The news is by your side.

Advertisement

موجودہ دور میں‌ بی۔ اے کی ڈگری کارآمد تعویذ!

آپ چاہیں مانیں یا نہ مانیں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں، مگر موجودہ دورِ جمہوریت کا یہ ایک اٹل اور متفقہ فیصلہ ہے کہ علم و ادب کے تمام مدارج طے کر لینے کے بعد بھی سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو گریجویٹ نہیں۔

اپنی جملہ جہالتو ں کے باوجود سب سے بڑا عالمِ وقت وہ ہے جس نے کسی یونیورسٹی سے بی۔ اے کی سند حاصل کی ہے۔

بات یہ ہے کہ اب سے چالیس برس قبل بی۔ اے کی ڈگری ایک ایسا کارآمد تعویذ اور ایک ایسی جادو کی پڑیا ثابت ہو چکی ہے کہ آپ نے ادھر اس کو استعمال کیا، اُدھر کھل جا سم سم کی آواز کے ساتھ ملازمت کے دروازے کھل گئے اور آپ نے مٹھیاں بھر بھر کر اپنے دامنِ افلاس کو رشوتوں اور مقررہ تنخواہوں سے پُر کرنا شروع کردیا۔

بی۔ اے کی ڈگری معیارِ علم، معیارِ قابلیت اور معیارِ ذہانت تصور کی جاتی تھی۔ یہی ڈگری گھر والوں اور بزرگوں سے ہر معاملہ میں مشورہ طلب کرواتی تھی اور اسی پر سوسائٹی میں عزت و ذلت کا دار و مدار تھا۔

والدین نے صاحبزادے کے ہاتھ میں بی۔ اے کی ڈگری دیکھی اور سمجھ گئے کہ صاحبزادے اپنی جملہ جہالتوں کے باوجود قابل ہوگئے۔ اس کے بعد اگر خاندان میں کوئی کٹھن سے کٹھن مرحلہ درپیش ہو تو سب نے آنکھ بند کر کے مشورہ دیا کہ شفاءُ الملک حکیم بی۔ اے صاحب سے رجوع کیجیے۔ اس معاملے میں صحیح مشورہ وہی دے سکتے ہیں، کیوں کہ وہ بی۔ اے پاس ہیں۔ چناں چہ ان کو بلا کر سب سے پہلے ان کی بی۔ اے پاس رائے دریافت کی جاتی تھی۔ وہ باوجود گھریلو اور شادی بیاہ کے معاملے نا تجربہ کار اور ناواقف ہونے کے معاملے کو آنکھیں بند کر کے اس طرح سنتے گویا سمجھ بھی رہے ہیں۔

ان کی رائے کو ایک فلسفی، ایک مفکر اور ایک نجومی کی رائے سمجھ کر قبول کر لیا جاتا اور ہر شخص واہ وا اور سبحان اللہ کی آوازیں بلند کرتا۔ رفتارِ زمانہ نے اس چیز کو ایک رسم کی شکل دے دی اور اب اس دورِ جہالت میں بھی وہ جوں کی توں سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہے۔

اور آج کل بھی بی۔ اے پاس صاحبزادے کی دستار بندی اس پرانی وضع پر ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ بی۔ اے پاس لڑکیاں اور لڑکے اپنے آپ کو افلاطونِ وقت اور سقراطِ دوراں سمجھتے ہیں۔“
(فرقت کاکوری کے قلم سے)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں