The news is by your side.

Advertisement

وہ محاورے جنھیں ہم “پھوٹی کوڑی” کی طرح بھول گئے

ایک زمانہ تھا جب آج کی طرح کرنسی نوٹوں کا رواج نہ تھا اور دھاتی سکّوں سے پہلے لین دین اور تجارت کے لیے کوڑی، دام، پھوٹی کوڑی، دمڑی، آنے، پائی کا بھی رواج تھا۔

کرنسی کی انہی پرانی شکلوں اور ان کے ناموں کی مناسبت سے اردو زبان میں محاورے بھی مشہور تھے۔ آج بھی یہ محاورے زبان و بیان کی چاشنی اور تحریر و گفتگو کا حسن اور لطف ہیں، لیکن ان کا استعمال اب بہت کم ہوگیا ہے۔ چند ایسے ہی محاورے اور ان کا برتاؤ دیکھیے جو یقینا آپ کی دل چسپی اور توجہ کا باعث بنے گا۔

آپ نے پھوٹی کوڑی کا استعمال اکثر سنا ہوگا۔ جب کوئی شخص کسی سے رقم کا تقاضا کرے اور اس پر اصرار کرے تو سامنے والا بھی سختی سے انکار کرتے ہوئے یوں‌ کہتا ہے، ’’میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں دوں گا۔‘‘

اسی طرح‌ کوڑیوں‌ کا لفظ بھی آپ نے سنا ہی ہو گا۔ محاورے میں‌ اس کا استعمال اس موقع پر ہوتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ کسی شخص نے اپنی کوئی چیز بے حد سستی بیچ دی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے اپنا مکان نہایت کم قیمت پر بیچا ہو تو تعجّب یا تاسف سے کہا جاتا ہے کہ ’’فلاں شخص نے اپنا مکان کوڑیوں کے مول بیچ دیا۔‘‘

کسی کے بخل اور کنجوسی کی عادت کو بیان کرنا ہو تو کہا جاتا ہے’’چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔‘‘

اگر کسی کی بات کی پُر زور تائید کرنا ہو اور یہ ظاہر کرنا ہو کہ آپ اس کی بات کو سچّ سمجھتے ہیں یا اس پر مکمل یقین کرتے ہیں‌ تو کہتے ہیں کہ ’’آپ کی بات سولہ آنے سچ ہے۔‘‘

دھیلا بھی کسی زمانے میں‌ کرنسی کی ایک قسم رہی ہے جس کا اس محاورے میں استعمال دیکھا جاسکتا ہے کہ ’’وہ تو دھیلے کا کام نہیں کرتا۔‘‘

دام کا لفظ تو آپ نے سنا بھی ہو گا اور استعمال بھی کیا ہوگا۔ اگر آپ کو اپنی عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرنا پڑے تو یہ محاورہ حاضر ہے۔ ’’جناب میں آپ کا بندۂ بے دام ہوں۔‘‘ یا اسی بات کو یوں‌ بھی کہتے ہیں‌ کہ ’’میں تو آپ کا بے دام غلام ہوں‌۔‘‘

یہ محاورے بھی پرانے زمانے کے رائج سکّوں (کرنسی) کی طرح اب ہماری عام گفتگو اور تحریر و تقریر سے باہر ہوگئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں