The news is by your side.

Advertisement

دوپلی ٹوپی اور کرارا جواب

یہ پارہ دو اشخاص کی گفتگو پر مبنی ہے۔ ان میں‌ سے ایک لکھنؤ کا باسی ہے جب کہ دوسرا کسی اور شہر سے آیا ہے۔ ان کے درمیان علاقے کی سیر اور میل جول کی غرض سے گھر سے باہر جانا طے ہوتا ہے اور وہ ایک تانگے میں‌ سوار ہوجاتے ہیں۔ اس پارے میں آپ کو لکھنؤ کے عام لوگوں کی عادت اور ان کے اطوار کی ایک دل چسپ جھلک نظر آئے گی۔

یہ گفتگو اس طرح شروع ہوتی ہے:

آئیے گومتی کی ٹھنڈی سڑک سے ہوتے ہوئے رفاہِ عام اور گولہ گنج کے محلّوں کی سیر کرلیں۔

تانگہ مل نہیں رہا، اکّا لے لیں۔ یہ دوپلی ٹوپی اب تک یہاں پہنی جاتی ہے؟ ہماری اور آپ کی طرح موٹی انگریزی ہیٹ نہیں‌ پہنتے۔

ارے یہ دوپلی ٹوپی تو اکّے والے کی، تیز ہوا سے اڑی جاتی ہے۔ ہر دفعہ ہاتھ سے روکتا ہے۔ کہیں سچ مچ ہوا سے اڑ نہ جائے۔

آپ سے کیا، آپ خاموش رہیے، نہیں‌ تو یہ اکّے والا ایسا جملہ چپکا دے گا کہ جنم جنم یاد رہے گا۔ یہ لکھنؤ ہے۔

اجی چھوڑیے…..

تو شوق فرمائیے، دل میں‌ حسرت کیوں رہ جائے۔

بھیا اکّے والے، ایسی ٹوپی کیوں پہنتے ہو جو تیز ہوا سے اڑ جائے؟

حضور، یہ غیرت دار ٹوپی ہے، ہوا کے اشارے سے اڑ جاتی ہے، آپ کی بے غیرت موٹی ہیٹ تھوڑی ہے کہ سو جوتے مارو پھر بھی وہیں وہیں جمی رہتی ہے……..

ابے کمہار کے لونڈے، ذرا بچ کے، ابے ہٹ کے چل نہیں‌ تو چپاتی بن جائے گا۔

سن لیا جواب آپ نے؟ منع کیا تھا کہ یہ لکھنؤ ہے۔ سمجھ بوچھ کے جملے بازی فرمائیے گا۔

ایک بہت موٹے آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے اکّا رکوایا۔ کیوں کہ اکّے میں دو آدمی تھے۔ اور حکومت کی طرف سے تین آدمیوں کے بیٹھنے کی اجازت ہے۔ ذرا ہم کو بھی امین آباد چھوڑ دینا۔ بہت موٹے آدمی نے اکّے والے سے کہا۔

اکّے والے نے معصوم بن کر جواب دیا: صرف تین آدمیوں کو بٹھانے کی اجازت ہے، چار کو نہیں۔

موٹے صاحب ہنس کر کہنے لگے: دو بیٹھے ہیں، تیسرا میں ہوں، یہ چار کہاں سے ہوگئے؟ بھنگ پیے ہے کیا؟
اکّے والے نے تیور بدل کر کہا: غلط فہمی میں‌ نہ پڑیے گا، آج ہی کسی لکڑی کی ٹھیکی پر اپنا وزن کرا لیجیے، ڈھائی گدھوں کے برابر نکلے گا آپ کا وزن حضور۔

(معروف لکھاری آغا جانی کشمیری کی کتاب سے دل چسپ اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں