The news is by your side.

Advertisement

باراک اوبامہ کے نائب صدر جو بائڈن بھی 2020 کے صدارتی ڈور انتخابات میں شامل

واشنگٹن : امریکا کے سابق نائب صدر جو بائڈن بھی صدارتی ڈور میں شامل ہوگئے، اوبامہ کے نائب صدر نے ویڈیو پیغام کے ذریعے صدارتی انتخابات میں حصّہ لینا اعلان کیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں آئندہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے اور بطور صدر صدارتی محل میں زندگی گزارنے کے خواہشمند سیاست دانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جو بائڈن کے صدارتی ڈور میں شامل ہونے سے متعلق کئی ماہ سے قیاس آرائیاں جاری تھیں، تاہم انہوں نے کل ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہماری جمہوریت، عقائد اور وہ تمام چیزیں کو امریکا کو امریکا بناتی ہے، سب داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ جا بائڈن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور ڈیموکریٹک کی جانب سے اب تک 19 امیدوار صدارتی انتخابات میں شامل ہوچکے ہیں جب 76 سالہ بائڈن کا مقابلہ پہلے اپنی ہی جماعت کے 19 امیدواروں سے ہوگا۔

خیال رہے کہ سابق امریکی نائب صدر جو بائڈن اس سے قبل دو مرتبہ صدارتی الیکشن میں حصّہ لے چکے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ صدارتی ڈور میں شامل ہونے والے دیگر ڈیموکریٹکس میں سینیٹر الیزبتھ وارن، کمالا ہیرس اور برنی سینڈرز بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ بائڈن سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دونوں ادوار میں ان کے نائب صدر رہے ہیں، انہوں نے ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ کے 2017 میں شارلٹس ول میں ہونے والے سفید فام مظاہروں یہ کہہ کر ’دونوں طرف اچھے ہیں نفرت پھیلانے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں اخلاقی برابر قائم کردی‘۔

جو بائڈن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو چار سال دئیے جو تاریخ میں گمراہ موقع کے اعتبار سے دیکھا جائے گا، اگر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید چار سال دت دئیے تو وہ امریکی اقوام کی بنیادی شخصیت کو ہی تبدیل کردے گا اور میں یہ سب دیکھتا رہو لیکن کچھ نہ کروں یہ نہیں ہوسکتا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ بائڈن کو نائب صدر بنانا اوبامہ کے بہترین فیصلوں میں ایک تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جو بائڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے سب سے زیادہ تجربہ کار امیدوار ہیں، جو چھ مرتبہ سینیٹر رہ چکے ہیں جبکہ دو مرتبہ 1988 اور 2008 میں ملکی سربراہی انتخابات میں حصّہ لے چکے ہیں۔

میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ جو بائڈن نے 2016 بھی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے خلاف شامل ہونا تھا لیکن وہ اپنے 46 سالہ بیٹے کی موت کے باعث شامل نہیں ہوسکے اور ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ بائڈن کے بیٹے باؤ بائڈن کا انتقال دماغ کے کینسر کے باعث ہوا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عوامی رائے شماری کے مطابق جو بائڈن ڈیموکریٹ کے سب سے مقبول امیدوار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں