تازہ ترین

کوئٹہ: تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے گئے 9 مسافر قتل

کوئٹہ:نوشکی کے قریب تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے...

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

سنگدل شخص نے بیوی اور 7 بچوں کو قتل کر دیا

پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں اجتماعی قتل کا...

لاہور کا ایک واقعہ!

یہ بات ۱۹۳۷ء کی ہے۔ میں ان دنوں لاہور میں تھا۔ ایک دن میرے جی میں آئی کہ چلو علّامہ اقبال سے مل آئیں۔ اس زمانے میں میرے پاس ہلکے بادامی سفید (Off White) رنگ کی ایمبسیڈر (Ambassador) تھی۔ میں اسی میں بیٹھ کر علامہ صاحب کی قیام گاہ کو چلا۔

ان کی کوٹھی کا نمبر اور وہاں تک پہنچنے کا صحیح راستہ مجھے ٹھیک سے نہ معلوم تھا، لیکن میکلوڈ روڈ، جہاں وہ رہتے تھے، اس کی جائے وقوع سے میں اچھی طرح واقف تھا۔ لہٰذا کسی خاص مشکل کے بغیر میں علامہ کے بنگلے تک پہنچ گیا۔

سڑک کچھ گرد و غبار سے بھری ہوئی لگتی تھی۔ فٹ پاتھ، یا یوں کہیں کہ فٹ پاتھ کی جگہ سڑک کے دونوں طرف کی چوڑی پٹی، خشک اور گردآلود تھی۔ علّامہ کے بنگلے کا پھاٹک اچھا خاصا اونچا، لیکن لکڑی کا تھا۔ اس پر سلیٹی رنگ کی لوہے (یا ٹین) کی چادر تھی، جس کے باعث پھاٹک بہت بھاری اور کسی پراسرار سی عمارت کا پھاٹک معلوم ہوتا تھا۔ پھاٹک کھلا ہوا تھا اور سامنے مختصر سی اندرونی سٹرک (Drive Way) تھوڑا بل کھاتی ہوئی اصل عمارت کی طرف جاتی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی۔ عمارت بلند و بالا، لیکن سال خوردہ اور ذرا بوسیدہ معلوم ہوتی تھی۔ جگہ جگہ مرمت اور ایک جگہ تعمیر نہ کے آثار بھی باہر سے دکھائی دیتے تھے۔ مجھے احسان دانش کی نظم ’’علامہ اقبال کی کوٹھی‘‘ یاد آئی جو ایک دو مہینہ پہلے ’’خیام‘‘ یا ’’عالم گیر‘‘ میں چھپی تھی۔ نظم میں کوٹھی کی خستہ حالی پر افسوس اور رنج کا اظہار تھا۔ آخری شعر تھا:

سنتا ہوں کہ اب ہو گئی کوٹھی کی مرمت
احسان اسے دیکھنے جاؤں گا دوبارہ

میں کچھ دیر اس شش و پنج میں رہا کہ گاڑی اندر تک لیے چلا جاؤں، یا فٹ پاتھ ہی پر چھوڑ دوں۔ پھرمیں نے دل میں کہا، ممکن ہے پورٹیکو میں اور کوئی گاڑی کھڑی ہو اور میں اپنی گاڑی اندرونی سڑک پر کھڑی کر دوں تو شاید کسی کا راستہ رک جائے۔ لہٰذا میں نے گاڑی وہیں سڑک کے کنارے لگا دی اور باہر آ یا۔ تب میں نے دیکھا کہ میرے مقابل فٹ پاتھ پر دو تین گمٹیاں ہیں، جیسی کہ پان سگریٹ والے رکھتے ہیں۔ ان گمٹیوں پر نوجوانوں اور بے فکروں کا مجمع سا تھا۔ کچھ نو عمر لڑکے بھی تھے۔ مجھے افسوس ہوا کہ ان کم بختوں کو لکھنے پڑھنے سے مطلب نہیں کہ یہاں پان کی دکان پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔

میں ابھی گاڑی کو تالا لگا ہی رہا تھا کہ اچانک سڑک پار کرکے پانچ سات نو عمر لڑکے میری طرف لپکے۔ ان کے انداز اور ہاتھوں کے اشارے سے مجھے ایسا لگا کہ وہ کچھ مانگ رہے ہیں۔ میں نے دل میں کہا کہ یہ تو اور بھی برا ہے۔ یہ لونڈے پیشہ ور بھاری معلوم ہوتے ہیں۔ یقیناً منظم اور مجرمانہ طور پر بھیک منگوانے والوں کا کوئی گروہ ہوگا جو انہیں اس طرح استعمال کر رہا ہوگا اور ان کی زندگیوں کو بھاڑ میں جھونک رہا ہوگا۔ جب تک میں گاڑی کے دروازے سے چابی نکالوں نکالوں، کوئی چار پانچ لڑکے اورایک دبلا پتلا منحوس صورت شخص، جس کی شکل سے ہی خباثت ٹپک رہی تھی، اچانک میرے پاس پہنچ گئے اور قریب تھا کہ ان کے ہاتھ میرے کوٹ تک پہنچ جائیں۔

میں یہ دیکھ کر لرز گیا کہ وہ لڑکے نہ محلے کے ان پڑھ بے فکرے آوارہ گرد تھے اور نہ بھیک منگے۔ وہ تو کسی قسم کے پیشہ ور معلوم ہوتے تھے، اپنے جسم کی تجارت کرنے والے۔ میں نے دل میں کہا، معاذاللہ، یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ہوں؟ یہ بھرا پرا شہر، دن کا وقت، شریفوں کا محلہ اور یہ پیشہ ور لونڈے؟

اب میں نے جانا کہ وہ ہاتھ میرے کوٹ کی جیبوں تک پہنچنا نہیں بلکہ میرے دامن کو تھامنا چاہتے تھے۔ وہ لوگ مجھ سے کوئی سودا کرنا چاہتے تھے۔ دس دس بارہ بارہ سال کے لونڈے، جن کی آنکھوں میں لڑکپن کی معصومیت کی جگہ عجیب شیطانی چمک تھی، چہروں پر وہ پختگی اور پھیکاپن تھا جو بڑے عمر کے لوگوں کے چہروں پر بھی شاذ ہی نظر آتا ہے۔ میں نے نفرت سے انہیں جھٹک کر ایک طرف ہو جانا چاہا تو وہ میرے پیچھے لپکے۔ توبہ! ایسا تو سنسنی خیز افسانوں میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ یہ واقعہ ہے یا کوئی دیوانہ پن جس میں سے دوچار ہوں، میں نے دل میں کہا۔ پھر تقریباً جست لگاتا ہوا ان کے نرغے سے نکل کر میں علامہ کے پھاٹک میں داخل ہو گیا۔

خدا کا شکر ہے کہ اندر آنے کی ہمت ان بدمعاشوں کو نہ ہوئی۔ پھاٹک تو کھلا ہی ہوا تھا، لیکن وہ پھاٹک کے کھمبے کے پاس آکر یوں رک گئے جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہو۔ میں نفرت سے اپنے ہاتھ اور کپڑے جھاڑتا ہوا دوڑ کر بنگلے کے پورٹیکو میں داخل ہو گیا۔

اب واللہ اس ملاقات کی تفصیل کچھ یاد نہیں۔ اتنا خیال میں ہے اور وہ بھی دھندلا سا، کہ حضرت علامہ بڑی شفقت سے پیش آئے۔

میں نے گھنٹی بجائی توا یک بڑے میاں جو وضع سے ملازم اور رشتہ دار کے بین بین لگتے تھے، فوراً برآمد ہوئے۔ میری اطلاع لے کر اندر گئے اور تقریباً الٹے ہی پاؤں واپس آکر مجھ سے کہا کہ علامہ صاحب گول کمرے میں تشریف رکھتے ہیں، آپ آ جائیں۔ کچھ یاد نہیں کہ باتیں کس موضوع پر ہوئیں۔ میں ریلوے کا انجینئر، مجھے شاعری سے ذوق تو تھا (اب بھی ہے) اور مجھے علامہ کا بہت سا کلام زبانی یاد بھی تھا، لیکن اس ذوق کے سوا میرے پاس کچھ نہ تھا جو مجھے علامہ سے ہم کلام ہونے کا اہل بناتا۔ یہ بخوبی یاد ہے کہ علامہ نے مجھے بالکل احساس نہ ہونے دیا کہ میری ملاقات ان کے لیے ایک کار فضول سے زیادہ نہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسی بات کہی جس سے مجھے اپنے جہل کا احساس ہوتا۔

ملاقات کوئی آدھ گھنٹہ رہی۔ پھر میں نے اجازت لے کر سلام کیا۔ علامہ صاحب کمرے سے باہر تک مجھے چھوڑنے آئے۔ ایک بار جی میں آئی ان سے درخواست کروں کہ آپ کے دروازے کے باہر سڑک کی پرلی طرف جو طائفہ شیاطین ہے، اس کا کچھ تدارک کریں۔ لیکن میری ہمت نہ پڑی اور پھر اس معاملے سے ان کا مطلب ہی کیا تھا؟ یہ کام تو پولیس والوں کا تھا۔ علامہ کو شاید خبر بھی نہ رہی ہو کہ سڑک پار کی گمٹیوں پرکس طرح کا ہجوم رہتا ہے۔

میں پورٹیکو سے باہر آیا تو اندرورنی سڑک (Drive Way) پر سرمئی رنگ کی ایک پرانی آسٹن اے چالیس (Austin-A40) کھڑی تھی۔ علامہ کی تو نہ ہوگی، کیونکہ میں نے کہیں سنا تھا کہ ان کے پاس ان دنوں ایک بڑی سی فورڈ تھی۔ خیر، کوئی ملنے والا آیا ہوگا، میں نے دل میں کہا۔ اچھا ہی ہوا جو میں نے اپنی کار باہر کھڑی کی۔

میں علامہ صاحب سے ملاقات کی خوشی میں مگن باہر نکلا۔ ایک لمحے کے لیے میں بھول گیا تھا کہ ان لوگوں سے پھر سابقہ پڑ سکتا ہے۔ لیکن باہر سڑک پر آکر میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ کئی لڑکے میری کار کے پاس کھڑے تھے اور کار کو ڈھکیل ڈھکال کر اس کا رخ مخالف سمت میں کر دیا گیا تھا۔میں کچھ حواس باختہ سا، لیکن ہمت کر کے گاڑی کی طرف بڑھا تو وہ لونڈے مجھ سے تقریباً چمٹ گئے۔ ان کے بدن سے عجیب طرح کی حیوانی اور چکنے تیل کی سی بو آ رہی تھی۔ ابھی میں فیصلہ نہ کر پایا تھا کہ ان سے کس طرح نپٹوں، کہ ایک لمبا سا دبلا پتلا شخص، جو خاکی مائل ملگجے پیلے رنگ کی لمبی قمیص اور اسی کپڑے کی شلوار پہنے ہوئے تھا، میری طرف لپکا۔ اس کے چہرے پر بداخلاقی اور بےحیائی کے آثار اس قدر نمایا ں تھے کہ میری طبیعت گنگنا گئی، جیسے میں نے کسی بھیگی لجلجی چیز کو چھو لیا ہو۔ اس وقت میں سڑک کی جانب تھا اور وہ میرے دائیں ہاتھ پر فٹ پاتھ کے رخ پر تھا۔

میں نے پلٹ کر اسے ایک ٹھوکر لگانی چاہی تو اس نے اپنی ٹانگ میری طرف بڑھا کر مجھے روکنا چاہا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میری ٹانگ کچھ اس طرح اس کی ٹانگ سے الجھی کے وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور اچل کر چھپاک سے فٹ پاتھ کے نیچے گہری نالی میں جا رہا۔ میں نے موقع غنیمت جان کر لپکتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا، دل میں دعا کر رہا تھا کہ گاڑی فوراً اسٹارٹ ہو جائے۔ بارے دعا قبول ہوئی۔ چابی لگاتے ہی گاڑی بڑی خوبی سے اسٹارٹ ہو گئی۔ میں نے گاڑی گیئر میں ڈالی اور ایکسیلٹر پر پاؤں پورے زور سے داب دیا۔

گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھی۔ میرا ارادہ تھاکہ چند ہی لمحے بعد فرسٹ گیئر سے سیکنڈ میں آجاؤں گا، کیونکہ سیکنڈ میں طاقت بہت تو ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی اس میں رفتار تیزی سے سڑھانے کابھی امکان رہتا ہے۔ حسب ارادہ میں نے گاڑی سیکنڈ میں ڈالی ہی تھی کہ محسوس ہوا گاڑی چل نہیں پار ہی ہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی طاقت اسے پکڑ کر الٹی طرف کھینچ رہی ہو۔ میں نے پیچھے نگاہ کی تو دیکھا کہ کئی لونڈے کار کے بمپر اور بوٹ سے چپکے ہوئے پورا زور لگاکر گاڑی کو آگے بڑھنے سے روکنے میں مصروف تھے۔ ادھر میں ایکسی لیٹر پر پاؤں پورے زور سے دبائے ہوئے ہوں، ادھر وہ دس بارہ بچے گاڑی کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور اس کامیابی سے کہ گاڑی کی رفتار چیونٹی کی رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔

میں نے کندھے سکوڑ کر سر کو یوں جھکا لیا گویا خطرہ میرے پیچھے نہیں، بلکہ سامنے ہے اور میں پوری قوت کے ساتھ سامنے کسی چیز سے ٹکرانے والا ہوں۔ سر جھکاکر اور بدن چراکر میں نے اپنی پوری قوت ارادی و جسمانی اس بات پر لگا دی کہ گاڑی کو اتنی ریس دوں کے ان غول بچوں کو جھٹکتا ہوا نکل جاؤں۔ لیکن ان پلیدوں میں خدا معلوم کتنی طاقت آ گئی تھی کہ میرا پندرہ ہارس پاور کا انجن، میری اپنی قوت مدافعت، سب بے کار ثابت ہو رہی تھیں۔ گاڑی بس گھسٹتی ہی رہی اور سو پچاس گز ہی کے اندر مجھے یقین ہو گیا کہ یا تو گاڑی اب بہت جلد بند ہو جائےگی، یا ان لونڈوں کی طاقت اسے آگے بڑھنے سے روک ہی دےگی۔

میں اب سراسیمہ ہو چلا تھا۔ میرے ذہن میں بس یہ بات گردش کر رہی تھی کہ یہ گاڑی جسے میں اپنی حفاظت و مدافعت کے لیے کافی سمجھ رہا تھا، میرے لیے موت کا پھندا، یا فنا کا جال ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر میں اسی میں بندرہ گیا تو چند ہی منٹ جاتے ہیں کہ یہ غولان شیطانی مجھے آگے بڑھنے سے روک دیں گے، مجھے گاڑی سے کھینچ لیں گے اور پھر خدا جانے میری کیا درگت بنائیں۔ وہ شخص، جسے میں نے نالی میں ڈھکیل دیا تھا، وہ تو شاید میری تکا بوٹی کر کے پھینک دے۔

اب، کئی سال بعد میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میرا استدلالی، ترقی یافتہ دماغ، جسے اصطلاح میں ’’یمینی دماغ‘‘ یا Right Brain کہتے ہیں، معطل ہو چکا تھا اور میں اپنے ’’یساری دماغ‘‘ یعنی Left Brain کے قبضے میں تھا۔ یساری دماغ، جسے Reptilian Brain بھی کہتے ہیں، انسانوں، رینگنے والے جانوروں اور انڈا دینے والے جانوروں میں مشترک ہے۔

کہا گیا ہے کہ ارتقائی عمل کے کروڑوں برس نے اس دماغ کو پیدا کیا اور چونکہ یہ دماغ رینگنے والے جانوروں اور پھر انڈا دینے والے جانوروں سے ہو کر انسان تک پہنچا ہے، اس لیے اسے حشراتی دماغ Reptilian Brain بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے بنیادی اور ’سفلی‘ جذبات سب اسی دماغ میں پیدا ہوتے ہیں۔ شہوت، خوف، بھوک کا احساس، تشدد، تحفظ جان، خطرے سے فرار اختیار کرنا وغیرہ سب جبلتیں اسی دماغ کی دین ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر جرائم پیشہ لوگوں، خاص کر قاتلوں اور زنا بالجبر کے مرتکب لوگوں میں یساری دماغ کو سمینی دماغ سے زیادہ فعال پایا گیا ہے۔ اس کی جگہ چونکہ سر کے بائیں اور نچلے حصے میں ہے، اس لیے اسے ’یساری‘ کہتے ہیں۔ اس کے برخلاف، یمینی یا Right Brain کا ارتقاء اور بھی کئی کروڑ برس میں ہوا۔ استدلال، درون بینی اور تعقل کی صفات اسی یمینی دماغ کی پیداوار ہیں۔

یساری دماغ کو استدلال اور تعقل اور پچھتاوے سے کوئی علاقہ نہیں۔ جب یہ دماغ حاوی ہو جاتا ہے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے۔ بعض دماغی مریضوں میں بھی یمینی دماغ کی کمزوری اور یساری دماغ کی مضبوطی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

بہرحال اس وقت مجھے ایک ہی دھن تھی، کہ کسی طرح اس گاڑی سے نکل بھاگوں۔ گاڑی میں جائے قیام نہ تھی تو باہر جائے فرار ضرور ہوگی، یہ میرا استدلال تھا۔ لیکن گاڑی کس طرح چھوڑوں اور کس مقام پر، یہ ابھی سمجھ میں نہ آیا تھا۔

اچانک میں نے ایک عجیب بات محسوس کی۔سڑک پر کوئی راہ گیر نہ تھا۔ خالی راستہ قطعاً سنسان، بھائیں بھائیں کرتا معلوم ہوتا تھا۔ خالی شہر ڈراؤنا کھڑا تھا چاروں اور میرے ذہن میں کبیر کا مصرع آیا۔ میکلوڈ روڈ پرزیادہ بھیڑ بھاڑ تو کبھی نہ ہوتی تھی، لیکن بالکل سناٹا بھی نہ ہوتا تھا۔ ایک دو موٹریں تو منٹ دو منٹ پر گذر ہی جاتی تھیں۔ علامہ صاحب کے مکان سے ذرا آگے علامہ کے مشہور دوست سرجگندر سنگھ کا عظیم الشان بنگلہ تھا۔ (کیسے پتے کی بات جگندر نے کل کہی۔) ان کے پھاٹک پرا یک دو ملازم بھی ہمیشہ کھڑے نظر آتے تھے۔ سردار صاحب کے بنگلے کے ذرا ہی فاصلے پر بہرام جی خدائی جی کی دکان ایک بنگلہ نما مکان میں تھی۔ یہ لوگ ولایت سے عمدہ قسم کی شرابیں اور سگار منگاتے تھے۔ کوئی ایک دو فرلانگ پر وہائٹ وے، لیڈلا (Whiteway, Laidlaw) کی عالی شان دو منزلہ دکان تھی۔ اس کے سامنے دو چار موٹریں، ایک دو شکر میں، پان سات بگھیاں، تو ہر وقت ہی کھڑی رہتی تھیں۔ آج خدا جانے کیابات تھی کہ نہ وہ کوٹھیاں دکھائی دیتی تھیں، نہ کوئی دکان ہی نظر آئی تھی۔ حتیٰ کہ پولیس کاکوئی سپاہی بھی ٹریفک چوراہے پر نہ تھا۔

اب جو غور کرتا ہوں تو خیا ل آتا ہے کہ میری رفتار اس قدر دھیمی تھی کہ بس چیونٹی کی چال سمجھیے اور جن عمارتوں، دکانوں کا میں نے اوپر ذکر کیا، وہ مجھ سے چند فرلانگ تو تقریباً دور تھیں، اس وقت کہاں سے دکھائی دے جاتیں؟ لیکن میں نے کہا نا کہ اس وقت میرا انسانی دماغ نہیں، بلکہ حشراتی دماغ مجھ پر حاوی تھا۔ آج مجھے یقین ہے کہ اگر میں ہمت کر کے اس گاڑی کو چلاتا رہتا، اسپیڈ چاہے جو بھی رہتی، تو دس پانچ منٹ میں کسی محفوظ یا آبادی والی جگہ پر ضرور پہنچ سکتا تھا۔ میرا پیچھا کرنے والے مجھ پر ہرگز ہاتھ نہ ڈال سکتے تھے۔ گاڑی کو وہ بالکل روک نہ سکتے تھے اور اگر وہ گاڑی کو چھوڑ کر کھڑکی کی راہ سے مجھ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے تو میں بآسانی اتنی دیر میں گاڑی کی رفتار بڑھاکر ان کے خطرے سے آزاد ہو سکتا تھا۔ لیکن اس وقت تو یہ لگ رہا تھا کہ یہ گاڑی نہیں موت کی کوٹھری Death Cell ہے۔ اگر میں اسی میں بیٹھا رہا تو موت کا شکار ہو جاؤں گا۔

میں نے دل میں کہا کہ اگر کوئی مضبوط کھمبا، یا دیوار، راستے میں ملے تو گاڑی اس سے ٹکرا دوں۔ دھماکہ ہوگا تو دس پانچ لوگ لامحالہ جمع ہو جائیں گے۔ ممکن ہے کوئی پولیس والا بھی آ نکلے۔ یا شاید میں زخمی، یا بے ہوش ہی ہو جاؤں۔ تب تو یہ طائفہ بیابانی میرا پیچھا چھوڑے گا۔ اس وقت میرے (حشراتی) دماغ میں یہ بات نہ آئی کہ موٹر کا کوئی واقعی کارگر ایکسیڈنٹ کرنے کے لیے رفتار ضروری ہے۔ بیس بائیس کی رفتار تو ہو اور اس وقت میری رفتار چار پانچ سے متجاوز نہ تھی اور نہ ہی مجھے یہ بات سوجھی تھی کہ زخمی یا بےہوش ہو کر تو میں اور بھی ان کے رحم وکرم پر ہو جاؤں گا۔ وہ مجھے ہسپتال لے جانے کے بہانے اٹھا کر کہیں بھی لے جا سکتے تھے، یا وہیں کا وہیں مجھے مزید گزند پہنچا سکتے تھے۔ اسے میری خوش قسمتی کہیے کہ اس وقت میرے سامنے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس سے ٹکرا کر میں اپنا یہ عقل مندی پر مبنی ’منصوبہ‘ پورا کرتا۔

اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ وہ پیلی ملگجی قمیص والا گھناؤنا شخص بھی ان لونڈوں کا معاون ہو کر میری گاڑی کو پیچھے سے روکنے میں شامل ہو گیا ہے۔ ’’اس کی بھی طاقت شامل ہو گئی ہے، اب تو میں بچ نہ سکوں گا‘‘ میں نے دل میں کہا۔ ابھی گاڑی کی رفتار میں کوئی خاص فرق نہ آیا تھا۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ ملگجی قمیص والا گاڑی کو رکوانے میں جان لڑا دےگا۔

’’بکرے کی ماں کب تک خیر منائےگی‘‘، میں نے اپنے آپ سے کہا۔ مجھے اپنے والد مرحوم کا ایک خادم یاد آیا جو ایسے موقعوں کے لیے حسب ذیل شعر پڑھا کرتا تھا:

کب تک چھپیں گی کیریاں پتوں کی آڑ میں
آخر کو آم بن کے بکیں گی بزار میں

عام حالات میں مجھے جب بھی یہ شعر یاد آتا تو ہلکی سی ہنسی بھی آتی۔ لیکن آج رونا آ رہا تھا۔ یہی نہیں، اپنا بچپن بھی اس وقت مجھے بڑی آرزو بھری ارمان انگیز گلابی نارنجی روشنیوں کے سائے میں گھرا ہوا دکھائی دے رہا تھا، حالانکہ دراصل میرا بچپن خاصا ناخوشی سے بھرا ہوا اور بھلا دینے کے لائق تھا۔

کہتے ہیں ایک بار بسمل سعیدی نے جوش صاحب سے کہا کہ جوش صاحب آپ کے کلام میں سوزوگداز کی اک ذرا کمی نہ ہوتی تو آپ اور بھی بڑے شاعر ہوتے۔ جوش صاحب نے کہا، ’’ہرگز نہیں، میرے یہاں سوزوگداز کی کمی ہرگز نہیں۔ لو یہ شعر سنو:‘‘

میرے رونے کا جس میں قصہ ہے
عمر کا بہترین حصہ ہے

بسمل سعیدی نے قہقہہ لگا کر کہا، ’’واللہ جوش صاحب بچپن کے مضمون پر اس سے بہتر شعر میں نے نہیں سنا تھا‘‘۔ خیر، جوش صاحب اور بسمل صاحب کے مخول ایک طرف، لیکن سچ بات یہ ہے کہ میرا بچپن اپنے بڑوں سے پٹتے اور روتے ہی گزرا تھا۔ پھر بھی کاش میں ابھی سات ہی آٹھ برس کا ہوتا، میں نے دل میں تقریباً روتے ہوئے کہا۔ اس صورت میں آج اس موٹر میں تو نہ ہوتا، جہاں میری عزت اور جان دونوں کے لالے پڑے ہیں۔ آخر میں نے کسی کا بگاڑا بھی کیا ہے؟

مجھے صغر سن کے وہ دن یاد آ گئے جب ذرا ذرا سی بات پر اور اکثر بے وجہ ہی، مجھ پرڈانٹ یا مار پڑتی تھی۔ یا اگر کوئی وجہ ہوتی ہوگی تو میرا ننھا سا ذہن اس کو سمجھنے سے قاصر رہتا تھا۔ کسی بات کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ ان دنوں میرے محدود دماغ کا فیصلہ تھا۔ بعد میں، جب مجھے علت یعنی Cause اور سبب، یعنی Reason کا فرق معلوم ہو ا تو میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ لازماً ایسا نہیں کہ کسی چیز کی علت معلوم ہو جائے تو اس کا سبب بھی معلوم ہو جائے۔ مثلاً کسی شخص کا قتل ہو جائے اور لاش کا معائنہ کرکے ہم یہ نتیجہ نکالیں کہ وہ پستول کی گولی سے مرا ہے، تو یہ محض علت قتل معلوم ہوئی۔ ا س سے یہ کہاں معلوم ہوا کہ اس کے قتل کا سبب کیا ہے؟

اس وقت جو میں اپنی جان کے خطر میں ہوں، تو اس کی علت یہ ہے کہ میں کسی مقام پر کسی وقت موجود تھا۔ اگر نہ ہوتا تو یہ بات بھی نہ ہوتی۔ لیکن میرے وہاں موجود رہنے کی کچھ علت تھی اور اس علت کی بھی کچھ علت ہوگی اور پھر اس علت کی بھی۔

تو کیا ساری دنیا محض علل کی داستان ہے؟ اسباب کہیں نہیں؟ یا شاید ہمارا یہاں آنا کسی سبب سے ہو؟ اسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں، میر تقی میر نے چپکے سے میرے کان میں کہا۔ کون سے اسباب؟ ہمیں یہاں کیوں لایا گیا؟ کیا اس لیے کہ میں اپنی موٹر میں بیٹھا ہی بیٹھا جسم فروش لونڈوں اوران کے سرخیل کی ناپاک حرکتوں کاہدف بنوں؟ میں نے تقریباً ہسٹریائی انداز میں اپنے آپ سے کہا۔

اچانک مجھے کار کے پیچھے اور باہر سڑک پر سے کچھ غلغلہ سنائی دیا۔ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اوربھی میرے دشمنوں کی امداد کو آ گئے ہیں۔ گاڑی کی رفتار اب مزید پست پڑ گئی تھی۔ یا شاید وہ میرا وہم رہا ہو۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ اب یہاں ایک لمحہ بھی رکنا کسی برے انجام کو دعوت دینا ہوگا۔ مجھے خیال آیا کہ میرے شیطان صفت متعاقبوں نے علامہ صاحب کی کوٹھی میں قدم نہ رکھا تھا۔ شاید وہ گھروں کے اندر آنے سے ڈرتے ہوں؟ لہٰذا سب سے اچھا یہ ہوگا کہ میں گاڑی کو کسی مناسب پھاٹک میں اڑا دوں اور خود نکل بھاگوں۔ نکل بھاگوں گا کس طرح، وہ لوگ جھپٹ کر مجھے پکڑ تو نہ لیں گے؟ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ سڑک پر میری جانب، یعنی بائیں جانب، ایسی ہی محفوظ سی ایک کوٹھی دکھائی دی۔ ’’وہ مارا‘‘، میں دل میں خوش ہوتے ہوئے کہا۔

میں نے ایک زبردست جھٹکے سے اسٹیئرنگ کو بائیں گھماکرگاڑی کو پھاٹک میں ترچھا ڈال کر پوری طاقت سے بریک لگائی۔ بائیں گھومنے کے جھٹکے اور پھر بریک لگنے کے جھٹکے سے گاڑی پھاٹک کے بیچ میں ترچھی ہو کر بند ہو گئی۔ تعاقب کرنے والے بھی ان جھٹکوں کی مرکز گریز Centrifugal قوت کی تاب نہ لا کر پیچھے ادھر ادھر گر پڑے۔ میں نے مڑ کر نگاہ کی تو میرا نزدیک ترین معاقب مجھ سے کوئی دس بارہ فٹ کے فاصلے پر تھا۔ میں نے کھینچ کر چابی گاڑی میں سے نکال لی اور اندھا دھند دوڑتا ہوا اس کوٹھی، یعنی اپنی پناہ گاہ میں داخل ہو گیا۔

بڑا سا بنگلہ تھا، لیکن ذرا سنسان سا۔ سامنے کوئی نوکر، مالی یا چوکی دار نہ تھا۔اونچی کرسی کا برآمدہ، جس میں پرانی وضع کی آرام کرسیاں اور مونڈھے تھے۔ دیوار سے لگی ہوئی سنگار میز اور قد آدم آئینہ، اس کے پاس ہی ہیٹ وغیرہ رکھنے کا اسٹینڈ۔ زیادہ دیکھنے کا موقع تھا نہ ہمت۔ میں مکان کی لمبائی میں دوڑتا چلا گیا۔ برآمدے کے اختتام پر ایک کمرہ سا دکھائی دیا۔ اس کا دروازہ کچھ نیم وا، کچھ بھڑا ہوا ساتھا۔ میں نے جھٹ سے اس میں داخل ہوکر اندر سے کنڈی چڑھا لی۔

کمرے میں فنائل کی ہلکی سی بوتھی۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ باتھ روم ہے۔ ٹٹول کر بجلی کا سوئچ تلاش کیا۔ زرد زرد روشنی ہوئی تو دیکھا کہ آٹھ سات فیٹ لمبا، اسی قدر چوڑا باتھ روم اور غسل خانہ ہے۔ کموڈ کی جگہ نئے ڈھنگ کا فلش تھا۔ اوپر لوہے کا ٹینک، اس سے زنجیر لٹکتی ہوئی۔ اس طرح کے فلش اس وقت ہندوستان میں بہت کم تھے۔ میں اس لیے واقف تھا کہ ریلوے کی دو بڑی کمنیاں، جی آئی پی ریلوے G.I.P. Railway اور بی بی اینڈ سی آئی ریلوے B.B.&C.I. Railway اپنے اسٹیشنوں پر فرسٹ کلاس ویٹنگ روموں میں ایسے باتھ روم بنوا رہی تھیں۔ میں خود جی آئی پی ریلوے میں ملازم تھا۔

مجھے بری طرح پیشاب محسوس ہو رہا تھا۔ خدا معلوم ڈرکی وجہ سے، یا واقعی۔ لیکن ابھی میری پوزیشن بالکل غیرمحفوظ تھی۔ ادھر ایسا لگ رہا تھا کہ پیشاب ضرور کرنا چاہیے، پتا نہیں پھر موقع ملے نہ ملے۔ میرا ہاتھ پتلون کی پیٹی کی طرف گیا ہی تھا کہ دروازہ زور زور سے پیٹا جانے لگا۔ پتا نہیں وہ میرے دشمن تھے، یا گھر کا کوئی فرد جسے شک ہو گیا تھا کہ کوئی باہری آدمی باتھ روم میں گھس آیا ہے۔ میں بہرحال خود کواس حالت میں نہ سمجھتا تھا کہ دروازہ کھول کر باہر آؤں۔ لیکن باتھ روم میں خود کو چھپائے رہنے کا امکان کہاں؟ اور نکلوں تو جاؤں کہاں؟ پھر میری نگاہ پر لی طرف کی دیوار پر پڑی تو معلوم ہوا کہ ادھر بھی ایک دروازہ ہے۔ اب وہ جہاں بھی کھلتا ہو، میرے لیے وہی دروازہ نجات کا دروازہ تھا۔

میں نے آہستہ سے پرلی طرف کی کنڈی کھول لی۔ دل میں خدا کا شکر بجالایا کہ دروازہ دوسری طرف سے بند نہ تھا۔ اول تو دو دو دروازے توڑنے میں ان لوگوں کو وقت لگےگا، دوسری بات یہ کہ جب اتنا شوروغل اور توڑ پھوڑ کا ہنگامہ ہوگا تو گھر میں کوئی تو متوجہ ہوگا۔ اس وقت مجھے یہ یاد نہ رہا تھا کہ میرے اپنے خیال کے مطابق ان شیاطینوں کا طائفہ گھروں میں گھس نہ سکتا تھا۔ لہذا اغلب تھا کہ دروازہ پیٹنے والا (والے) اہل خانہ سے ہی متعلق ہو (ہوں)۔

دروازے سے باہر آکر میں نے دیکھا کہ وہی برآمدہ اور آگے تک چلا گیا ہے۔ میرے دائیں جانب چار دیواری تھی، لہٰذا برآمدے کی شکل اب راہداری کی سی تھی۔ باتھ روم کے دروازے سے متصل ہی چار دیواری میں ایک دروازہ تھا جو سڑک کی طرف کھلتا ہوگا۔ دروازے کاایک پاٹ کھلا ہوا تھا، ااور اس میں سے تین ملازم صاف دکھائی دیتے تھے۔ وہ دہلیز اور سیڑھی پر بیٹھے ہوئے باتوں میں اس قدر محو تھے کہ انہوں نے میری موجودگی بالکل محسوس نہ کی اور ظاہر ہے کہ میں بھی ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے حق میں نہ تھا۔

راہداری میں گربہ قدم چلتا میں کوئی دس گز گیا ہوں گا کہ ایک دروازہ نظر آیا جو گھر کے اندر کھلتا تھا۔ ادھر باتھ روم کا باہری دروازہ ٹوٹنے کی سی آواز ہلکی سی میرے کان میں آئی۔ میں نے مزید توقف کیے بغیر گھر کے دروازے میں قدم رکھ دیا۔ وہاں کمرہ نہ تھا، بلکہ ایک وسیع برآمدہ، سہ دری نما، جس میں کسی مصروف گھر کا تاثر صاف محسوس ہوتا تھا۔ ایک چوڑے پلنگ پر دو عورتیں بیٹھی چالیا کتر رہی تھیں۔ ان کی شکلیں اور وضع قطع اب بالکل نہیں یاد رہی۔ لیکن پلنگ کے پاس ایک بڑی سی گدے دار آرام کرسی Frong Chair پر دوہرے، گداز بدن کی ایک ادھیڑ، قبول صورت خاتون تھیں جو ساری میں ملبوس تھیں۔ ان کے سامنے کرسیوں پر دو نسبتاً نوجوان عورتیں سوئیٹر بن رہی تھیں۔ میں نے قیافہ کیاکہ ادھیڑ عمر خاتون ہی ان میں صاحب اقتدار ہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ وہ میرے انداز، لب و لہجہ اور میری حواس باختگی سے یہ تو شاید سمجھ ہی گئیں کہ میں کوئی چور اچکا نہیں ہوں۔ باقی لڑکیوں؍عورتوں میں ضرور ایک طرح کی گھبراہٹ نظر آئی، لیکن کسی نے شور وغیرہ کچھ نہ مچایا۔ ممکن ہے کہ وہ ان خاتون کی وجہ سے خود کو محفوظ سمجھ رہی ہوں۔ خاتون نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، بلکہ ذرا درشت لہجہ میں کہا:

’’کون ہو تم؟ یہاں کیسے آئے؟ چلو، فوراً چلے جاؤ یہاں سے‘‘۔ وہ خوف زدہ سے زیادہ جھنجھلائی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔

’’خدا کے لیے مجھے پناہ دیجئے، میں بڑے خطرے میں ہوں‘‘۔ میں نے سرگوشی کی سی آواز میں کہا۔

’’کیوں؟ کیا پولیس تمہارے پیچھے ہے؟‘‘

’’یہ سب بعد میں بتاؤں گا۔ پولیس وغیرہ کا کوئی چکر نہیں۔ میں ایک باعزت انجینئر ہو۔ کچھ بدمعاش میرے پیچھے لگ گئے ہیں‘‘۔

’’بدمعاشوں ہی کے پیچھے تو بدمعاش لگتے ہیں۔ شریفوں کو ایسے لوگوں سے کیا کام؟ چلو نکلو۔ ابھی نکلو۔ نہیں تو میں نوکروں کو بلواتی ہوں‘‘۔

’’پھر میرا خون ہو جائے تو آپ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گی؟‘‘ اچانک میرے دل میں بجلی کی طرح یہ خیال کوندا کہ یہ خاتون ہزار باعزت سہی، لیکن خاتون خانہ نہیں ہیں۔ ’’للہ آپ کسی ذمہ دار شخص کے پاس لے چلیں‘‘۔

میرا تیر نشانے پر بیٹھا تھا۔ وہ پہلو بدل کر بولی، ’’ذمہ دار؟ ذمہ دار اور کون ہے یہاں؟ تم بتاؤ، تمہارا معاملہ کیا ہے؟ اس کا لہجہ اب ذرا تیز تر تھا اور زور لفظ ’’تم‘‘ پر تھا۔

میں نے اٹک اٹک کر اپنا حال بتانا شروع کیا۔ یہ بھی ڈر تھا کہ بات کچھ ایسی عجیب ہے کہ ان لوگوں کو یقین شاید ہی آئےگا۔ اگر ایسا واقعہ کوئی مجھ سے بیان کرتا تو میں اسے مجذوب کی بڑ سے زیادہ وقعت نہ دیتا۔ اس خوف کے باعث میرا لہجہ خود مجھے ہی تیقن سے عاری لگ رہا تھا اور میری روداد بھی ناقابل یقین معلوم ہو رہی تھی۔ لیکن خیر، وہ لوگ تو توجہ سے سن رہے تھے اور داستان تھی ہی کتنی لمبی؟ چند منٹ سے بھی کم میں تمام ہو جاتی۔ میں نے بولنا شروع کیا اور دل میں دعا کرتا رہا کہ ان لوگوں کو اعتبار آ جائے۔

وہ دروازہ، جس سے میں داخل ہوا تھا، یوں ہی کھلا ہوا تھا۔ سب کے دھیان میری کہانی کی طرف تھے۔ اچانک پیلی ملگجی قمیص والا شخص بڑے اطمینان سے اسی دروازے سے داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں لمبا سا پستول تھا۔

میں نے دوڑ کر ادھیڑ عمر خاتون کی کرسی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی۔ لیکن اس شخص نے پستول کا رخ انہیں خاتون کی طرف کر دیا اور عجیب نخوت بھرے، سرد، سفاک، حقارت آمیز لہجے میں بولا:

’’بول، میر تیرا کون لگتا ہوں؟‘‘

میرے پور ے جسم میں سنسنی پھیل گئی۔ تو کیا یہ سب لوگ ایک ہی تھے؟ میں نے سراسیمہ ہو کر دل میں کہا۔

ابھی ہم میں سے کوئی اس حال میں نہ تھا کہ اس نئے خطرے سے دفاع کے لیے کچھ کرتا۔ ان سب عورتوں کے بدن بالکل ساکت تھے، جیسے پتھر کی مورتیں ہوں۔ میں جس جگہ چھپنے کی سعی ناکام کر رہا تھا، اس کے پیچھے ایک دروازہ تھا۔ نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوا کہ اس دروازے کے پیچھے بھی کوئی ہے۔

میں ابھی یہ فیصلہ نہ کر پایا تھا کہ دروازے کے پیچھے واقعی کوئی ہے بھی کہ نہیں اور وہ میرا دوست ہے کہ دشمن۔ دفعتاً وہی دروازہ دھڑاکے کی آواز کے ساتھ کھلا اور ایک سیاہ سی چیز سائیں سائیں کرتی ہوئی اس میں سے نکلی اور باہر آنگن میں گردباد کی طرح قائم ہو گئی۔

میں نے دیکھا کہ وہ ساری عورتیں منہ کو دوپٹے سے ڈھانکے بےہوش سی پڑی ہیں۔ پستول والا گھٹنوں کے بل تھا، اس کا سر جھکا ہوا تھا۔ ہاتھ کچھ اسطرح سینے پر تھے گویا بندگی بجا لا رہا ہو۔ پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ادھیڑ عمر خاتون کے قدموں میں آ رہا تھا۔ لیکن خود انہیں کسی چیز سے مطلب نہ رہ گیا تھا۔ وہ گردن ڈھلکائے، ساری کے پلو میں منہ کو چھپائے آرام کرسی پر کپڑے کی گڑیا کی طرح ڈھیر تھیں۔ میرے پاؤں من من بھرکے ہو رہے تھے۔ دل گویا بیٹھ کرجوتے کے تلے میں آ گیا تھا۔ لیکن دماغ (وہی حشراتی دماغ؟) تھوڑا بہت حاضر تھا۔ میں نے دل میں کہاکہ بھاگ نکلنے کا اس سے بہتر موقع نہ ملےگا۔ ممکن ہے اپنی گاڑی کو بھی اس گھر کے پھاٹک سے نکال لے جا سکوں۔

میں ڈرتا، چوروں کی طرح قدم رکھتا، بلکہ تقریباً گھسٹتا ہوا، اپنی پناہ گاہ سے باہر آیا۔ یہ پناہ گاہ کی بھی خوب رہی۔ آنگنمیں وہ سیاہ گردباد ابھی بھی اسی طرح قائم تھا۔ سائیں سائیں کی آواز آ رہی تھی۔ لیکن اس وقت وہ آواز کچھ ماتمی سی لگی۔ نہ جانے کیوں مجھے خیال تھا کہ مجھے قطعاً کسی قسم کی آواز نہ کرنی چاہیے۔ بھلا وہ گردباد کیا تھا، کیا کوئی بدروح تھی، یا کوئی خدائی قہر؟ لیکن میرے شور کرنے نہ کرنے سے اس کا کیا تعلق ہو سکتا تھا؟ شاید یہ بھی میرے حشراتی ذہن کا کرشمہ تھا، کہ اکثر رینگنے والے جانور خطرے کے سامنے دم سادھ کر پڑ جاتے ہیں، گویا مردہ ہوں۔

ملگجی قمیص والے کے پاس سے گزرتے ہوئے میرے جی میں آئی کہ اس کی پسلیوں پراپنے بوٹ سے ایک زوردار ٹھوکر لگاؤں۔ حرام زادہ مر تو چکا ہی تھا۔ لیکن نہ مرا ہو تو؟ اور وہ سیاہ گردباد؟ میں اس ارادے سے باز رہا۔ پھرمیں نے دل میں کہا کہ پستول ہی اٹھا لوں، شاید وہ اخوان الشیاطین ابھی باہر بیٹھے ہوں۔ مگر تھوڑی سی عقل جو واپس آ رہی تھی، اس کا مشورہ تھا کہ تم نہ پستول چلانا جانتے ہو اور نہ اس کا لائسنس ہی تمہارے پاس ہے۔ کیوں خواہ مخواہ ایک اور مصیبت کو دعوت دیتے ہو؟ ایک مشکل سے تو مرمر کے جینے کی نوبت آ رہی ہے، اب اور کوئی حماقت نہ کرو۔ چپکے یہاں سے نکل چلو۔’’مگر وہ عورتیں اور یہ ملگجی قمیص والا، کہیں یہ سب مر نہ گئے ہوں۔ کہیں پولیس میرا پیچھا نہ کرے‘‘۔ میں نے اپنے دل سے کہا۔

’’بےوقوف آدمی‘‘، میں نے دل ہی دل میں خود کو ڈانٹا۔ ’’اب دیر کرو گے تو پولیس نہ آتی ہوگی تو بھی آ جائےگی۔ اگر یہ لوگ مر بھی گئے ہیں توتم سے کیا مطلب؟ ہاں ا گر پولیس نے یہاں تمہیں دیکھ لیا تو البتہ مشکل ہوگی۔بندھے بندھے پھروگے۔ نوکری سے الگ ہاتھ دھونا پڑےگا۔ چلو، یہاں سے فوراً چل نکلو‘‘۔

میں اس قدر آہستہ آہستہ وہاں سے نکلا گویا انڈوں پر چل رہا ہوں۔ گلیارے کے دروازے پر اندھیرا تھا۔ وہ تینوں نوکر بھی شاید سو گئے تھے، کہ بے ہوش تھے، پتانہیں۔ میں ان کو چپکے سے پھاند کر اس آسیب گھر سے باہر آ گیا۔

سڑک پر روشنیاں جل اٹھی تھیں، ایک آدھ سواری بھی خراماں خراماں گزر رہی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا، لیکن کچھ بدلا ہوا سا بھی تھا۔ میری سمجھ میں فوراً یہ بات نہ آئی کہ کیا تبدیلی آ گئی ہے۔

تھوڑی دیر بعد مجھے اچانک احساس ہوا کہ میکلوڈ روڈ اب صبح کی طرح سنسان نہیں تھی اور یہ بھی کہ جب میں پیچھے کے گھر میں پناہ لینے کے لیے گھسا تھا تو اس وقت دھوپ نکلی ہوئی تھی، دن کے گیارہ کا عمل رہا ہوگا اور میں ہرگز ہرگز اس گھر میں پندرہ بیس منٹ سے زیادہ نہ رہا تھا۔ پھر اس وقت یہ شام کیسی؟

گھبراہٹ اور خوف کے باعث مجھے بڑے زور کی متلی آئی۔ سارا منہ نمکین پانی سے بھر گیا اور جب تک میں خود کو سنبھالوں، مجھے ایک ابکائی، بلکہ بھینسے کی سی ڈکراتی ہوئی آواز کے ساتھ استفراغ ہوا۔ لیکن ایک تلخ، زرد سیاہی مائل گھونٹ کے سوا کچھ نہ نکلا۔ میں نے صبح کئی پیالی چائے کے ساتھ بہت معمولی ناشتہ کیا تھا اور تب سے اب تک تین چار گھنٹے ہو چکے تھے (یا شاید سارا ہی دن گذر چکا تھا)۔ پھر متلی میں نکلتا کیا۔ میں نے گرمی زدہ کتے کی طرح ہانپتے ہوئے اپنا سینہ اور پیٹ سنبھالنا چاہا۔ اس قے کے باوجود میری ابکائیاں کم نہ ہوئی تھیں۔ مجھے ’’توبۃ انصوح‘‘ کے شروع کا بیان یاد آیا کہ نصوح کو بھی بڑے زور کا استفراغ ہوا تھا۔ (جسے کوے کا پر، مجھے بچپن کی پڑھی ہوئی ایک کہانی بھی یاد آئی، استفراغ اتنا سیاہ جیسے کوے کا پر)۔ ’’تو کیا مجھے بھی ہیضہ ہو رہا ہے؟ یا میں نے کہیں سے زہر تو نہیں منہ میں ڈال لیا؟‘‘ میں نے گھبراکر اپنے دل میں کہا۔

چکر سے بے حال ہوکر میں بےتحاشا پاس کی دیوار سے ٹکرا گیا۔ چوٹ بچانے کی فکر میں ہاتھ جو دیوار پر زور سے مارا تو کوئی چیز بچھو کے ڈنک کی طرح چبھی۔ گھبراکر غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ دیوار میں ایک موٹی کیل نکلی ہوئی تھی اور وہ کوئی آدھ انچ بھر میری ہتھیلی میں اتر گئی ہے۔ ہتھیلی سے خون بری طرح بہہ رہا تھا۔ میری آستین اور پتلون پر بھی جگہ جگہ خون ٹپک گیا تھا۔ خوف اور خلجان کے ساتھ یہ چوٹ مجھے اور بھی بدحال کر گئی۔

مجبوراً اسی دیوار کو دیکھ بھال کر اور اسی سے ٹیک لگاکر میں ٹھہر گیا۔ رومال سے ہتھیلی پر پٹی کس کے باندھ لی کہ جریان خون کم ہو۔ دیر بعد طبیعت ذرا بحال ہوئی۔ میں نے اپنے دل میں کہا، ’’یہ سب جناتی کارخانہ معلوم ہوتا ہے۔ آیت الکرسی اس وقت ٹھیک سے یاد نہ آئی تو قل ھواللہ احد اور لاحول ولا قوۃ کا ورد شروع کیا۔ کچھ دیر بعد دل ذرا ٹھہرا۔ میرا گلا بالکل خشک ہو رہا تھا۔ لیکن وہاں پانی کہاں۔ میں نے دل سے کہا اب ہمت کرکے سڑک پر نکلو، اپنی گاڑی اٹھاؤ اور بھاگ لو۔ یہ پانی کے لیے ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے اور نہ ہتھیلی کی مرہم پٹی کی فکر اس وقت مناسب ہے۔

میں بوجھل قدموں سے اس بنگلے کے پھاٹک کی طرف چلا، جہاں میں نے گاڑی چھوڑی تھی۔ کچھ خوف اس بات کا بھی تھا کہ کہیں وہ موذی لونڈے ابھی موجود نہ ہوں۔ لیکن ان کا سرخیل تو وہاں اندر (مرا؟) پڑا تھا۔ وہ ناپاک حرام زادے بھی بھاگ گئے ہوں گے۔ دل میں یہ کہہ کر میں کوٹھی کے پھاٹک کی طرف الٹے پاؤں چلا۔

جب میں پناہ کے لیے بھاگ رہا تھا اس وقت تو وہ کوٹھی مجھے بہت کشادہ محسوس ہوئی تھی۔ مجھے لگا تھا کہ اس کا باہری برآمدہ اور اندر کی راہداری ملا کر کوئی ڈھائی سو فٹ کی طوالت رہی ہوگی۔ خلاف توقع اب وہ فاصلہ بہت کم نکلا۔ میں چند ہی قدم چلا ہوں گا کہ عمارت کا پھاٹک نظر آ گیا لیکن میری کار وہاں کہیں نہ تھی۔ میں ایک لمحے کو سناٹے میں آ گیا۔ پھر میرے خیال میں آیا کہ چونکہ گاڑی میں نے پھاٹک میں اس طرح اڑاکر کھڑی کی تھی کہ راستہ بند ہو گیا تھا، اس لیے شاید کسی نے اسے ڈھکیل کر کنارے کرو یا ہو۔

لیکن گاڑی تو وہاں کہیں نہ تھی۔ حتیٰ کہ پھاٹک پر ٹائروں کا نشان، بریکوں کی گھسٹنی، کچھ بھی ایسی علامت نہ تھی کہ کوئی کار یہاں جھٹکا دے کر موڑی اور پھر اسی طرح جھٹکے سے روکی گئی ہے۔ کار وہاں سے اس طرح مفقود تھی گویا کبھی تھی ہی نہیں۔ کوئی چور تو نہیں لے گیا؟ میں نے دل میں سوچا۔ لیکن کاروں کی چوریاں اس زمانے میں قطعاً نہ ہوتی تھیں۔ کار کی چوری کرنے والا اسے بیچتا بھی کس کے پاس؟ اس زمانے میں معدودے چند لوگ کار رکھتے تھے اور وہ زیادہ تر وکیل، ڈاکٹر، یا سرکاری افسر تھے۔ بہرحال، اگر کوئی چور بھی لے گیا تو مجھ میں اتنی ہمت اس وقت نہ تھی کہ اس چوری کی رپورٹ لکھاؤں۔ پولیس والوں کو کیا بتاتا کہ میں اس گھر میں کیا کرنے گیا تھا؟ اور کار کا تو وہاں نشان بھی نہ تھا، صرف چابی تھی جو میری جیب میں تھی۔ میں نے جیب ٹٹولی تو چابی واقعی موجود تھی۔

ریلوے کے اسسٹنٹ انجینئر کے لیے کار کی چوری کوئی معمولی حادثہ نہیں۔ مجھے فوراً تفتیش کرانی چاہیے تھی اور یہ تو ظاہر ہے کہ میں دوسری کار بآسانی نہ خرید سکتا تھا، بلکہ شاید اب دوسری کار نصیب ہی نہ ہوتی۔ لیکن اس وقت میرے لیے چارہ ہی کیا تھا۔ پھر یہ بھی خیال میں آیا کہ گاڑی کوئی چھوٹی سی سوئی تو نہیں کہ کھو جائے تو دکھائی نہ دے۔ فی الحال تو یہاں سے چل دینا چاہیے اور بہت جلد۔ انسان کی عقل معمولی چیزوں کو سمجھنے سے اکثر عاری رہتی ہے اور یہ تو یقیناً کوئی مافوق الفطرت معاملہ ہے۔ اس میں زیادہ چھان بین بھی ٹھیک نہیں۔ خدا نے بڑا فضل کیا جو میں محفوظ رہا۔ ورنہ اکثر لوگ تو سنا ہے خوف کے مارے مخبوط الحواس ہو جاتے ہیں، یا جان ہی سے جاتے رہتے ہیں۔ ابھی اپنی فکر کرو، کارکی فکر بعد میں ہوگی۔

میں اپنے دل کو اس طرح سمجھاکر سڑک کی روشنی میں آیا۔ مجھے اپنے کپڑے خدا معلوم کیوں کچھ زردی مائل لگ رہے تھے۔ شاید میونسپلٹی کی بجلی ایسی ہی چندھیائی سی ہوتی ہے۔ سامنے سے ایک تانگہ آ رہا تھا، میں اسے روک کر سوار ہو گیا۔ میرے کپڑے اب اور بھی پیلے لگ رہے تھے۔ لاحول ولا قوۃ، کیا مجھے یرقان ہو گیا ہے؟ اتنے میں تانگے والے نے مڑکر مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ شاید اس کی نگاہ میرے لباس کے سرخ چھینٹوں پر پڑ گئی تھی۔یا پھر کیا میرے کپڑے سچ مچ پیلے ہو رہے تھے؟ اچانک مجھ پر بخار کا سا لرزہ طاری ہو گیا۔ میں نے کپکپاتی ہوئی آواز میں تانگے والے سے کہا ’’مجھے اسٹیشن لے چلو۔ جلد ی کرو گاڑی پکڑنی ہے‘‘۔ مغل پورہ کا اسٹیشن وہاں سے قریب ہی تھا۔ تانگے نے مجھے منٹوں میں پہنچا دیا۔ اسی وقت پٹھان کوٹ ایکسپریس پلیٹ فارم پر داخل ہو رہی تھی۔ میں پٹھان کوٹ کا ٹکٹ لےکر ایک ڈبے میں دھنس پڑا۔ پٹھانکوٹ میں میرا کوئی نہ تھا تو کیا ہوا، ملگجی قمیص والا اور سیاہ گرد باد بھی تو وہاں نہ تھے۔

اور میں نے جو کچھ لکھا ہے، اسے میرے ایک دوست نے پڑھ کر کہا:

’’یہ کیا فضول بکواس تم نے لکھ ماری ہے؟ تم اپنی خود نوشت لکھ رہے ہو یا خواب میں دیکھے ہوئے اور دل سے گھڑے ہوئے واقعات لکھ رہے ہو؟‘‘

’’تم جانتے ہو میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اپنی خودنوشت میں ایک حرف بھی جھوٹ نہ لکھوں گا اور اسی لیے ہر صفحہ تم کو پڑھوا دیتا ہوں کہ اگر کوئی غلطی ہو تو اسے ٹھیک کرا دو‘‘۔

’’ہوگا۔ لیکن میں ٹھیک کراؤں کیا خاک؟ اس بار تو تم نے حد ہی کر دی۔ تم کہتے ہو ان دنوں تمہارے پاس امبسیڈر کار تھی۔ ابے احمق، یہ کار تو تقسیم ہند کے بعد برلا نے پہلی بار ۱۹۵۷ء میں بنائی تھی۔ انہوں نے انگلینڈ کی Morris Oxford کے نقشے ان کی اجازت سے حاصل کر کے پہلے تو Hindustan 14 نامی کار بنائی۔ دو تین سال بعد مارس کا ماڈل بدلا تو انہوں نے نئے نقشے کے مطابق Landmaster اور پھر چند سال بعد جدید تر ڈیزائن کے مطابق Hindustan Ambassador کار وجود میں آئی۔ ۱۹۳۷ میں امبسیڈر کہاں تھی جس میں بیٹھ کر تم علامہ سے ملنے گئے تھے؟‘‘

میں نے چڑ چڑاکر کہا ’’کار کا ماڈل بھول گیا ہوں گا۔ تم تو جانتے ہو کہ میرے پاس شروع نوکری ہی سے کار رہی ہے‘‘۔

’’بڑے آئے کار کا ماڈل بھولنے والے۔ بھلا اپنی پہلی کار کا ماڈل تم اس قدر بھول گئے کہ عدم کو وجود میں لے آئے؟ اور بیٹے ذرا یہ تو بتاؤ کہ ۱۹۳۷ میں علامہ اقبال صاحب میکلوڈ روڈ پر کہاں رہتے تھے؟ ۱۹۳۶ء کے اکتوبر میں یا اس کے کچھ پہلے حضرت علامہ نے میوروڈ پر جاوید منزل کی تعمیر مکمل کر لی تھی اور فوراً ہی وہ اس میں منتقل ہو گئے تھے۔ تم ۱۹۳۷ میں میکلوڈ روڈ پر ان سے کس جنم میں ملے ہو گے؟‘‘

’’سو سکتا ہے میکلوڈ روڈ نہیں، میوروڈ رہی ہو‘‘، میں نے جھنجھلاکر کہا۔ ’’نام میں ذرا ہی سا تو فرق ہے۔ کیا آدمی اتنی چھوٹی چھوٹی بات یاد رکھ سکتا ہے؟ شاید یہی وجہ تھی کہ مجھے سر جگندر سنگھ کا بنگلہ اور دوکانیں وہاں نہیں مل رہی تھیں‘‘۔

’’بے شک آدمی ذرا ذرا سی بات یاد نہیں رکھ سکتا۔ لیکن یہاں تو اہم تفصیلات کا سوال ہے۔۔۔ہاں اگر خود نوشت کے نام پر داستان امیر حمزہ لکھنی ہو تو اور بات ہے‘‘۔

’’داستان امیر حمزہ کو کچھ نہ کہو۔ اس سے بڑھ کر تاریخی کتاب ممکن نہیں‘‘۔ میں نے بپھر کر کہا۔

’’خیر یہی سہی۔ لیکن عام پبلک کے سامنے ایسی بات نہ کہنا، ورنہ لوگ تمہیں پاگل خانے بھجوادیں گے اور بھائی صاحب، وہ لونڈے جن کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان کے بارے میں آپ نے کہیں اخبار میں پڑھا ہوگا۔ وہ لوگ جرائم پیشہ کنجر، یعنی ایک طرح کے خانہ بدوش تھے۔ ایک زمانے میں ان کا ایک قبیلہ لاہور میں کہیں سے آ گیا تھا اور اس کے افراد، خاص کر لڑکے بالے، چھوٹی موٹی چوریوں میں اکثر ماخوذ ہوتے رہتے تھے۔ میکلوڈ روڈ یامیو روڈ تو نہیں، باغبان پورہ والی سڑک پر ضرور انہوں نے اپنے ڈیرے لگا رکھے تھے۔ آپ کبھی وہاں سے گزرے ہوں گے، پھر اسی کے بارے میں آپ نے کوئی خواب دیکھ لیا اور اب زیب داستان کے لیے اسے اپنی خود نوشت میں ڈالے دے رہے ہیں‘‘۔

’’اچھا یوں ہی سہی۔ تو یہ لو!‘‘ یہ کہہ کر میں نے اپنی دائیں ہتھیلی اپنے دوست کی ناک کے نیچے اس کی آنکھ کے بالکل پاس تقریباً ٹھونس دی۔ ہتھیلی پراب بھی چوٹ کا داغ بہت گہرا اور صاف تھا۔ ’’حرامزادے، یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے دانت پیس کر کہا۔ ’’کہو تو پٹھان کوٹ کے اس ڈاکٹر کا نام پتا بتا دوں جس نے اس چوٹ کا علاج کیا تھا‘‘۔

میرا دوست ایک لمحے کے لیے سن ہو کر رہ گیا۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ گڑبڑا گیا ہے۔ مگر وہ بھی مجھ سے کم بےحیا نہیں۔ ذرا رک کر بولا، ’’اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ ہتھیلی پر یہ چوٹ تمہیں اسی وقت اور اسی جگہ لگی تھی جس کا ذکر تم نے افسانے۔۔۔میرا مطلب ہے خودنوشت میں کیا ہے؟‘‘

’’نہ سہی، لیکن وہ ڈاکٹر اگر ہو گا تو وہ وقت اور زمانے کی تصدیق تو کر دے گا‘‘۔

’’پچاس سے اوپر برس ہو رہے ہیں۔ خدا معلوم وہ ڈاکٹر وہاں ہے بھی کہ مرکھپ گیا‘‘۔

’’وہم کا علاج تو لقمان کے پاس بھی نہ تھا اور ضد کے علاج سے سقرا ط بھی معذور تھا‘‘۔

’’مانا۔ لیکن میں تم سے جرح اس لیے کر رہا ہوں کہ تمہیں نے کہا تھا، اس کتاب کو دشمن کی نظر سے دیکھو۔ میں نہیں چاہتا کہ اس میں ایک بھی بات غلط راہ پا جائے‘‘۔

’’ہاں اور اب تک تمہیں کچھ نہ ملا تو فرضی ہی الزام گڑھنا شروع کر دیے‘‘۔

’’سچی بات یہ ہے کہ تمہارے بیانیے میں اور باتیں بھی کھٹکی تھیں، لیکن وہ اتنی نمایاں نہ تھیں۔ اس باب میں تو تم نے واقعے کے نام سے ایک بھی حرف نہ لکھا‘‘۔

’’کچھ اور مثلا؟‘‘ میں نے بڑی کوشش سے غصہ ضبط کرکے پوچھا۔

’’تم نے علامہ صاحب کی آواز کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ اس وقت تک ان کی آواز بالکل بیٹھ چکی تھی‘‘۔

’’میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مجھے اس ملاقات کی تفاصیل نہیں یاد‘‘۔

’’مگر اتنی اہم بات۔۔۔‘‘

’’چپ رہو جانتے ہو، لفظ ’واقعہ‘ کے معنی حقیقت بھی ہیں اور خواب بھی اور موت بھی‘‘، میں نے بڑے فخر سے کہا، گویا کوئی بڑی دریافت بیان کر رہا ہوں۔

’’پھر تو مجھے کچھ کہنا ہی نہیں ہے۔ لیکن یہ بتاؤ تم نے منیر نیازی کا مصرع کبیر کے سرکیوں مڑھ دیا؟‘‘

’’کیا بکتے ہو؟‘‘ میں دہاڑا۔

’’یہی کہ ’خالی شہر ڈراؤنا کھڑا تھا چاروں اور‘ منیر نیازی کا مصرع ہے اور یہ بات اس کے مجموعے ’دشمنوں کے درمیان شام‘ مطبوعہ ۱۹۶۸ کے صفحہ ۲۵ پر موجود ہے۔ تم نے ۱۹۳۷ء میں یہ مصرع کبیر کے نام سے کہاں دیکھ لیا؟ چلو اب مان بھی جاؤ کہ تم نے اپنی خودنوشت میں ایک افسانہ بھی ڈال دیا ہے‘‘۔

’’سب افسانے سچے ہوتے ہیں! سب افسانے سچے ہوتے ہیں!‘‘ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد میں چیخ کر بولا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

(ممتاز نقّاد، افسانہ و ناول نگار اور شاعر شمسُ الرّحمٰن فاروقی کا ایک دل چسپ افسانہ)

Comments

- Advertisement -