embassy امریکی سفارتخانے کی منتقلی، مسلم ممالک میں تشویش کی لہر
The news is by your side.

Advertisement

امریکی سفارتخانے کی منتقلی، عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب

اسلام آباد : امریکی صدر کی جانب سے سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کے فیصلے کیخلاف دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے،عرب لیگ نےہفتے کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، مسلم ممالک نے امریکی  سفارتخانے کی یروشلم منتقلی مسلمانوں کے جذبات پر حملہ اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دی۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر ان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو دارالخلافہ قرار دینے کا فیصلہ ناقابل برداشت ہے، ایران اسلامی شعائر کی تقدیس کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

حماس کا کہنا ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے لیے جہنم کے دروازےکھول دیئے ہیں، عرب میڈیا کے مطابق عرب لیگ نے ہفتے کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس پرامریکی اقدام سے کشیدگی بڑھے گی، مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق فریقین احتیاط سے کام لیں۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دو ریاستی حل کےعلاوہ کوئی اور مسئلے کا حل نہیں،
اسرائیل اور فلسطین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کروں گا، جبکہ فلسطینی صدر نے کہا کہ امریکی اقدام سےخطے کو خطرات لاحق ہوں گے۔

فرانسیسی صدر نے بھی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے معاملے پر کہا ہہے کہ ہم اس فیصلے میں امریکا کے ساتھ نہیں۔

مصرنے اعلان کیاہے کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اپناسفارتخانہ یروشلم منتقل نہیں کریں گے۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ امریکی اقدامات فلسطین اور مسلم امہ کیلئے اضطراب کا باعث ہیں، سفارتخانے کی منتقلی سے مسلم ممالک کو ایک اور زخم ملا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ سفارتخانے کی منتقلی سے بیت المقدس کی حیثیت تبدیل ہوگئی، امریکی اقدام سے دو ریاستوں کا حل بھی دفن ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ دیگر مسلم ممالک نے امریکی صدر کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، سعودی عرب، ایران، اردن، مصر، ترکی نے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ بیت المقدس کا تنازع نہ چھیڑا جائے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کی منتقلی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کیلئےسرخ لکیر ہے، امریکی اقدام سے صرف دہشت گردوں کو فائدہ ہوگا۔


مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی سے بازرہیں، شاہ سلمان


دوسری جانب فلسطینیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کو دو ریاستی حل کی موت قرار دے دیا، غزہ، مغربی پٹی میں ہزاروں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے، اس کے علاوہ حماس نے امریکی صدر کے اعلان کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کردیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں