The news is by your side.

Advertisement

”آپا! آپ کو سینا آتا ہے؟“

وہ عصمت آپا اور شاہد صاحب کی شدید مالی پریشانیوں کا دور تھا، اس کے باوجود دونوں پُرسکون تھے۔

دوپہر کو ایک خاتون آئیں۔ ایک چھوٹی سی بچی کو گود میں لے کر۔ وہ عصمت آپا کی پڑوسن تھی۔ اولاد نہیں تھی۔ عصمت آپا نے ایک ہوم سے بچی دلوادی تھی۔ عصمت آپا بڑی دیر تک اس بچی کو گود میں اٹھائے کھیلتی رہیں۔ شام کو ایک دبلی سی لڑکی ایک بڑا سا بیگ اٹھائے آئی۔

میں عصمت آپا کے کمرے میں گئی تو آپا منہ پر بال بکھیرے، گھٹنوں پر کپڑا پھیلائے کشیدہ کاری میں مصروف تھیں۔ میں تعجب کے مارے اچھل پڑی:

”آپا! آپ کو سینا آتا ہے؟“

”کہاں آتا ہے! اچھے بھلے کپڑے کی ریڑھ مارتی ہوں۔ بیچاری بے سہارا لڑکی ہے۔ کپڑے سی کر لاتی ہے۔ میں اڑوس پڑوس میں بکوا دیتی ہوں۔ یہ آرڈر کا کام ہے۔ آج ہی دینا ہے اس لیے اس کی مدد کر رہی ہوں۔“

یہ وہی عصمت چغتائی تھیں جو اپنے کڑوے سچ سے دل نوچنے میں مشہور تھیں، مگر وہ انسان کے دل تک پہنچنے کے اتنے مشکل راستے بھی جانتی تھیں۔ میں سچ مچ حیران ہو گئی تھی۔

وہ کسی کی اُداسی کے زہر کو اپنے وجود کی مٹھاس سے بدل سکتی ہیں۔ ایک فلمی کہانی لکھ کر ہزاروں روپے کمانے کی بجائے ایک غریب لڑکی کے لیے کپڑے سی سکتی ہیں؟

(نام ور ادیب جیلانی بانو کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں