The news is by your side.

Advertisement

مقتول کو مفتون پڑھنے والے دیوان سنگھ کی کہانی

1924 میں سردار دیوان سنگھ مفتون نے دہلی سے اپنا مشہور ہفتہ وار با تصویر اخبار ”ریاست“ نکالا جو اپنے مواد اور ہیئت یا صورت و سیرت دونوں کے لحاظ سے اعلیٰ پائے کے انگریزی جرائد کی ہمسری کا دعویٰ کرسکتا تھا۔

یہ اخبار جسے اردو صحافت میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے سال ہا سال تک نکلتا رہا۔ صحافت میں سردار دیوان سنگھ مفتون اس قول پر پوری ایمان داری سے عمل پیرا تھے کہ ”اخبار نویس دنیا میں ان لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے پیدا ہوا ہے جو مصائب میں مبتلا ہوں۔ ان لوگوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں جو عیش و آرام میں زندگی بسر کررہے ہوں۔“ چنانچہ ان کا اخبار ”ریاست“ مظلوموں کی پناہ گاہ تھا۔

ستم رسیدہ لوگ اپنی شکایتیں لے کر ان کے پاس پہنچتے تو وہ یہ تحقیق کرلینے کے بعد کہ ان کی شکایت صحیح ہے ان کی حمایت پر کمر بستہ ہوجاتے۔ ”ریاست“ نے دیسی ریاستوں اور رجواڑوں کے حکم رانوں کی سیاہ کاریوں اور سازشوں، حکومت اور پولیس کی چیرہ دستیوں اور معاشرے کی نا ہمواریوں اور ظلم و جبر کو آشکارا کرکے اردو صحافت میں آزادیِ رائے اور بے لاگ تنقید و احتساب کی ایک روشن روایت قائم کی۔

دیوان سنگھ مفتون نے زندگی کے ہفت خواں طے کرنے کے لیے مختلف کام سیکھے اور مختلف پیشے اختیار کیے۔ ساتھ ساتھ حصولِ علم کے لیے ذاتی مطالعہ بھی جاری رہا۔ پڑھنے کے ساتھ لکھنے کا شوق بھی پیدا ہوا اور اس شوق کے طفیل صحافت کا ایسا چسکا پڑا کہ پھر ساری عمر کے لیے اِسی کے ہوکر رہ گئے۔ سید جالب دہلوی اور خواجہ حسن نظامی جیسے جید صحافیوں سے انھوں نے صحافت کے گُر بڑی کھکھیڑ اٹھاکر سیکھے اور خود اپنی محنت اور تگ و دو سے اردو صحافت میں تاریخ ساز کارنامے انجام دیے۔

یہاں یہ اَمر آپ کی معلومات میں دل چسپی میں اضافے کا باعث ہوگا کہ سردار دیوان سنگھ کے ساتھ”مفتون“ کا لاحقہ کیسے لگا۔ کہیں آپ اسے ان کا تخلص تو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ قصہ یہ ہے کہ جس زمانے میں وہ خواجہ حسن نظامی کے صحافت میں شاگرد تھے ان کی کسی تحریر پر اصلاح دینے کے بعد خواجہ صاحب نے، جو خاصے بزلہ سنج واقع ہوئے تھے، ایک تہدیدی نوٹ لکھا جس میں انھیں مخاطب کرتے ہوئے ان کے نام دیوان سنگھ کے ساتھ ”مقتول“ کا لاحقہ لگا دیا۔ انھوں نے ”مقتول“ کو ”مفتون“ پڑھا اور اسے استاد کی طرف سے اپنی عزت افزائی سمجھتے ہوئے اپنے نام کا مستقل جزو بنالیا۔
(خلیق ابراہیم خلیق کے مضمون سے خوشہ چینی)

Comments

یہ بھی پڑھیں