The news is by your side.

Advertisement

آغا صاحب انسان نہیں!

آغا صاحب انسان نہیں اشعار کی چلتی پھرتی بیاض ہیں۔

آج سے چند برس پہلے مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے اور ہر مشاعرے میں ان کا استقبال اس قسم کے نعروں سے کیا جاتا تھا۔ ’’بیٹھ جائیے‘‘، ’’تشریف رکھیے‘‘، ’’اجی قبلہ مقطع پڑھیے‘‘، ’’اسٹیج سے نیچے اتر جائیے‘‘۔

اب وہ مشاعروں میں نہیں جاتے۔ کلب میں تشریف لاتے ہیں اور مشاعروں میں اٹھائی گئی ندامت کا انتقام کلب کے ممبروں سے لیتے ہیں۔

ادھر آپ نے کسی بات کا ذکر کیا۔ ادھر آغا صاحب کو چابی لگ گئی۔ کسی ممبر نے یونہی کہا، ’’ہمارے سیکریٹری صاحب نہایت شریف آدمی ہیں۔‘‘ آغا صاحب نے چونک کر فرمایا۔ جگر مرادآبادی نے کیا خوب کہا ہے:

آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

لیکن صاحب کیا بات ہے نظیر اکبر آبادی کی۔ آدمی کے موضوع پر ان کی نظم حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہے۔ ایک بند ملاحظہ فرمائیے:

دنیا میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
زردار، بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

کسی نے تنگ آکر گفتگو کا رخ بدلنے کے لیے کہا، ’’آج ورما صاحب کا خط آیا ہے لکھتے ہیں کہ۔۔۔‘‘

آغا صاحب ان کی بات کاٹتے ہوئے بولے، ’’قطع کلام معاف! کبھی آپ نے غور فرمایا کہ خط کے موضوع پر شعرا نے کتنے مختلف زاویوں سے طبع آزمائی کی ہے۔ وہ عامیانہ شعر تو آپ نے سنا ہوگا۔‘‘

خط کبوتر کس طرح لے جائے بامِ یار پر
پَر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر

اور پھر وہ شعر جس میں خود فریبی کو نقطہ عروج تک پہنچایا گیا ہے:

کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
ان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں

واللہ جواب نہیں اس شعر کا۔ اب ذرا اس شعر کا بانکپن ملاحظہ فرمائیے:

ہمیں بھی نامہ بَر کے ساتھ جانا تھا، بہت چوکے
نہ سمجھے ہم کہ ایسا کام تنہا ہو نہیں سکتا

اور پھر جناب یہ شعر تو موتیوں میں تولنے کے قابل ہے۔ وہ شعر ہے۔۔۔۔ شعر ہے۔۔۔ کم بخت پھر حافظے سے اتر گیا۔۔۔۔۔ ہاں، یاد آ گیا۔

لفافے میں ٹکڑے میرے خط کے ہیں۔۔۔

اتنے میں یک لخت بجلی غائب ہو گئی۔ سب لوگ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے کلب سے کھسک گئے۔

(اردو کے ممتاز ادیب اور مشہور مزاح نگار کنہیا لال کپور کے مضمون “ایک شعر یاد آیا” سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں