گیا ہے کہ یہ سارا معاملہ کیا ہے۔ تمہارے آنے تک مزید بات کرلیں گے۔ فکرنہ
کرو“۔ بھان سنگھ نے کہا تو میں مطمئن ہو گیا۔ اس کے بعد ہم کافی دیر تک اِدھر اُدھر کی اور مستقبل کی باتیں کرتے رہے۔ رات گئے تک ہماری باتیں جاری رہیں۔
میں اور دادا جی دوستی بس میں بیٹھ گئے تو میرے جذبات میں خواہ مخواہ کی طغیانی آگئی۔ میں اس وقت پُرجوش تھا۔ دادا کے من کی حالت کیا ہو گی، میں اس کے بارے میں سوچ ہی سکتا تھا، اس بارے اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ دادا جی
سے بات ہونے اور امرتسر کی طرف روانگی میں محض دو ہفتے ہی گزرے تھے۔ میری اور دادا جی کی تیاری میں فرحانہ نے بہت دلچسپی لی۔ اسے ان دنوں میں معلوم ہوا تھا کہ میرے اور دادا جی کے درمیان کیا کھچڑی پکتی رہی تھی۔
جھتوال سے میرا فون اور کمپیوٹر کے ذریعے رابطہ تھا ۔ وہاں پر ماحول بالکل درست ہوگیا تھا۔ ہمیں بس تک چھوڑنے کے لیے جہاں سب آئے، وہاں زویا بھی ٹھیک وقت پر پہنچ گئی۔ اس نے تحائف کا ایک بیگ مجھے تھما دیا۔ بس
چل پڑی تو لاہور پیچھے رہ گیا۔ واہگہ پر ہمیں کافی وقت لگ گیا۔ اس وقت شام کے سائے پھیل رہے تھے۔ جب ہم امرتسر میں پہنچے۔ ہمارے استقبال کے لیے بھان سنگھ تو تھا ہی، اس کے ساتھ امریک سنگھ کو دیکھ کر میں خوش ہو
گیا، وہ بڑے غور سے دادا نور محمد کو دیکھ رہا تھا، ممکن ہے ماضی کا کوئی حوالہ یاد کر رہا ہو، وہ دونوں بڑے تپاک سے ملے پھر بھان سنگھ سے بولا۔
”چل بھئی کا کا….! سورج غروب ہونے سے پہلے گاؤں پہنچا دے“۔
بھان سنگھ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، دادا جی اس کے ساتھ پسنجر سیٹ پر بیٹھ گئے۔ جبکہ میں اور امریک سنگھ پچھلی نشست پر آگئے گاڑی چلتے ہی باتیں بھی شروع ہو گئیں۔ دادا گاؤں کے پرانے لوگوں کے بارے میں امریک
سنگھ سے پوچھتا رہا اور وہ بتاتا رہا۔ جس وقت ہم گاؤں جانے والی ذیلی سڑک پر مڑے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ میں دادا کی طرف دیکھ رہا تھا، ان کی حالت دیدنی تھی۔ بھیگی ہو ئی پلکیں، ستا ہوا چہرہ اور تنا ہوا وجود، حتکہ جب وہ بولے
تو ان کا لہجہ بھی بھیگا ہوا تھا۔


دوام – مکمل ناول پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


”یار بھان….! سب سے پہلے قبرستان کا طرف چلو….“
”ٹھیک ہے دادا جی“۔ یہ کہتے ہوئے اس نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ کچھ دیر بعد ہم وہاں پہنچ گئے جو کھیت اب قبرستان کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ دادا جی نے پانی کی بوتل اٹھائی اور مجھ سے وضو کرانے کے لیے کہا۔ میں نے
انہیں وضو کرایا تو انہوں نے نمازِ جنازہ کی نیت باندھ لی۔ پھر کافی دیر تک دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے رہے۔ جب انہوں نے چہرے پر ہاتھ پھیرے تو ان کے چہرے پر کافی حد تک بشاشت اتر آئی تھی۔اس دوران میں نے فاتحہ پڑھ
لی۔
”چل بھئی بھان….! اب تو جدھر چاہے لے چل“۔ دادا نے اس کا ندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ ہی دیر بعد ہم حویلی جا پہنچے۔
سارا گھر باہر والے پھاٹک پر جمع تھا۔ ان کے ساتھ امرت کور کا سارا پریوار تھا، نہیں تھی تو فقط امرت کور نہیں تھی۔ میں پریشان ہو گیا۔ پریت کور اپنے ہاتھ میں بڑا سارا تھال لیے کھڑی تھی۔ اس میں پھول تھے اور درمیان میں
تیل کی پیالی۔ پھاٹک پر ہی ہمیں اتار لیا گیا۔ اس وقت وہ کوئی گیت گارہی تھیں، جس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھیں۔ میں تو دادی پرونت کور کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو بھیگی آنکھوں سے ایک ٹک نور محمد کو دیکھے چلی جارہی تھی۔ دادا
بھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پریت کور نے دروازے کے دونوں اطراف تیل ڈالا پھر دادا نور محمد پر پھول نچھاور کیے۔ دادا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا سر چوم لیا۔ پھر جیسے ہی آگے بڑھے تو دادی پرونت کور نے
اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ دادا اس کے گلے لگ گئے اور وہ دونوں اس قدر دھاڑیں مار مار کر روئے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ جب ان کے رونے کے جوش میں ذرا کمی ہوئی تو پردیپ سنگھ سے ملے۔
پھر وہاں پر موجود ہر مرد اور عورت سے ان کی حیثیت کے مطابق ملے۔ کسی سے ہاتھ ملایا، کسی کے سر پر پیار دیا۔ کسی کے گلے ملے۔ تبھی دادی پرونت کور نے کہا۔
”آوے نور محمد….! تجھے میں سردار بلوندر سنگھ کے سپتر سے ملواؤں“۔
قریب ہی سریندرپال سنگھ، ست نام کور، گینت کور کھڑے تھے۔ دادا انہیں چند لمحے دیکھتا رہا، پھر سریندر کے گلے لگا، باری باری ملا اور بولا۔
”سردار بلوندر سنگھ کا مجھ سے بڑا پیار تھا“۔
”میں جانتا ہوں نور محمد، ایک ایک بات جانتا ہوں، خیر، کیسا رہا سفر “، ان باتوں کے بعد کچھ دیر میں وہ سب حویلی کے اندر چل دیئے تو میں نے بھان سنگھ کو ایک طرف لے جا کر کہا۔
”اوئے امرت کور….! وہ کدھر ہے؟“
”پریت سے پوچھتا ہوں، آؤ“۔ اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ ہم دونوں اندر کی طرف چل دیئے۔ پریت اور گینت دونوں کاریڈر کے آخری سرے پر کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ ہم ان کے پاس چلے گئے اور جاتے ہی
امرت کور کے بارے میں پوچھا۔ تب گینت کور بولی۔
”ویرے….! ہم نے یہاں ساتھ آنے کے لیے کہا تھا، مگر وہ ہمارے ساتھ آنے کی بجائے گرودوارے چلی گئیں۔ ہو سکتا ہے، کچھ دیر بعد آجائیں یا پھر صبح….“
”چل ہم اسے لے آتے ہیں“۔ بھان سنگھ کے کہا تو میں جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ ہم دونوں ہی پیدل گرودوارے تک گئے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ واپس چلی گئی۔ ہم ان کی حویلی کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچے تو وہ ہمیں
دالان ہی میں بیٹھی مل گئی۔ اس کے پاس گھرا یک ملازمہ بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے دور ہی سے دیکھ کر اٹھی گئی اور پھر اسی پیار بھری شدت سے ملی۔
”میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ نور محمد کو لے آیا ہوں جھتوال“۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہاں پتر….!اچھا کیا، میرے وعدوں سے پہلے ہی تو نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ آؤ بیٹھو“۔ امرت کور نے ایک رنگین پیڑھے کی طرف اشاہ کرتے ہوئے ۔ دوسرے پر بھان سنگھ بیٹھ گیا تو میں نے کہا۔
”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ اب آپ کی زندگی سلامت رکھے، ابھی آپ نے میری اور زویا کی شادی دیکھنی ہے اور ابھی بڑا کچھ….“
امرت کور نے میری بات کا جواب دینے کی بجائے ملازمہ سے دودھ لانے کو کہا۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولی۔
”بات وعدوں کی ہے نا پتر….! تو دودھ پی لے…. پھر میں کھانا لگواتی ہوں تیرے لیے“۔
”ادھر حویلی میں سب کے ساتھ کھاتے ہیں۔ بے بے اور چا چی نے بڑا اچھا انتظام کیا ہوا ہے“۔ بھان سنگھ نے جلدی سے کہا۔
”چلو ابھی دودھ تو پیو“۔ امرت کور نے کہا۔
اس وقت ہم دودھ پی رہے تھے۔ جب دونوں خاندانوں کے سارے افراد حویلی میں داخل ہوئے۔ ان میں دادی پرونت کور بھی تھی اور دادا نور محمد بھی۔ امرت کور انہیں دیکھتے ہی کھڑی ہو گئی۔ وہ ایک ٹک دادا نور محمد کو دیکھے
چلی جاری تھی۔ جیسے پہلی بار انہیں دیکھ رہی ہو، اس کا گلابی رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ تبھی دادی پرونت کور نے کہا۔
”میں جانتی تھی کہ امرت کور ایسے نہیں آئے گی، اسے جا کر لانا پڑے گا۔ دیکھ نور محمد تجھے لینے کے لیے آیا ہے۔ اب چل ہمارے ساتھ….“
”جانا تو پڑے گا پرونت کورے…. وعدے جو پورے ہو گئے ہیں“۔
اس وقت تک دادا نور محمد اس کے قریب جا کھڑا ہوا تھا، سب اس کی طرف دیکھا رہے تھے، اس نے اپنا ایک بازو بڑھایا اور پہلو سے لگ کر دادا جی سے ملی، تبھی دادا نے ہولے سے پوچھا۔
”کیسی ہوا امرت کور….؟“
”میں ٹھیک ہوں“۔ امرت کور یوں بولی، جیسے کسی گہرے کنویں سے بول رہی ہو۔
”میں تمہارا اور پرونت کا پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ تم دونوں نے حاجراں کی قبر بنا دی۔ میں پہلے ادھر ہی….“
لفظ دادا کے منہ ہی میں رہ گئے۔ امرت کور نے اوپرکی جانب دیکھا ، دونوں ہاتھ جوڑے اور زور زور سے واہِ گرو…. واہِ گرو…. کہنے لگی، یوں جیسے اس پر وجد طاری ہوگیا ہو۔پھر ایک دم سے خاموش ہوئی اور کسی کٹے ہوئے
درخت کی طرح گری، دادا ہی اس کے نزدیک کھڑے تھے۔ انہوں نے اسے اپنی بانہوں میں سنبھال لیا۔ ایک دم ہی سے وہاں افراتفری مچل گئی۔ دادا اور سریندر پال سنگھ اسے ہوش میں لانے لگے، مگر وہ وہاں تھی ہی نہیں۔
اس کی روح پرواز کر چکی تھی۔
گاؤں کے ایک کونے سے رستہ اس اجڑے ہوئے میدان میں جاتا تھا، جہاں امرت کور کا جسد خاکی لکڑیوں کے ایک ڈھیر کے اوپر لا کر رکھ دیا گیا تھا۔ گاؤں بھر کے لوگ وہاں موجود تھے۔ میں اور دادا نور محمد بھی سوگوار سے وہیں
کھڑے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد امرت کور کے جسد خاکی کو آگ دکھا دی جانے والی تھی۔ آخری رسومات ادا کر دی گئیں تھیں اور جب لاشے کو آگ دکھانے کا وقت آیا تو اس لمحے گرودوارے کا گیانی آگے بڑھا اور اس ے بھڑکتا
ہوا شعلہ اپنے ہاتھ میں لے لیا، پھر سب کو مخاطب کر کے کہنے لگا۔
”امرت کور جی،روزانہ گرودوارے آتی تھیں۔ وہ سچے بادشاہ گرومہاراج جی کی سچی سیوک تھی۔ کل وہ آئی تو اس نے مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ بلکہ اپنے ہاتھ سے ایک چھٹی بھی لکھ کر مجھے دی ۔وہ خواہش اس چھٹی میں بھی
درج ہے“۔ یہ کہہ کر اس نے وہ چھٹی سریندر پال سنگھ کی طرف بڑھا دی۔ اس نے پڑھی تو گیانی نے سر اٹھا کر اونچی آواز میں کہا۔ ”امرت کور جی کو خواہش تھی کہ اس کی چتا کو آگ نور محمد لگائے“۔
ایک دم سے وہاں پراسراسمیگی پھیل گئی۔ تبھی گیانی نے اونچی آواز میں کہا۔
”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سچے بادشاہ گرو مہاراج کے نزدیک نہ کوئی ہندو ہے اور نہ کوئی مسلمان، ان کے نزدیک ہر وہ بندہ سکھ ہے جو سچا ہے، وہ چاہے ہندو ہے، عیسائی ہے، یا مسلمان، اسی لئے شری گرو گرنتھ
صاب میں سب کی بانیاں ہیں۔ وہ چاہے فرید جی ہوں یا کبیر جی، بابا بھگت ہو یا دھا نے جٹ کی، جس وقت سچا سکھ اس دنیا سے چلا جاتاہے تو اس کے شریر کو کوئی بھی سچاپرکھ، اس کے گرو کو مان کر، اس شریر کو اگنی کی سیک دے
سکتا ہے۔ سچے سکھ کی آتما تو پہلے ہی سچے گرو کے پاس پہنچ جاتی ہے“۔
اس کے خاموش ہوتے ہی ہر طرف خاموش چھا گئی۔ سریندر سنگھ نے اس شعلے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر دادا نور محمد کی طرف بڑھا دیا۔ وہ چند لمحے کھڑے سوچتے رہے۔ پھر آگے بڑھ کر چتا کو آگ دکھا دی۔ تب میں نے دیکھا
دادا نور محمد کے آنسونکل پڑے تھے۔ وہ ضبط نہ کر سکے اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔ سریندر پال سنگھ نے انہیں گلے لگا لیا۔ ان لمحات میں میری ادا سی بڑھ گئی تھی۔ امرت کور نے مجھے اور دادا نور محمد کو بہت بڑے امتحان سے بچا
لیا تھا۔ میں جیسے غور کررہا تھا۔ مجھ پر بہت سارے راز افشاہونے لگے تھے۔
امرتسر تک جھتوال کے بہت سارے لوگ ہمارے ساتھ آئے۔ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے تو سریندرپال سنگھ نے دادا نور محمد سے کہا۔
”آپ نے بلال اور زویا کی شادی پر ہمیں ضرور بلانا ہے۔ امرت کور میرے لیے بھی ایک خط چھوڑ گئی تھی۔ اس میں امرت نے بلال اور زویا کے لیے ، بھان اور پریت کے لیے بہت کچھ دینے کو کہا ہے، وہ امانت ہے میرے
پاس“۔
”جی ضرور….!“ دادا جی نے وعدہ کیا اور ہم وہاں سے رخصت ہو گئے۔ بھان اور پریت کی شادی نہیں ہو سکی تھی۔ وجہ امرت کور کی وفات تھی۔
واہگہ سرحد پر ہم ضروری کارروائی کے بعد باہر نکلے تو سامنے ہی پاپا کے ساتھ زویا کو دیکھ کر میری حیرت دوچند ہو گئی۔ ذرا فاصلے پر شاہ صاحب، مسز شاہ، ماما اور فرحانہ بھی موجود تھے۔ ملنے ملانے کے دوران پاپا نے پوچھا۔
”کیسا رہا ٹور….؟“
”بس دادا جی کی لواسٹوری ختم کر کے آیا ہوں“۔
”اور، اس پتندر کی لواسٹوری اب شروع ہو گئی ہے“۔ دادا جی نے بے ساختہ کہا تو سب زور سے ہنس دیئے۔
”چلو چلیں، باقی باتیں گھر چل کر کریں گے“۔ پاپا نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کہا تو سبھی گاڑیوں میں بیٹھ گئے۔ میں نے دیکھا زویا ایک الگ گاڑی میں بیٹھ رہی ہے۔ میں نے دادا جی کو ساتھ لیا اور اس میں جا بیٹھا۔ باقی
دوسری گاڑیوں میں چل پڑے۔ تبھی میں نے پوچھا۔
”یہ سب کیسے….؟“
”تمہاری امرت کور کی وجہ سے“۔ زویا نے معنی خیز انداز میں تو میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا۔
”امرت کور میری نہیں، دادا جی کی تھی، میری تو تم ہو“۔
”شاباش پتر….! ہر جگہ دادے ہی کو بدنام کرنا“۔
اس پر گاڑی میں ایک زور دار قہقہہ پھیل گیا۔ زویا نے محبت پاش نگاہوں سے دیکھا تو مجھے ہر طرف محبت بکھری ہوئی دکھائی دینے لگی۔

ختم شد
*********

مکمل ناول پڑھنے کے لنک پر کلک کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں