The news is by your side.

Advertisement

علّامہ اقبال اور مرزا غالب کے کلام میں کیا قدر مشترک ہے؟

جہانِ سخن میں‌ مرزا غالب اور علامہ اقبال کا شہرہ و چرچا آج بھی ہے اور ہوتا رہے گا۔ انھیں آفاقی شاعر، عظیم سخن ور، فلسفی اور مفکر کہا جاتا ہے، لیکن اردو زبان و ادب کے نام ور نقاد ان شعرا کی فکر اور کمالِ فن کا جائزہ لیتے ہیں تو مختلف جہات اور ادبی حیثیت سامنے آتی ہے جو غالب شناسی اور اقبالیات کا موضوع ہیں، تاہم یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ ان شعرا کی فکری اساس کا مشترک اور اہم ترین پہلو انسان کی عظمت اور شان ہے۔

یہاں‌ ہم اقبال اور غالب کے وہ مشہور اشعار قارئین کے سامنے رکھ رہے ہیں جو ان کی فکری اساس اور نکتہ رسی کا مظہر ہیں۔

اردو کے بعض ناقد کہتے ہیں کہ اقبال کا غالب اور حالی سے موازنہ کیا جاسکتا ہے، لیکن مرزا غالب اپنے مفکرانہ انداز اور فلسفیانہ مضامین کے باوجود صرف غزل گو شاعر ہیں اور ان کے کلام میں‌ کوئی مخصوص پیغام نظر نہیں آتا۔ اقبال نے مفکرانہ شاعری غالب ہی سے سیکھی، لیکن اپنے کلام کے ذریعے مخصوص نظامِ فکر کے پرچارک بنے اور تسلسل کے ساتھ استدلال نے ان کی شاعری کو بامقصد اور پیغام آفریں بنایا۔

اس ضمن میں‌ یہ اشعار دیکھیے۔

فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں‌
موج ہے دریا میں‌ اور بیرونِ دریا کچھ نہیں (علّامہ اقبال)

آبرو کیا خاک اس گُل کی جو گلشن میں‌ نہیں
ہے گریباں ننگِ پیراہن جو دامن میں ‌نہیں (مرزا غالب)

ستاروں سے آگے جہاں‌ اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں (علّامہ اقبال)

ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا (مرزا غالب)

Comments

یہ بھی پڑھیں