The news is by your side.

Advertisement

مادھو، جس نے لاہور کے نوجوان شعرا کو پریشان کر دیا تھا!

عشق، مشک اور شاعری یہ تین چیزیں کبھی چھپی نہیں رہا کرتیں۔ ان کی خوش بُو پھیلے ہی پھیلے۔

اس شہر لاہور میں ایک نوجوان تھا جو نظم پہ نظم باندھے چلا جارہا تھا اور چھپا کر رکھے چلا جارہا تھا۔ شاعری جب بہت ہو گئی اور اس کے لیے چھپا کر رکھنا مشکل ہو گیا تو اس نے شہر میں ایک رازداں تلاش کیا۔

یہ صفدر میر تھے۔ اس سادہ دل نے اپنی نظموں کی کاپی صفدر میر کے سپرد کر دی اور تاکید کی کہ کسی دوسرے تک یہ راز نہ پہنچے۔ یہ 60ء کی آس پاس کا ذکر ہے۔ ان دنوں لاہور شہر میں نوجوان شاعروں کی ایک پوری ٹولی نئی شاعری کا طوفان اٹھا رہی تھی۔

انہی دنوں کراچی سے محمد حسن عسکری کے سائے میں ایک ادبی پرچہ نکلا۔ صفدر میر سے شاعری کی یہ کاپی اسمگل ہو کر اس رسالہ میں پہنچ گئی۔ وہاں یہ نظمیں چھپیں۔ بس اس کے ساتھ ہی ایک نئی قسم کی شاعری کی خوش بُو کراچی سے لاہور تک پھیل گئی۔ شاعر کا نام پھر بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ نظمیں مادھو کے نام سے شائع ہوئیں۔

لاہور کے نوجوان نئے شاعر سخت پریشان کہ یہ مادھو کون ہے مگر مادھو تو ان کے بیچ میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اتنا سیدھا سادہ اور خاموش قسم کی شے تھا کہ انہیں اس پر شاعر ہونے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا۔

وہ روز کوئی کتاب بغل میں دابے پجامہ قمیص پہنے ٹی ہاﺅس آتا۔ نئے شاعروں کے بیچ میں بیٹھ کر خاموشی سے شاعری پر بحثیں سنتا۔ پھر بیزاری سے لمبی جمائی لیتا اور اٹھ کر چلا جاتا۔

رفتہ رفتہ یہ بات نکل گئی کہ زاہد ڈار مادھو ہے۔ تب نئے شاعر اس غریب پر بہت لال پیلے ہوئے کہ تم نے یہ نظمیں لکھی ہیں۔ اس نے بہت انکار کیا مگر بالآخر اسے اعتراف کرنا پڑا اور پھر وہ مادھو کا نقاب اتار کر سیدھا زاہد ڈار بن کر میدانِ شاعری میں اتر آیا اور 65ء آتے آتے اس نے اپنا مجموعہ کلام بھی ”درد کا شہر“ کے نام سے چھپوا دیا۔

شاعر بالعموم رفتہ رفتہ کر کے مانے جاتے ہیں مگر زاہد ڈار تو بس آناً فاناً جانا پہچانا شاعر بن گیا، مگر شاعر اب پھر پردۂ اخفا میں ہے۔ اس کی نظم کسی رسالہ یا کسی اخبار میں نہیں دیکھی جاتی۔

میں نے پوچھا کہ کیا تم نے شاعری سے توبہ کرلی ہے؟ جواب دیا کہ شاعری تو میں نے شروع ہی اب کی ہے۔

پہلے کیا کر رہے تھے؟

دل لگی۔ بات یہ ہے کہ شاعری محبت کے بغیر تو نہیں ہو سکتی۔

پھر اس شاعری کو باہر کیوں نہیں لاتے؟ اس نے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنی طرف سے اور بات کہی۔

کہا کہ ”شاعری میرے لیے فارم کا نام نہیں تجربے کا مسئلہ ہے۔ یہ تجربہ کسی بھی شکل میں اظہار پا سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کسی وقت رقص میں اظہار پا جائے۔“

زاہد ڈار کو اس کی شاعری نہیں اس کی زندگی کا طور بھی دوسرے شاعروں سے الگ کرتا ہے۔

سچ پوچھو تو اب اردو شاعری میں بے عمل شاعر ایک زاہد ڈار ہی رہ گیا ہے ورنہ سب شاعر اور سب ادیب صاحبِ عمل ہیں اور زندگی کی دوڑ میں شامل ہیں۔

زاہد ڈار کے لیے زندگی کی دوڑ اس قدر ہے کہ ایک عدد کتاب کے ساتھ صبح ہی گھر سے نکلنا اور سواری کا مرہونِ منت ہوئے بغیر ٹی ہاﺅس پہنچنا اور وہاں بیٹھ کر پوری کتاب ختم کر ڈالنا۔ کہتا ہے کہ بعض ادیب ادب برائے ادب کے قائل رہے ہیں۔ بعض ادب برائے زندگی کے قائل ہیں۔ میں زندگی برائے شاعری کا قائل ہوں۔

کتاب پڑھنا بھی زندگی برائے شاعری ہی کے ذیل میں آتا ہے۔ ویسے کتاب پڑھنے کے سلسلے میں بھی زاہد ڈار کی ایک سنک ہے۔ انگریزی کتابیں بہت پڑھنے کے بعد اس نے یہ طے کیا کہ صرف اردو پڑھو اور صرف اردو لکھو۔ اب اس کا طور یہ ٹھہرا ہے کہ اردو کی جو کتاب نظر آتی ہے وہ اچھی ہو یا بری اسے پڑھ ڈالتا ہے۔ زاہد ڈار اردو کا وہ واحد قاری ہے جس نے اردو کی معیاری کتابوں کے ساتھ اسی زبان میں لکھی ہوئی گھٹیا کتابیں بھی اسی ذوق و شوق سے پڑھی ہیں۔

لاہور کی مال روڈ بہت خوش نصیب ہے۔ نئی سواریوں کی بہتات کے باوصف اسے ہر دور میں کوئی نہ کوئی پیادہ پا مل ہی جاتا ہے۔ اب سے پہلے بالعموم گرمیوں کی عین دوپہر میں اس کے فٹ پاتھ پر مولانا صلاح الدین سوٹ پہنے‘ ہیٹ لگائے‘ چھڑی ٹیکتے نظر آتے تھے۔ اب وقت بے وقت کبھی دوپہر میں‘ کبھی دن ڈھلے‘ کبھی شام پڑے زاہد ڈار کتاب دَر بغل ان فٹ پاتھوں پر بھٹکتا نظر آتا ہے۔

اس کے یہاں بھٹکنے کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس وقت ٹی ہاﺅس میں بہت ہجوم ہے اور جس کونے میں وہ اکیلا بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا، اس گوشے کا امن اس کی میز پر آ کر بیٹھنے والے ادیبوں کے ہاتھوں برباد ہو چکا ہے۔ زاہد ڈار مولانا صلاح الدّین احمد کے بعد شہر کا دوسرا پیدل ادیب ہے۔‘‘

(علم و ادب کے رسیا اور شاعر زاہد ڈار کے بارے میں‌ ممتاز ادیب اور نقّاد انتظار حسین کی ایک تحریر)

Comments

یہ بھی پڑھیں