The news is by your side.

حمزہ ہاشمی سوز کی شاعری جدّت و روایت کا خوب صورت امتزاج

ادب کسی بھی ملک یا خطّے کا ہو، قارئین کی توجہ اسی وقت حاصل کرتا ہے، جب وہ اپنے عہد سے ہم آہنگ ہو۔ اردو شاعری کی بات کی جائے تو یہ اپنے عہد کی تہذیب و ثقافت، سیاسی، سماجی زندگی کا آئینہ بھی ہوتی ہے اور انسانی جذبات اور کیفیات کی ترجمان بھی، لیکن غزل یا نظم اظہار کا سلیقہ اور قرینہ بھی چاہتی ہے۔

موجودہ دور میں نوجوان شعرا کی کہکشاں میں حمزہ ہاشمی کی بات کی جائے تو ان کے اشعار میں جدّت و روایت کا وہ خوب صورت امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے جسے نظر انداز نہیں‌ کیا جاسکتا۔ حمزہ کی شاعری میں ایک نیا، تروتازہ اور دل کش لہجہ سامنے آتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ صلے و ستائش کی تمنّا سے بے نیاز ہوکر مشقِ سخن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حمزہ ہاشمی کا تخلّص سوز ہے اور ان کی شاعری میں بھی یہی سوز و گداز، خیال کی نرمی، احساس کی کوملتا، درد مندی اور خاص رچاؤ اور اظہار و بیان کا سلیقہ نظر آتا ہے۔

ان کا تعلق لاہور شہر سے ہے۔ ایم اے انگلش کے بعد حمزہ نے ایل ایل بی (آنرز) کیا جب کہ 14 سال کی عمر سے شعر کہنے لگے تھے۔ وہ ترقّی پسند شعرا بالخصوص فیض احمد فیض سے متاثر ہیں۔ انھیں شاعری کے علاوہ دیگر علوم اور موضوعات پر کتب کے مطالعے کا شوق ہے جس نے ان کے ذہن کو وسعت اور تخیل کو نکتہ رسی پر آمادہ کیا ہے۔ اس کی جھلک ان کے اشعار میں‌ بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ وہ غزل اور نظم دونوں اصنافِ سخن میں اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں، لیکن نظم کہنا پسند ہے۔

قارئین، اس تعارف کے بعد اب حمزہ ہاشمی سوز کا کلام ملاحظہ کیجیے۔

غزل
شاخِ گل کھلتی چلی جائے گلستاں کی طرح
مجھ میں مہکے تری خوشبو ترے پیماں کی طرح
عمر بھر طعنہ زناں مجھ پہ رہے یار سبھی
عمر بھر چال چلے ‘بزمِ حریفاں کی طرح
دل کے خاموش بیاباں میں نہ آواز کرو
جاگ اٹھے نہ قیامت کوئی طوفاں کی طرح
چار و ناچار مری سمت پلٹ آتی ہے
خواہشِ قرب بھی اس کی غمِ دوراں کی طرح
نکہتیں بڑھتی رہیں تیرے شبستانوں کی
تو بھی آباد رہے حلقہِ یاراں کی طرح
معترض چند تھیں باتیں کہ طبیعت کا سکوت
کس قدر روٹھ گیا ہے دلِ ناداں کی طرح
ابھی شادابیاں لفظوں کی پس انداز رکھو
آ پڑیں کام کسی دن سر و ساماں کی طرح

ایک اور غزل کے چند اشعار دیکھیے۔
مرے حالِ زار کی تلخیاں، جو چھپی ہیں ان سے چھپی رہیں
مرے نیم شب کی دہائیاں، جو چھپی ہیں ان سے چھپی رہیں
کوئی سانحہ نہ ہو رونما، کوئی حادثہ نہ ہو درمیاں
مری قربتیں، مری دوریاں، جو چھپی ہیں ان سے چھپی رہیں
سرِ کنجِ لب یہ بھی راز ہے کہ حقیقتیں نہ سبھی کھلیں
جو کھلی ہیں کھل کے کریں بیاں، جو چھپی ہیں ان سے چھپی رہیں
کبھی بارشیں، کبھی موج ہیں، کبھی آگ ہیں، کبھی موم ہیں
مرے اشک اشک کی خوبیاں جو چھپی ہیں ان سے چھپی رہیں
میں کہوں یہ کیسے کہ عمر بھر، رہیں خواہشیں بھی دھوئیں میں گم
انھی خواہشوں کی یہ آندھیاں جو چھپی ہیں اُن سے چھپی رہیں

یہ غزل ملاحظہ کیجیے۔

لہکی ہوئی شاخوں پہ گل افشاں نہ ہوا تھا
یوں جشنِ طلب، جشنِ بہاراں نہ ہوا تھا
وہ زخم مجھے طوقِ گلو جیسا لگا ہے
جو زخم بھی پیوستِ رگِ جاں نہ ہوا تھا
اس بار ملا کیا کہ جدائی ہی جدائی
ہوتا تھا مگر یوں بھی گریزاں نہ ہوا تھا
قاتل کی جبیں پر بھی پسینے کی شکن ہے
ہیبت سے کبھی ایسی پریشاں نہ ہوا تھا
کچھ بات تو دامن کو لگی گل کی مہک میں
کانٹوں سے یونہی دست و گریباں نہ ہوا تھا
کیوں سیلِ بلا خیز بہا کر نہ گیا غم
کیوں شکوہ کم ظرفیِ طوفاں نہ ہوا تھا

ایک نظم
"ذرا سا بولو”
ذرا سا بولو، زباں تو کھولو
سخن کے در، دیکھو جل رہے ہیں
خموش آہیں بلک رہی ہیں
سسکتے شعلے ابل رہے ہیں

شکستگی کا دھواں نہ دیکھو
غبار آخر غبار ہوگا
دھنک، رُخوں پر بکھر پڑے گی
دلوں میں باہم قرار ہوگا
فریب ہم کو خزاں نہ دے گی
بہار ہونا، بہار ہوگا!!

گھٹن کا بن تک اجاڑ دیں گی
ہوائیں خوشبو کی باس لے کر
کھلے گی منزل کی موشگافی
دلوں میں دل کی شناس لے کر
چمک اٹھیں گے بجُھے بیاباں
افق کے جیسا لباس لے کر

مگر زباں کے بھرم کی خاطر
ہمیں کو آخر تو بولنا ہے!
وہ بھید مسند نشینیوں کا
جزا کا دفتر، سزا کا دفتر
جو کھولنا ہے وہ کھولنا ہے
جو تولنا ہے وہ تولنا ہے!

Comments

یہ بھی پڑھیں