The news is by your side.

Advertisement

لفافے میں لفافہ رکھنے کی کیا وجہ تھی؟

استاد شعرا میں داغؔ دہلوی کا نام و مرتبہ بہت بلند ہے اور اپنے کلام کی وجہ سے وہ اپنے زمانے کے دیگر شعرا میں ممتاز ہیں۔

شاہی دربار، نواب اور امرا کے یہاں ان کا خوب ذکر ہوتا تھا اور اکثر سے وظیفہ بھی پاتے رہے۔ شعروسخن کے ساتھ سر اور تال، رقص کی محافل بھی اس دور میں خوب جما کرتی تھیں۔ داغ کو بھی اپنے وقت کی مشہور مغنیہ اور طوائفوں سے نہ صرف لگائو تھا بلکہ ان سے خط و کتابت بھی تھی۔

جب وہ کسی طوائف کو خط لکھتے تو خاص اہتمام کے ساتھ نہ صرف تحریر کرتے بلکہ اس کے لیے خاص لفافہ بھی تیار کرتے۔ اسے بیل بوٹے سے سجاتے اور اس سجے سجائے لفافے کو دوسرے لفافے کے اندر رکھ کر بھیجتے۔

ایسے ہی ایک خط کا ذکر ان کے شاگردِ عزیز نوح ناروی نے کیا ہے۔ یہ خط داغ نے طوائف نبی جان کو لکھا تھا۔ اس سلسلے میں نوح ناروی کہتے ہیں:

جب یہ خط بیل بوٹے والے لفافہ میں رکھ کر مجھ سے پتا لکھنے کو کہا گیا تو میں نے تھوڑی دیر تک کچھ نہ لکھا، ارشاد ہوا کیوں نہیں لکھتے۔ میں نے کہا گستاخی معاف ہو، ڈاک خانے کی مہریں پڑ کر اس لفافے کے کام کو خراب کر دیں گی، اگر حکم ہو تو اس لفافے کو ایک دوسرے بڑے لفافے میں رکھ کر، بڑے لفافے پر پتا لکھ دوں، لیکن اس لفافے پر کوئی شعر ہونا چاہیے۔

پہلے تو استاد مسکرائے، پھر فوراً یہ مطلع کہا:

شوق کُھلنے نہ دیا، عشق کا پردہ رکھا
اس لیے ہم نے لفافے میں لفافہ رکھا

(ڈاکٹر سید محمد علی زیدی، بحوالہ فصیح الملک از نوح ناروی)

Comments

یہ بھی پڑھیں