The news is by your side.

Advertisement

کیا ملا تجھ کو بھلا بوئے پریشاں ہو کر؟ (نظم)

موجِ خوشبو!

موجِ خوشبو! یہ ترا حسنِ تغافل، توبہ
کس قدر کیف ملا تجھ کو بکھر جانے میں
کیا ملا تجھ کو بیاباں میں پریشاں ہو کر
تیری پہچان گئی رازِ فنا پانے میں
میں بھی اک گوشہء ہستی میں کہیں بیٹھا ہوں
اپنی تجسیم کے انداز سے نالاں نالاں
آرزو مجھ کو بھی ہے رازِ فنا پانے کی
بیکراں دہر کی وسعت میں بکھر جانے کی

موجِ خوشبو، یہ ذرا رازِ دروں تو کہنا
پھول کے ساتھ ترا ربط تھا محکم کتنا؟

دامنِ گل سے ہمیشہ کو گریزاں ہو کر
کیا ملا تجھ کو بھلا بوئے پریشاں ہو کر؟

شاعر: اکرم جاذب

 

 


(اکرم جاذب کا تعلق منڈی بہاءُ الدین سے ہے، غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اوراپنے کلام کو کتابی شکل میں پیش کرچکے ہیں، مختلف روزناموں اور ادبی رسائل میں ان کا کلام شایع ہوتا رہتا ہے)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں