The news is by your side.

Advertisement

دو ادیبوں‌ میں‌ اختلافات جو منٹو کے قلم سے رقم ہوئے

خواجہ حسن نظامی ایک متنوع اور متحرک شخصیت کے مالک تھے۔ ادیب، مصنف، مؤرخ اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک صوفی اور پیر بھی تھے. کہتے ہیں ان کے مرید بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے۔

اسی زمانے میں‌ دیوان سنگھ مفتون نے بھی اپنے قلم اور کھری صحافت کی وجہ سے خوب نام بنا لیا تھا۔ وہ خواجہ حسن نظامی سے صحافت کے گُر سیکھنے والوں‌ میں‌ سے ایک تھے۔ انھوں‌ نے بعد میں‌ اپنی لگن اور تگ و دو سے اردو صحافت میں نام کمایا اور ایک زبردست لکھاری بن کر ابھرے۔ لیکن انہی دو نام وروں‌ کے مابین کچھ اختلاف اور ایسے جھگڑے بھی تھے کہ اس حوالے سے ایسے مضامین لکھے گئے جو کسی کی بھی شہرت خراب کرسکتے تھے۔

مذکورہ شخصیات سے متعلق مشہور ادیب سعادت حسن منٹو کی زبانی ایک دل چسپ واقعہ سنیے۔ وہ لکھتے ہیں:

سردار صاحب (دیوان سنگھ مفتون) نے ایک دن زچ ہو کر مجھ سے کہا: میں نے بڑی بڑی قطب صاحب کی لاٹھوں کو جھکا دیا، مگر یہ حسن نظامی مجھ سے نہیں جھکایا جاسکا۔

منٹو صاحب! میں نے اس شخص کے خلاف اتنا لکھا ہے، اتنا لکھا ہے کہ اگر ریاست کے وہ تمام پرچے جن میں یہ مضامین چھپتے رہے ہیں، اس پر رکھ دیے جائیں، تو ان کے وزن ہی سے اس کا کچومر نکل جائے، لیکن الٹا کچومر میرا نکل گیا۔

میں نے اس کے خلاف اس قدر زیادہ اس لیے لکھا کہ میں چاہتا تھا کہ وہ بھنا کر قانون کو پکارے، کھلی عدالت میں مقدمہ پیش ہو، اور میں وہاں اس کے ڈھول کا پول کھول کر رکھ دوں … لیکن اس نے کبھی مجھے ایسا موقع نہیں دیا اور نہ دے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں