The news is by your side.

Advertisement

غریب آدمی اور بوڑھا

ایک سبق آموز کہانی

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے۔ بڑا بھائی تو امیر تھا، لیکن چھوٹا بھائی تھا کنگال۔

ایک دفعہ نئے سال کے دن جب کہ سارا شہر جشن کی تیاری کر رہا تھا اس چھوٹے بھائی کے گھر کھانے کو چاول نہ تھے۔ وہ اپنے بڑے بھائی سے ایک سیر چاول ادھار مانگنے کے لیے گیا، لیکن اس نے اسے ٹکا سا جواب دے دیا۔

جب وہ نا امید ہو کر واپس آرہا تھا تو اسے راستے میں لکڑی کا بھاری گٹھا اٹھائے ہوئے ایک بوڑھا ملا۔ بوڑھے نے اس سے پوچھا:

’’تم کہاں جارہے ہو؟ معلوم ہوتا ہے تم کسی مصیبت میں پڑے ہوئے ہو؟‘‘

چھوٹے بھائی نے اسے اپنی مصیبت کی ساری کہانی سنا دی۔ بوڑھے نے اسے حوصلہ دلاتے ہوئے کہا۔ ’’اگر تم لکڑی کے اس گٹھر کو میرے گھر تک پہنچا دو تو میں تمہیں ایک ایسی چیز دوں گا جس کی مدد سے تم مالا مال ہوجاؤگے۔‘

چھوٹا بھائی بہت رحم دل تھا۔ اس نے لکڑی کا گٹھا سر پر رکھ لیا اور بوڑھے کے پیچھے پیچھے چل دیا۔

گھر پہنچ کر بوڑھے نے اسے ایک مال پوا دیا اور کہا۔ ’’اس کو لے کر تم مندر کے پیچھے جو جنگل ہے، وہاں جاؤ۔ وہاں ایک بِل ہے جس میں بہت سے بونے رہتے ہیں۔ ان بونوں کو یہ مال پوئے بہت پسند ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہیں گے۔

اس وقت اس کے بدلے میں تم دھن دولت نہ مانگنا بلکہ پتھر کی ایک چکی مانگ لینا۔ بعد میں تمہیں اس چکی کی کرامات معلوم ہوجائے گی۔

بوڑھے سے رخصت ہو کر چھوٹا بھائی اس جنگل میں آیا۔ مندر سے کچھ دور اسے ایک بل میں بہت سے بونے نکلتے اور اندر جاتے نظر آئے۔ وہ ایک درخت کو کھینچ کر اپنے بل تک لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ یہ ان کے لیے بہت مشکل کام تھا۔

چھوٹے بھائی نے کہا۔’’اچھا میں تمہارے لیے یہ درخت بل تک لے چلتا ہوں۔‘‘ بل کے پاس آکر اسے ایک مہین سی آٰواز سنائی دی۔ ’’مجھے بچائیے میں مرجاؤں گا۔‘‘ یہ سن کر چھوٹے بھئی نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔ اس کے پاؤں کی انگلیوں کے بیچ میں ایک ننھا سا بونا بھینچا جارہا تھا۔ اس نے بونے کو جھٹ سے اٹھا لیا۔ اصل میں یہ بونوں کا راج کمار تھا۔

بونوں کے راج کمار کی نظر جب مال پوئے پر گئی تو وہ بولا: ’’مہربانی کر کے یہ مال پوا مجھے دے دیجیے۔ اس کے بدلے میں آپ کو بہت سے جواہرات دوں گا۔‘‘ لیکن چھوٹے بھائی کو بوڑھے کی بات یاد تھی۔ اس نے مال پوئے کے بدلے میں پتھر کی چکّی مانگی۔

