The news is by your side.

Advertisement

”آپ کی محبوبہ کون ہے؟“

ممتاز ادیب، محقق، نقّاد اور مترجم اطہر پرویز کی آپ بیتی سے انتخاب

ممتاز حسین نے بی ایڈ کیا۔ کیسے کیا اللہ جانتا ہے یا ہم لوگ۔ ان کا وہ آرام کا سال تھا۔ انھوں نے دیوانِ غالب خریدا اور جتنے دن وہ علی گڑھ رہے، صرف وہی پڑھتے رہے۔ ایک لڑکی پر عاشق ہوگئے اور اسی عشق کی بدولت بی ایڈ ہوگئے۔ ورنہ مجھے یقین تھا کہ وہ علی گڑھ سے یوں ہی چلے جاتے۔

یہ عشق بھی عجیب و غریب تھا۔ اس زمانے میں علی گڑھ میں لڑکیاں برقع پہنتیں، اور پوسٹ گریجویٹ کلاسوں میں علاحدہ بیٹھتیں۔ بڑی دعاﺅں کے بعد اگر کسی کا برقع سرک جاتا تو ایک ہلکا سا دیدار ہوجاتا۔ دیدار بھی کیا ہوتا۔ یوں سمجھیے کہ غالب کے قول کے مطابق: وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے

ایک روز شامتِ اعمال، ایک لڑکی برقع پہنے ممتاز بھائی کے پاس آئی اور اس نے ممتاز بھائی سے نوٹس مانگ لیے۔ چوں کہ وہ اپنی کلاس کے سب سے پڑھے لکھے طالب علم تھے، ان کے استاد بھی ان کے علم کا لوہا مانتے تھے۔ لڑکی کو خیال ہوا کہ طالب علم بھی اچّھے ہوں گے۔ اس نے اظہارِ خیال کردیا۔ ممتاز بھائی نے اس کی شکل نہیں دیکھی اور عاشق ہوگئے۔

اس کے لیے راتوں رات نوٹس تیار کیے۔ ایک کاپی بھر دی۔ اب تو وہ متاثر ہوئی اور اس نے باقاعدہ ان سے مدد لینا شروع کردی۔ ممتاز حسین نے اردو میں چند بہترین افسانے بھی لکھے ہیں، لیکن وہ عشقیہ خطوط نہیں لکھ سکتے۔ چناں چہ یہ فرض حسن امام، مونس رضا اور راقم الحروف نے ادا کیا۔ بہرحال یہ سلسلہ چلتا رہا۔

ایک روز ہم لوگوں نے اصرار کیا کہ ممتاز بھائی ہم لوگ اتنا کام کرتے ہیں، مشورے دیتے ہیں، آخر ہم لوگ بھی تو آپ کی محبوبہ کو دیکھیں۔ چناں چہ ایک روز ہم لوگ بھی پہنچے۔ وہاں متعدد برقع پوش عورتیں تھیں۔ ممتاز بھائی سے پوچھا کہ ”ان میں سے آپ کی محبوبہ کون ہے؟“

ممتاز بھائی خود بھونچکا تھے۔ کہنے لگے میں کیا بتاﺅں۔ میں نے خود کون سی دیکھی ہے؟

(یہ دل چسپ واقعہ کتاب “علی گڑھ سے علی گڑھ تک” میں‌ شامل ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں