The news is by your side.

Advertisement

جہاز میں زاہد حسین نہیں تھا!

ہمارے ایک ٹیچر مشتاق نامی لڑکے سے بہت بیزار تھے۔

مشتاق کا کمال یہ تھا کہ اسے جو بھی مضمون لکھنے کو کہتے وہ اس میں کہیں نہ کہیں سے “میرا بہترین دوست” ضرور فٹ کردیتا تھا جو اسے فَر فَر یاد تھا۔

مثال کے طور پر اسے کہا جاتا کہ ریلوے اسٹیشن پر مضمون لکھ دو تو وہ یوں لکھتا کہ میں اور میرے ماں باپ چیچو کی ملیاں جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن گئے، وہاں گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی میں میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا- زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے، اس کے تین بہن بھائی ہیں، اس کا باپ محکمہ پولیس میں افسر ہے- زاہد حسین بہت اچھا لڑکا ہے۔

اگر اسے “میرا استاد” مضمون لکھنے کو کہتے تو وہ لکھتا۔

ماسٹر افتخار میرے پسندیدہ استاد ہیں۔ ایک روز میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا تو وہاں میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا- زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے۔ اس کے تین بہن بھائی ہیں۔ اس کا باپ محکمہ پولیس میں افسر ہے- زاہد حسین بہت اچھا لڑکا ہے۔

ظاہر ہے جب کرکٹ میچ یا پکنک کی باری آتی تو وہاں بھی زاہد حسین موجود ہوتا ہے۔ تنگ آکر ماسٹر صاحب نے کہا کہ دیکھو یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہر جگہ تمھارا دوست زاہد حسین موجود ہو۔ آج تم ہوائی جہاز پر مضون لکھو اور یاد رکھو ہوائی جہاز میں زاہد حسین موجود نہیں ہونا چاہیے۔

دوسرے دن مشتاق نے مضمون لکھا وہ اس طرح تھا۔

میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ایئرپورٹ گیا۔ وہاں جہاز کھڑا تھا، ہم اس میں بیٹھ گئے۔ جہاز میں زاہد حسین نہیں تھا۔ پھر جہاز اڑنے لگا۔ میں نے کھڑکی سے نیچے جھانکا تو زمین پر میرا بہترین دوست زاہد جا رہا تھا۔ زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے۔ اس کے تین بہن بھائی……

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں