The news is by your side.

Advertisement

1880: ترکی میں اردو صحافت اور اخبارات کا اجرا

اسلامی دنیا میں ترکی وہ ملک ہے جس کا اردو زبان اور تہذیب سے قدیم ترین تعلق ہے۔

اردو زبان نے ترکی الفاظ کی آمیزش سے اپنے اندر خوب صورت اور بیش قیمت اضافہ کیا اور وسعت پائی۔

ترکوں کی ہندوستان آمد اور یہاں‌ کے مسلمانوں کا ترکی جانا زبان ہی نہیں‌ تہذیب و ثقافت میں‌ رنگ بھرنے کا سبب بنا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں یہ آمدورفت اور تہذیبی و ثقافتی اختلاط اتنا بڑھا کہ انیسویں صدی کے آواخر میں استنبول سے اردو اخبارات نکلنے لگے۔

اس کی وجہ وہ ہندوستانی مسلمان تھے جو استنبول اور ترکی کے مختلف شہروں‌ میں‌ جابسے تھے اور کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت اردو اخبار نکالنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ وہ اس کے قارئین کی خاطر خواہ تعداد موجود تھی۔

خلیل طوقار کی تحقیق کے مطابق 1880 میں اردو کا پہلا اخبار ’پیک اسلام‘ کے نام سے نکلا۔ اس کے بعد دو اور اخبارات نکلے۔ اس حوالے سے خلیل طوقار رقم طراز ہیں:

”استنبول میں نکلنے والے اردو اخبارات کے سلسلے میں ہمارا تین ناموں سے سابقہ پڑتا ہے: ’پیک اسلام‘، ’جہان اسلام‘ اور ’الدستور‘ علاوہ بریں ان اخباروں میں ’اخوت‘ کے نام کا بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جو فارسی زبان میں شائع ہونے کے باوجود ہندوستانی صحافیوں کی جانب سے نکلنے کے اعتبار سے قابل ذکر ہے۔

ہماری تحقیق میں یہ دیکھنے میں آیاکہ استنبول کی لائبریریوں میں ان چاروں میں سے صرف تین اخبارات کے نسخے موجود ہیں اور وہ اخبارات ہیں: ’جہان اسلام‘، ’الدستور‘ اور ’اخوت‘، لیکن اب تک ’پیک اسلام‘ کا کوئی نسخہ نہیں ملا۔

اردو اخبارات میں پہلے نمبر پر ہونے کا شرف پیک اسلام کو حاصل ہے۔ 1880 میں نکلنے والے اس اخبار کے ساتھ استنبول میں اردو صحافت کا آغاز ہوتا ہے۔

’پیک اسلام‘ اردو اور ترکی دونوں زبانوں میں شائع ہورہا تھا۔ اس کے مدیر مسؤل نصرت علی خان تھے جو انگریزوں کے خلاف سرگرمیوں میں شرکت کرنے کی وجہ سے ہندوستان سے جلا وطن کردیے گئے تھے۔ مئی 1880 میں ’پیک اسلام‘ کا اولین شمارہ منظر عام پر آیا۔“

یہ تحقیق بتاتی ہے کہ اس زمانے میں استنبول اور اس کے گرد و نواح میں اردو بولنے اور پڑھنے والوں کی تعداد اس قدر تھی کہ اخبار نکالنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ تاہم پہلی جنگ عظیم کے ساتھ ہی اردو کے اولین دور کا خاتمہ ہوگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں