The news is by your side.

Advertisement

اکبر الہ آبادی اور ان کے ‘استاد’

اکبر الٰہ ابادی اردو کے بڑے شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ان کی شاعری ان کے عہد کی اخلاقی، سیاسی، تہذیبی شعور اور زندگی کا آئینہ سمجھی جاتی ہے۔ وہ واعظ بھی تھے، مصلح بھی، نقّاد بھی، نکتہ چیں بھی اور روایت و جدّت پسندانہ سوچ کے ساتھ ایک انقلابی اور باغی شاعر تھے۔

انھیں خواص اور عوام دونوں نے سندِ قبولیت بخشی تھی۔ کہتے ہیں اکبر نے اپنے کلام کے ذریعے اس دور میں‌ سبھی کی خبر لی ہے، اور کسی سے مرعوب ہوئے نہ کہیں اپنی بات کہنے سے ڈرے۔

یہاں ہم اکبر سے متعلق ایک واقعہ نقل کررہے ہیں‌ جس سے ان کی حیثیت و مرتبے اور شہرت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

اکبر الہ آبادی کی شہرت اور ان کی مقبولیت نے جہاں‌ کئی حاسد پیدا کیے، وہیں بہت سے لوگوں نے ان کی شاگردی کا دعویٰ کرکے دوسروں کی نظر میں خود کو مستند اور معتبر منوانا چاہا۔

ایک صاحب کو دور کی سوجھی۔ انھوں نے خود کو اکبر کا استاد مشہور کر دیا۔ کسی طرح یہ بات اکبر کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔ ان تک اطلاع پہنچی کہ حیدرآباد میں ان کے ایک استاد کا ظہور ہوا ہے، تو ایک روز اپنے دوستوں اور مداحوں کی محفل میں فرمایا،

’’ہاں مولوی صاحب کا ارشاد سچّ ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے میرے بچپن میں ایک مولوی صاحب الہ آباد میں تھے۔ وہ مجھے علم سکھاتے تھے اور میں انہیں عقل، مگر دونوں ناکام رہے۔ نہ مولوی صاحب کو عقل آئی اور نہ مجھ کو علم۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں