The news is by your side.

Advertisement

کہیں سے دو مینڈک حاصل کیجیے اور…

وہ جو کہتے ہیں کہ مینڈکی کو زکام ہونا تو اس کے علاوہ ایک اور محاورہ ہے جس سے آپ واقف نہیں ہوں گے کہ مینڈک چلا مینڈک کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔

یہ اس لیے “معرضِ وجود” میں آیا کہ دنیا بھر میں ہر مینڈک کی چال الگ الگ ہوتی ہے، چال سے مراد ان کا اچھل اچھل کر سفر کرنا ہے۔

ہر مینڈک کے اچھل کر آگے جانے کا فاصلہ کسی اور مینڈک سے مختلف ہوتا ہے۔ کئی بار کوئی مینڈک کسی خوش رفتار مینڈک کی اچھل کود کی کاپی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بری طرح ناکام رہتا ہے۔

اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو کہیں سے دو مینڈک حاصل کیجیے اور پھر جب وہ اچھلنے لگیں تو ان کی چھلانگوں کا فاصلہ ناپیے، آپ دیکھیں گے کہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

البتہ وہ مینڈک جو حزب اختلاف چھوڑ کر حزبِ اقتدار کی ٹوکری میں چھلانگ لگاتے ہیں ایک ہی جست میں یہ فاصلہ طے کر لیتے ہیں اور پھر نہایت ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ جی میں نے یہ چھلانگ ضمیر کی آواز پر کان دھرتے ہوئے لگائی ہے اور وہ نوٹ جو میری جیب میں ڈالے گئے ہیں، ان کی گرمی سے لگائی ہے۔

اقتدار حاصل کرنے کے لیے تو نہیں لگائی۔

اب آخر میں آپ کو ایک مینڈک کہانی سناتا ہوں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں نہایت صاف ستھرا اور خوب صورت، نیلے پانیوں سے لبریز ایک تالاب ہوا کرتا تھا اوراس میں بہت سے مینڈک نہایت خوش و خرم، خوش حال زندگی بسر کرتے تھے۔

ان کے بچے بھی دن رات اچھلتے زندگی سے لطف اندوز ہوتے تھے، پھر کرنا خدا کا کیا ہوا تالاب کے کناروں پر کچھ مگرمچھ آ گئے اور وہ اپنے جبڑے کھول کر تالاب کا سارا پانی پی گئے۔

مینڈک بے چارے بھوکوں مرنے لگے، آہستہ آہستہ تالاب بالکل خشک ہو گیا، مگرمچھ خوب خوش حال ہو گئے بلکہ انہوں نے غیرملکی بینکوں میں بھی دولت جمع کروا دی۔ اب یہ ہے کہ وہ مگرمچھ بھوک سے نڈھال مینڈکوں سے مذاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم تو “ڈڈو” ہو۔

ایک ہمیں ڈڈو کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

(مستنصر حسین تارڑ کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں