The news is by your side.

Advertisement

9 ستمبر 1948:‌ “شاعرِ رومان” راہیِ ملکِ عدم ہوئے

دنیائے سخن میں‌ اختر شیرانی شاعرِ رومان مشہور ہیں۔ غزل اور نظم دونوں اصنافِ سخن میں‌ طبع آزمائی کرنے اختر شیرانی نے 9 ستمبر 1948 کو ہمیشہ کے لیے آنکھیں‌ موند لی تھیں۔ آج اردو کے اس معروف شاعر کا یومِ وفات ہے۔

اختر شیرانی اردو زبان و ادب کے نام وَر محقق حافظ محمود خان شیرانی کے فرزند تھے۔ 4 مئی 1905 کو ریاست ٹونک (راجستھان) میں پیدا ہونے والے اختر شیرانی کی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں گزرا اور وہیں‌ مدفون ہیں۔

اختر شیرانی متعدد ادبی جرائد کے مدیر رہے۔ وہ اپنی نظم نگاری کے لیے زیادہ مشہور ہوئے اور روایتی رومانوی مضامین کے باوجود ان کا براہِ راست محبوب سے خطاب ان کی شہرت کا ایک سبب ہے۔

اختر ایک رندِ بلاخیز تھے اور اسی کثرتِ شراب نوشی نے انھیں‌ زندگی سے محروم کردیا۔انھوں نے اپنی نظموں‌ کا موضوع اپنی محبوب شہناز، ریحانہ، عذرا، سلمیٰ کو بنایا اور ان سے براہِ راست خطاب کرنے کے ساتھ منظوم خطوط سے بھی دل دہی اور دل داریاں‌ کیں۔

اختر شیرانی کی نظموں‌ میں‌ خوب صورت استعارے اور تراکیب ملتی ہیں‌ اور شعری لطافتوں اور نزاکتوں کا اہتمام بھی نظر آتا ہے۔ اختر نے رباعیاں اور ماہیے بھی کہے اور غزل بھی جن کے مضامین خمریات سے بھرے ہیں۔

اختر شیرانی کے شعری مجموعوں میں اخترستان، شعرستان، شہناز، جہاں ریحانہ رہتی ہے، صبحِ بہار، طیورِ آوارہ اور لالۂ طور شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں