The news is by your side.

Advertisement

‘ڈریسنگ’

دفتر سے تھکا ہارا شوہر گھر آیا، چہرہ تو اترا ہوا تھا ہی، کپڑے بھی اتارے اور خود ’’باتھ ٹب‘‘ میں اتر گیا، تب کہیں جا کر تھکن اتری، اب کھانے کا انتظار ہے، وقت گزارنے کے لیے کمپیوٹر پر اپنی ’’میلز‘‘ دیکھنے لگا۔

آدھا گھنٹہ گزر گیا مگر کھانا ندارد۔ بیگم کو آواز لگائی، بیٹی نے آ کر بتایا ’’امی ڈریسنگ کر رہی ہیں‘‘ یک دم غصہ آ گیا۔ بھڑک کر اٹھا، ’’یہ کون سا وقت ہے ڈریسنگ کا؟‘‘ بیٹی نے پیار سے سمجھایا۔ ’’امی کھانے کی ڈریسنگ کر رہی ہیں۔‘‘ غصہ اور شوہر دونوں جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔

پاکستان میں صرف کپڑوں کی ڈریسنگ تھی، یہاں ہر کھانے کی۔ یہاں بیگمات صرف ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے نہیں بلکہ کچن میں بھی ڈریسنگ کرتی ہیں چاہے وہ پیزا ہو یا سبزی پُلاؤ، ڈریسنگ کے بغیر کوئی بھی ڈش اچھی نہیں لگتی۔ ہر ڈش 15 منٹ میں پک جاتی ہے اور اس کی ڈریسنگ پر گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

پاکستان میں ہر گھر میں صرف ایک ’’ساس‘‘ ملتی تھی، یہاں کچن طرح طرح کی ’’ساس‘‘ (Sauce) سے بھرا ہوتا ہے۔

یہاں مردوں اور عورتوں کو اپنی ڈریسنگ کی فکر کم ہی رہتی ہے۔ مہینے میں 25 دن تو ’’جاب‘‘ پر گزرتے ہیں۔ بقیہ پانچ دنوں میں چار دن گھر اور بچوں کی صفائی ستھرائی، دیکھ بھال اور گروسری کی خریداری پر صرف ہو جاتے ہیں۔ اب ایک دن کے لیے کیسے ڈریسنگ کرے؟

ہمیں تین سال ہو گئے، پاکستان سے جو کپڑے لائے تھے، ا ب تک وہ سارے بھی پہن نہیں پائے۔

ناصر کاظمی بہت یاد آتے ہیں۔ شاید انہوں نے پاکستانی کینیڈینز ہی کے لیے کہا تھا کہ:

نئے کپڑے پہن کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا، میں باہر جاؤں کس کے لیے

پاکستان میں ہر ایک کا اپنا سنگھار تھا۔ جو ذہین ہوتے تھے، وہ ذہن کی ڈریسنگ کر کر کے محترم بن جاتے تھے۔ جو امیر ہوتے تھے وہ قرضے لے لے کر ہڑپ کر کر کے امیر ترین بن جاتے تھے۔ جو غریب ہوتے تھے وہ سوچ سوچ کر اور کڑھ کڑھ کر مزید غریب ترین ہو جاتے تھے۔ جو بے کار پھرتے تھے، ایک دن ’’گھر داماد‘‘ بن جاتے تھے۔

جو لاچار ہوتے تھے، بیویاں ان کی ڈریسنگ کر کے ’’آئیڈیل شوہر‘‘ بنا لیتی تھیں۔ شرفاء اپنی اَنا مار کر گونگے بن جاتے تھے۔ گونگوں کی ڈریسنگ انہیں ’’عوام‘‘ بنا دیتی تھی۔ جو پڑھ لکھ کر اپنی ڈریسنگ کرتے تھے، وہ بالآخر بیوروکریٹ بن جاتے تھے۔

جو نہیں پڑھ پاتے تھے، ان کی ڈریسنگ انہیں ’’اداکار‘‘ بنا دیتی تھی اور جو اداکار ہوتے تھے، وہ آخر کار سیاست دان بن جاتے تھے۔

(از قلم مرزا یٰسین بیگ)

Comments

یہ بھی پڑھیں