The news is by your side.

Advertisement

جب کراچی میں‌ اردو زبان کے ایک ممتاز شاعر کو جیل جانا پڑا…

اردو کے ممتاز شاعر مرزا یگانہ ہندوستان سے پاکستان آئے اور یہاں ان کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔

وہ اپنے بیٹوں سے ملنے کے لیے عارضی پرمٹ پر کراچی آئے تھے لیکن پرمٹ کی میعاد ختم ہو جانے پر جیل ہو گئی۔ خیر کسی طرح کراچی سے دہلی بھجوا دیے گئے جس کا ذکر انہوں نے اپنے ایک خط میں کیا ہے۔ قارئین کی توجہ کے لیے اس خط سے چند اقتباسات پیشِ خدمت ہیں۔

’’بات یہ ہے کہ عارضی پر مٹ لے کر چند دنوں کے لیے وہاں ( پاکستان) گیا تھا فقط اپنے لڑکوں کو دیکھنے کے لیے۔ درمیان میں ایسے واقعات پیش آگئے کہ پرمٹ کی مدت گزر گئی اور اس طرح پاکستان سے واپس آنا بظاہر ناممکن نظر آتا تھا۔ مگر خدا بھلا کرے دو شریف النفس ہندوؤں کا جنھوں نے نہایت محنت اور ہم دردی کے ساتھ مجھے پرمٹ دلا کر تین گھنٹے کے اندر کراچی سے دہلی پہنچا دیا اور وہاں سے پھر لکھنؤ آگیا۔ اب میں بڑی خوشی سے مرنے کو تیار ہوں۔‘‘

یگانہ کو آخری عمر میں بہت سے صدمات اُٹھانے پڑے۔ اہلِ محلّہ نے محلّے سے نکال دیا اور بیوی نے گھر سے۔ گھر چھوڑ کر ایک جھونپڑی میں رہنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس بارے میں اپنے بڑے بیٹے آغا جان کو لکھتے ہیں۔

’’تمہاری امّاں نے مجھے اتنا عاجز کیا کہ میں تنگ ہو کر پروفیسر مسعود حسن خان صاحب کے باغ میں اک حجرے میں ( آگے چھپڑ ڈال کر) جاکر ٹھہر گیا۔ اور 15 جون کو میں مسعود صاحب کے ہاں چلا گیا۔ آخر جولائی سے بارش کی شدت ہونے لگی اور یہاں طبیعت کا یہ حال کہ دو قدم چل نہیں سکتا۔ پیٹ میں سانس نہیں سماتی، گھڑی گھڑی نڈھال ہو کر پلنگ پر کروٹیں بدلتا رہتا ہوں۔ ایک بڈھا نوکر مل گیا جو خبر گیری کرتا تھا، مگر جب وہ کھانے پینے کے لیے باہر چلا جاتا تھا تو پھر میں اکیلا رہ جاتا۔ پھر خدا یاد آجاتا۔

آس پاس کوئی نہیں، جب حالت زیادہ خراب ہو گئی تو پھر میں یہی پہلے مکان میں واپس آگیا۔ تمہاری امّاں میری اس چند روزہ زندگی سے اتنی بیزار ہیں کہ میرا ساتھ رہنا انھیں گوارا ہی نہیں۔ تم یہاں کیوں آئے، میرے ٹھکانے پر کیوں آئے، جب جانتے تھے کہ میں یہاں رہتی تو کیوں آئے۔۔۔۔ دوبارہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی آئیں۔ خیر اب شہر میں سجاد حسین کی بیوی کراچی جانے لگیں تو تمہاری اماں بھی اُٹھ کھڑی ہوئیں اور ہمیشہ کے لیے مجھے تنہا چھوڑ گئیں۔ اس سِن میں ایسے مریض کو اس طرح مارنا چاہا کہ پانی دینے والا بھی نہ ہو۔ بار بار فرماتی تھیں کہ اب مزہ مل جائے گا تنہائی کا، نہایت کرب و ایذا میں ہوں۔‘‘

یگانہؔ کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور بلندی عطا کی تھی، لیکن ان کی ذات اور نجی زندگی اپنوں‌ اور غیروں کے برے سلوک اور خراب رویّوں کی وجہ سے تکیف اور صدمات سہتے گزری جس کا اندازہ ان کے تحریر کردہ خط سے لگایا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں