The news is by your side.

Advertisement

بولی وڈ کی فلمیں اور زبان کا تنازع

بھارت میں اگرچہ آج بھی فلموں اور ڈراموں کی وجہ سے اردو سمجھی جاتی ہے، لیکن اس زبان پر تنازع کے ساتھ اس کی بیخ کنی کا عمل جاری ہے۔

انگریز دور میں اردو میں‌ تعلیم اور اسے مشترکہ زبان کے طور پر فروغ دیا جاتا رہا تھا، لیکن پھر ہندووانہ تعصّب کی بنا پر سنسکرت کے بھاری بھرکم الفاظ اور دیونا گری رسم الخط کو سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا۔ یہی نہیں اردو کو بتدریج مسلمانوں کی زبان قرار دینے کی سازش رچائی گئی اور زبان کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

معروف محقّق اور ماہرِ لسانیات ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے لکھا تھا کہ تقسیمِ ہند کا بدلہ کسی سے لیا جاتا ہو یا نہ لیا جاتا ہو مگر اردو سے ضرور لیا جاتا ہے۔ یہاں‌ ہم سہیل اختر وارثی کے ایک مضمون سے چند پارے نقل کررہے ہیں جس میں انھوں‌ نے ہندوستان میں‌ اردو کے چند متوالوں کا ذکر کیا ہے جو آپ کی دل چسپی کا باعث بنے گا۔

"ناصر حسین، فلم انڈسٹری کا ایک بہت ہی کام یاب اور مشہور نام ہے۔ ناصر حسین نے اپنے ذاتی پروڈکشن میں جو فلمیں بنائی ہیں، ان میں سے بیشتر کے سرٹیفیکٹ اردو زبان میں لیے ہیں۔ ہندی سرٹیفیکیٹ کی وجہ سے بہت ممکن ہے کہ فلم پروڈیوسرز کو بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہوں گے لیکن ناصر حسین صاحب اور دو ایک پروڈیوسرز ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے شاید ان فائدوں کا اتنا لحاظ نہیں کیا۔

ہندوستانی فلموں کی تاریخ میں یہ اقدام کسی کارنامے سے کم نہیں۔ جس زبان میں کہانی، مکالمے اور نغمے لکھے جا رہے ہوں، اسے اس کا حق دینا بڑی اعلٰی ظرفی کا ثبوت ہے۔

اے آر کاردار کے ساتھ ناصر حسین نے مکالمہ نگاری کی ابتدا کی تھی۔ فلمستان اسٹوڈیوز کے لیے انہوں نے ، انارکلی (1958) منیم جی (1955) اور پے انگ گیسٹ (1957) جیسی فلمیں لکھیں۔ ان فلموں کے پروڈیوسر وہ خود نہیں تھے اس لیے ان کے سرٹیفیکیٹ ہندی زبان میں حاصل کیے گئے ہیں۔ اپنے ذاتی پروڈکشن میں انہوں نے، جب پیار ہوتا ہے (1961)، پھر وہی دل لایا ہوں (1963)، تیسری منزل (1966)، بہاروں کے سپنے (1967)، پیار کا موسم (1969)، کاروان (1971) اور ہم کسی سے کم نہیں (1977) جیسی فلمیں پروڈیوس کیں اور جن میں سے بیشتر کے سرٹیفیکیٹ اردو میں تھے۔

ان فلموں میں کوئی بھی مسلم سوشل فلم نہیں تھی۔ لیکن ان فلموں میں اردو کلچر اپنی پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے۔ ‘قیامت سے قیامت تک’ کی مثال ہی لیجیے۔ اگر فلم کا ٹائٹل کسی مسلم سوشل فلم جیسا رکھ دیا جائے، اس کے کرداروں کے نام تبدیل کر دیے جائیں اور فلم کے مکالموں اور نغموں کو کہیں کہیں ذرا سی تبدیلی کے ساتھ ویسے کا ویسا ہی رہنے دیا جائے تو آپ کو کسی بھی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا۔ سن 1963 کی ایک فلم ہے "بلف ماسٹر”۔ من موہن دیسائی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا سرٹیفیکیٹ بھی اردو میں تھا۔ دراصل یہ اردو زبان کا ڈھالا ہوا وہ کلچر ہے جس سے کسی حال میں مفر نہیں۔

ناصر حسین صاحب کی فلموں کے اردو سرٹیفیکٹ کے بعد ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغلِ اعظم جیسی فلم کا سرٹیفیکیٹ ہندی میں کیوں ہے؟

کے۔ آصف کی "مغلِ اعظم” دیکھنے کے بعد، اردو والوں کو تو خیر جانے دیجیے، ایسا کون سا غیر اردو داں شخص ہے جو اس ہندوستانی کلاسک فلم کی زبان کو ہندی کہنے کی جسارت کر سکتا ہے؟ لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ اسی فلم کے پروڈیوسر کے۔ آصف، نے مغل اعظم کا سرٹیفیکٹ ہندی میں لیا۔ اسے اس زمانے کا چلن، ٹیکنیکل مجبوری، کچھ بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن موسیقار اعظم نوشاد صاحب کے بیٹے، رحمان نوشاد نے کے آصف، کا ایک بیان میرے علم میں لا کر یہ معمہ بھی حل کر دیا۔ انھوں نے بتایا کہ:

کے آصف نے مغلِ اعظم کا سرٹیفیکیٹ ہندی میں یہ کہہ کر لیا کہ: "میرا یقین ہے کہ جو زبان مغلِ اعظم میں استعمال کی گئی ہے وہ ہندی زبان ہے۔ ”

مغلِ اعظم کی زبان اگر ہندی ہے تو اردو کسے کہتے ہیں؟ کے آصف کے اس بیان کا تجزیہ کیا جائے تو دو باتیں نکلتی ہیں:

ایک: مغلِ اعظم کی زبان وہ ہندی نہیں جسے عرفِ عام میں ہندی زبان کہا جاتا ہے۔ بلکہ یہ ‘ہندوی زبان’ ہے، اردو کا ایک پرانا نام۔

دوسری بات یہ کہ کیا کے آصف، ہندوستانی فلموں میں ہندی جیسی کسی زبان کا انکار کر رہے ہیں؟

پہلی بات ہی درست معلوم دیتی ہے کہ کے آصف کے نزدیک مغلِ اعظم کی زبان، ہندی یعنی ہندوی زبان ہے۔

کمال امروہی کی "پاکیزہ” کا سرٹیفیکیٹ اردو تھا۔ ہرنام سنگھ رویل عرف ایچ۔ ایس۔ رویل صاحب نے کئی فلمیں بنائیں جن میں ان کی مسلم سوشل فلم "میرے محبوب” بھی ہے۔
ایچ۔ ایس۔ رویل کے نام کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ انہوں نے اپنی کئی فلموں کے سرٹیفیکٹ اردو میں لیے ہیں۔ سن 1955 کی ان کی فلم "تیر انداز” کا سرٹیفیکیٹ اردو میں تھا۔ اس کے بعد "میرے محبوب” کا سرٹیفیکیٹ بھی اردو ہی میں تھا۔

فلم "میرے محبوب” لکھنؤ کی تہذیب اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جو اردو کے تہذیبی رکھ رکھاؤ کا مرکز سمجھی جاتی ہے، اس فلم کا بھی محور و مرکز بن جاتی ہے۔ فلم کے ہیرو، راجندر کمار، جنہوں نے کئی مسلم سوشل فلموں میں کام کیا اور "جوبلی کمار” کے نام سے مشہور ہوئے، کو شیروانی اور ٹوپی میں دیکھنے کی ایسی عادت ہو گئی کہ بعض اوقات گمان گزرتا ہے کہ ان کا تعلق مسلم طبقۂ اشرافیہ سے ہے۔ کمال کا لہجہ اور تلفظ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں