The news is by your side.

Advertisement

"پرانے دوست نیا روپ دھار سکتے ہیں!”


بلقیس خان کا تعلق میانوالی سے ہے۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں انھیں شاعری سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔ بلقیس خان نے جب اپنے خیالات اور احساسات کو الفاظ کا روپ دینے کا آغاز کیا تو اس کی ابتدا آزاد نظم سے کی۔ بعد میں‌ غزل جیسی مقبول صنفِ سخن کی طرف متوجہ ہوئیں اور ایک خوش فکر اور خوش گو شاعرہ کے طور پر اپنی جگہ بنانے میں کام یاب رہیں۔ ان کی ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔

لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں
پرانے دوست نیا روپ دھار سکتے ہیں

یہ سب سمجھتے ہیں عشق و ہوس کا فرق مگر
تری خوشی کے لیے کچھ بھی ہار سکتے ہیں

ہم اپنے لفظوں میں صورت گری کے ماہر ہیں
کسی بھی ذہن میں منظر اتار سکتے ہیں

بضد نہ ہو کہ تری پیروی ضروری ہے
ہم اپنے آپ کو بہتر سدھار سکتے ہیں

وہ ایک لمحہ کہ جس میں ملے تھے ہم دونوں
اس ایک لمحے میں صدیاں گزار سکتے ہیں

بِنا سہارے جو للکار بھی نہیں سکتے
انھیں ہے زعم کہ میدان مار سکتے ہیں

گزار دی ہے جہاں زندگی بنا دیکھے
ملے بغیر بھی کچھ دن گزار سکتے ہیں

ہماری آنکھ میں جادو بھرا سمندر ہے
ہم اس کا عکس نظر سے نتھار سکتے ہیں

Comments

یہ بھی پڑھیں