The news is by your side.

Advertisement

ایران کے سپاہ پاسدارانِ انقلاب کو ایک اور دھچکا، امریکا کی نئی پابندی

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب کے گرد مزید گھیرا تنگ کردیا، عراق میں قائم کمپنی پر سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی مدد پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے عراق میں قائم ایک کمپنی اور اس کے دو وابستگان پر ایران کی سپاہِ پاسدارا ن انقلاب کے تحت القدس فورس کی مدد معاونت کے الزام میں پابندیاں عاید کردی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کمپنی پر القدس فورس کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کا اسلحہ اسمگل کرنے کا الزام ہے۔ امریکا کے وزیر خزانہ اسٹیون نوشین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹریژری ایران کے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے استحصال کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

ان نیٹ ورکس کو القدس فورس نے عراق میں اپنی علاقائی گماشتہ تنظیموں کو مسلح کرنے کے لیے استعمال کیا ہے جبکہ ان کے ذریعے رجیم کو اندرونی طور پر مالا مال بھی کیا گیا ہے۔ نوشین نے مزید کہا ہے کہ عراق کے مالیاتی شعبے اور وسیع تر بین الاقوامی مالیاتی نظام کو تہران کے دھوکا دہی پر مبنی مسلسل حربوں کا دفاع کرنا چاہیے تاکہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی پابندیوں سے بچنے کی اسکیم اور دوسری تخریبی سرگرمیوں کا توڑ کیا جا سکے۔

بحری جہازوں پر حملوں میں پاسداران انقلاب ملوث ہے، نارویجن انشورینس کمپنیز

بیان کے مطابق امریکا نے بغداد میں قائم ساؤتھ ویلتھ ریسورسز کمپنی اور اس کے دو متعلقین پر پابندیاں عاید کی ہیں۔ ان دونوں نے ہتھیاروں کو مہیا کرنے اور کمپنی کی مالیاتی سرگرمیوں میں معاونت کی تھی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کی سرگرمیوں سے سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے عراقی مشیر ابو مہدی المہندس کو بھی فائدہ پہنچا تھا۔امریکا نے اپریل میں پاسداران انقلاب ایران کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا اور اس پر پابندیاں عاید کر دی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں