The news is by your side.

Advertisement

بھنور میں تُو ہی فقط میرا آسرا تو نہیں! (شاعری)

غزل

بھنور میں تُو ہی فقط میرا آسرا تو نہیں
تُو ناخدا ہی سہی  پر  مرا  خدا تو  نہیں

اک اور مجھ کو  مری طرز کا ملا ہے یہاں
سو اب یہ سوچتا ہوں میں وہ دوسرا تو نہیں

ابھی بھی چلتا ہے سایہ جو ساتھ ساتھ مرے
بتا اے وقت کبھی  میں شجر  رہا  تو  نہیں

ہیں گہری جڑ سے شجر کی بلندیاں مشروط
سو  پستیاں یہ کہیں میرا  ارتقا تو  نہیں

جو پاس یہ مرے بے خوف چلے آتے ہیں
مرے بدن پہ پرندوں کا گھونسلا تو نہیں

اے آئنے تُو ذرا دیکھ غور سے مری آنکھ
گرے ہیں اشک کوئی خواب بھی گرا تو نہیں

 

 

 

اس غزل کے خالق عزم الحسنین عزمی ہیں جن کا تعلق گجرات کے گاؤں ڈوڈے سے ہے، ان کا کلام مختلف اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس پر شایع ہوچکا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں