The news is by your side.

Advertisement

لکھنؤ کے امیر کا دل ٹوٹا تو گوہرِ یگانہ ہوا!

لکھنؤ کے امیر مینائی کو دنیائے ادب میں‌ شاعر اور ادیب کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ 1829 میں پیدا ہوئے۔ اسیر لکھنوی کو شاعری میں اپنا استاد مانا اور خوب نام کمایا۔

1852 میں امیر مینائی کو نواب واجد علی شاہ کے دربار تک رسائی نصیب ہوئی اور ان کے حکم پر شاد سلطان اور ہدایت السلطان نامی کتب تصنیف کیں۔ 1857 کے بعد رام پور گئے جہاں نواب کلب علی خاں نے اُنھیں اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رام پور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد(دکن) چلے گئے جہاں‌ بیمار ہوئے اور زندگی تمام کی۔

باذوق قارئین کے لیے امیر مینائی کی ایک غزل پیشِ خدمت ہے۔

غزل
امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا
وہ بت وفا پہ نہ آیا، میں بے وفا نہ ہوا
ہوا فروغ جو مجھ کو غمِ زمانہ ہوا
پڑا جو داغ جگر میں چراغِ خانہ ہوا
امید جا کے نہیں اس گلی سے آنے کی
بہ رنگِ عمر مرا نامہ بر روانہ ہوا
ترے جمال نے زہرہ کو دور دکھلایا
ترے جلال سے مریخ کا زمانہ ہوا
کوئی گیا درِ جاناں پہ ہم ہوئے پامال
ہمارا سَر نہ ہوا سنگِ آستانہ ہوا
جب آئی جوش پہ میرے کریم کی رحمت
گرا جو آنکھ سے آنسو دُرِ یگانہ ہوا
اٹھائے صدمے پہ صدمے تو آبرو پائی
امیر ٹوٹ کے دل گوہرِ یگانہ ہوا

Comments

یہ بھی پڑھیں