The news is by your side.

Advertisement

حکیم وجاہت حسین اور فیروز دونوں تعلیم سے نابلد تھے!

فانی صاحب کا ناندیڑ تبادلہ ہو گیا، مگر وہ اس تبادلے سے خوش نہ تھے۔ پھر ان کے ملکی اورغیر ملکی ہونے کا قصہ چلا۔ اس نے انھیں اور بھی مضمحل بنا دیا۔

آخری صدمہ شریکِ زندگی کی وفات کا پہنچا جس نے ان کی کمر توڑ دی۔ وہ پیکرِ حزن و یاس پہلے ہی تھے، اس صدمے نے انھیں مجسم حُزن و یاس بنا دیا۔

ان کے دو صاحب زادے تھے۔ حکیم وجاہت حسین اور فیروز۔ دونوں تعلیم سے نابلد تھے۔ یہ صدمہ انھیں اور کھائے جاتا تھا۔

اسی زمانے میں ان کی شہزادہ نواب معظّم جاہ بہادر متخلص بہ شجیع کے دربار میں رسائی ہوئی۔ صدق جائسی، شاہد، ماہر القادری ان کے دربار سے وابستہ ہو چکے تھے کہ ان کے دربار کی رونق فانی صاحب بنے۔

نواب معظّم جاہ بہادر رات کے راجا تھے۔ شب کے آٹھ بجے سے رات کے تین بجے تک ان کی محفلیں شعروشاعری اور بذلہ سنجی سے رونق پاتی تھیں۔

فانی بوڑھے ہو چکے تھے۔ وہ رات کی شب بیداریوں سے زچ آچکے تھے۔ کبھی کبھی رات کی بیداریوں سے تنگ آکر کہتے کہ مقدر میں یہ بھی لکھا تھا۔

ایک روز میں شام کو ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تنہا بیٹھے ہوئے تھے۔ کہنے لگے، قدوسی صاحب خوب آئے۔ میں نے اپنا قطعۂ تاریخِ وفات کہا ہے۔ غالب مرد اور بمرد کی تبدیلی اس میں نہیں ہوگی۔

میں نے کہا ابھی آپ کو بہت جینا ہے اور اردو ادب کی خدمت کرنی ہے۔ بولے یہ تو ٹھیک ہے، لیکن سب ٹاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ۔ آپ بھی سن لیجیے اور یاد رکھیے۔

او از جہاں گزشت کہ آخر خدا نبود
او آں چناں بزیست تو گوئی خدانداشت
طغیانِ ناز بیں کہ بلوحِ مزارِ اُو
ثبت است سالِ رحلتِ فانیؔ خدانداشت

آخر وہی ہوا، جس کا اندیشہ تھا۔ فانیؔ صاحب بیمار پڑے۔ کئی مرتبہ میں ان کی علالت میں مزاج پُرسی کو گیا۔ پیچش میں مبتلا تھے۔ آخر 1941ء میں اس یگانہ روزگار شاعر نے عالمِ بقا کی راہ اختیار کی۔

فانی کی تجہیز و تکفین کا انتظام نواب معظّم بہادر کی طرف سے ہوا اور اس گنجینۂ شاعری کو حضرت یوسف صاحب، شریف صاحب کے بیرونی قبرستان میں دفن کیا گیا۔

(نام وَر ادیب اور مشہور خاکہ نگار اعجاز الحق قدوسی کی کتاب میری زندگی کے پچھتر سال سے ایک ورق)

Comments

یہ بھی پڑھیں