راج کمار نے راجہ سے سفارش کی تو اس نے چکّی دینا منظور کر لیا۔ جب چکّی لے کر چھوٹا بھائی چلنے لگا تو بونے راجہ نے کہا۔ ’’دیکھو بھائی یہ ہمارے راج کی سب سے قیمتی چیز ہے۔ اس کا استعمال سوچ سمجھ کرنا۔ تم اس چکّی کو داہنی طرف سے چکر دے کر جو چیز مانگو گے وہ اس میں سے نکلنی شروع ہوجائے گی۔ اور جب تک اسے بائیں طرف سے چکر نہیں دو گے وہ چیز نکلتی ہی جائے گی۔

چھوٹا بھائی پتھر کی چکّی لے کر گھر آیا۔ اس کی بیوی اپنے شوہر کے انتظار میں بھوکی پیاسی بیٹھی ہوئی تھی۔ شوہر کو خالی ہاتھ آتے دیکھ کر وہ بہت ناامید ہوئی مگر چھوٹے بھائی نے آتے ہی کہا۔ ’’جلدی سے فرش پر چٹائی بچھاؤ۔

چٹائی پر چکّی رکھ کر چھوٹے بھائی نے اسے داہنی طرف سے گھما کر کہا ’’چاول نکلو‘‘ بس اتنا کہنا تھا کہ چاولوں کے ڈھیر لگ گئے۔ پھر وہ بولا ’’مچھلی نکلو‘‘ اب مچھلی نکلنا شروع ہوگئی۔ اس طرح اس کو جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ سب اس نے چکّی سے حاصل کرلیں۔

پھر اسے خیال آیا کہ اب تو میں امیر آدمی ہوں۔ مجھے تو عالی شان مکان میں رہنا چاہیے۔ اس لیے اس نے چکّی کو گھما کر نیا مکان اصطبل، گودام غرض یہ کہ شان و شوکت کی سب چیزیں مانگ لیں۔ پھر اس نے اپنے اڑوس پڑوس کے سب لوگوں کو دعوت دی۔ اس طرح اس نے نئے سال کا جشن خوب دھوم دھام سے منایا۔

یہ دیکھ کر بڑا بھائی سوچنے لگا کہ میرا چھوٹا بھائی ایک رات میں لکھ پتی کیوں کر بن گیا۔ اس میں ضرور کوئی بھید ہے۔ وہ چھپ کر دروازے کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ چھوٹا بھائی ایک چکّی کو گھما کر مٹھائی کے ٹوکروں کے ٹوکرے بھر رہا ہے اور انہیں مہمانوں کو دے رہا ہے۔ بڑے بھائی نےارادہ کر لیا کہ میں کسی نہ کسی طرح اس چکّی کو ضرور حاصل کروں گا۔

رات کو جب سب سو رہے تھے وہ اپنے بھائی کے گھر پچھواڑے سے گھسا اور چکّی اٹھا کر نکل بھاگا۔ چکّی کو لے کر وہ ایک کشتی میں سوار ہو گیا اور ارادہ کیا کہ کسی الگ جزیرے میں اسے لے جاؤں اور لکھ پتی ہو جاؤں۔ ہوا ایسا کہ اپنی کشتی میں ضرورت کی اور سب چیزیں تو وہ لے آیا تھا مگرنمک لانا بھول گیا تھا۔ اس نے چکّی چلا کر کہا: ’’نمک نکلو، نمک نکلو‘‘

یہ کہنے کی دیر تھی کہ چکّی میں سے ڈھیروں نمک نکلنا شروع ہوگیا۔ بڑے بھائی کو چکّی روکنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نمک کے بوجھ سے بڑا بھائی کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی۔

کہتے ہیں اسی وقت سے وہ چکّی سمندر میں برابر چل رہی ہے اور اس کے نمک سے سمندر کا سارا پانی کھارا ہو رہا ہے۔

(مختلف مصنفین اور عنوانات کے تحت یہ کہانی خاص طور پر بچّوں کی دل چسپی کے ساتھ ان کی تربیت اور اصلاح کے لیے سنائی جاتی رہی ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں