The news is by your side.

Advertisement

سینیٹر کرسٹن برانڈ بھی امریکا کی صدارتی دوڑ میں شامل ہوگئیں

واشنگٹن : نیویارک کی سینیٹر ’کرسٹن گیلی برانڈ‘ بھی 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں آئندہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے اور بطور صدر صدارتی محل میں زندگی گزارنے کے خواہشمند سیاست دانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ سیاست دان 52 سالہ ’کرسٹن گیلی برانڈ‘ نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے صدارتی الیکشن میں شامل ہونے کی تصدیق کی۔

ویڈیو پیغام میں گیلی برانڈ کا کہنا تھا کہ ’بہادر افراد لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑواتے نہ ہی وہ زندگیوں پر پیسوں کر ترجیح دیتے ہیں، بہادر لوگ نفرت نہیں پھیلاتے نہ سچ چھپاتے ہیں نہ دیوار بناتے ہیں، یہ سب خوف کی نشانیاں ہوتی ہیں‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کرسٹن گیلی برانڈ 2009 میں سینیٹر منتخب ہوئی تھیں اور انہوں نے جنسی زیادتیوں کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کیا تھا۔

سینیٹر گیلی برانڈ نے ایک بل بھی پیش کیا تھا جس میں فوج میں ہونے والی جنسی زیادتیوں سے پر قوانین تبدیل کرنے سے متعلق بتایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : سابق رکن کانگرنس رابرٹ بیٹو نے بھی 2020 کے صدراتی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا

پہلی ہندو خاتون کا امریکا کے صدارتی انتخابات میں حصّہ لینے کا ارادہ

خیال رہے کہ کرسٹن گیلی برانڈ کے علاوہ 15 دیگر ڈیموکریٹ سیاست دان بھی صدارتی دوڑ میں شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ کی جانب سے صدارت الکیشن میں حصّی لینے والے افراد میں سینیٹڑ الزبتھ وارن، کمالا حارس اور برنی سینڈر بھی شامل جنہوں نے 2016 میں ہیلری کلنٹن کے خلاف الیکشن لڑا تھا اور سابق رکن کانگریس بیٹو اورورکی بھی شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں