The news is by your side.

Advertisement

افغان امن مذاکرات میں تاخیر پر امریکا کا اظہارِ تشویش

واشنگٹن: امریکی حکام نے قطری دارالحکومت دوحہ میں طالبان سے ہونے والے مذاکرات میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغان امن مذاکرات میں غیر معینہ اِلتو پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جلد مذاکرات کی کے آمادگی پر زور دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا دوحہ میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو جلد حتمی شکل دینا چاہتا ہے جس کے لیے افغان حکام پر شدید دباؤ بھی ہے۔

یہ مذاکرات جمعہ سے خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہونے والے تھے، البتہ طالبان نے افغان شرکاءکی تعداد پراعتراض کیا تھا۔

مذکورہ مذاکرات شروع ہو جاتے تو پہلی مرتبہ طالبان اور افغان شہریوں کے درمیان رابطہ استوار ہوتا، عالمی ماہرین نے مذاکرات کو اہم قرار دیا ہے۔

ادھر افغانستان کے لیے مقرر امریکی مندوب زلمے خلیل زاد اگلے پیر سے افغانستان، پاکستان، بھارت، روس اور برطانیہ کا ایک اور دورہ شروع کرنے والے ہیں، خلیل زاد کا یہ دورہ گیارہ مئی کو ختم ہوگا۔

یاد رہے کہ طالبان اور افغان نمائندوں کے درمیان ملاقات 20 اور 21 اپریل کو قطر میں ہونا تھی اور مذاکرات کے لیے افغان حکومت نے 250 رکنی فہرست تیار کی تھی۔

امریکی صدر کی عرب ممالک کے تیل پر نظر

افغان حکومت کی مذاکرات کے لیے تیار کی گئی فہرست پرطالبان نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شادی یا کسی اور مناسب سے دعوت اور مہمان نوازی کی تقریب نہیں کہ کابل انتظامیہ نے کانفرنس میں شرکت کے لیے 250 افراد کی فہرست جاری کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں