The news is by your side.

Advertisement

امریکا اور چین کے درمیان اقتصادی بُل فائٹنگ عروج پر پہنچ گئی

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید دس فی صد ٹیکس سے اقتصادی جنگ تیز تر ہونے کا خدشہ

امریکا: چینی مصنوعات پر دس فی صد ٹیکس عائد کیے جانے سے امریکا اور چین کے درمیان جاری اقتصادی جنگ مزید تیز تر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی حکام نے 200 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات کی فہرست بھی جاری کر دی ہے جن پر دس فی صد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

امریکا اور چین کے مابین جاری اقتصادی جنگ میں اس نئی پیش رفت سے مزید شدت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، ایک طرف امریکی تاجر تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں دوسری طرف چین کی طرف سے بھی مذمت آ گئی ہے۔

امریکی حکام نے چین کی مزید چھ ہزار سے زاید مصنوعات کو نشانے پر لے لیا ہے، اگلے دو ماہ کے دوران جاری کردہ فہرست کو حتمی شکل دی جائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق فہرست کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد اسے صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کیا جائے گا جو اس پر عمل در آمد کے احکامات جاری کریں گے۔

دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، چینی وزارتِ اقتصادیات نے امریکی محصولات کی اس نئی قسط کو مسترد کرتے ہوئے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

چین اور امریکا کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی تجارتی جنگ


چین نے کہا ہے کہ امریکا چین کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس امریکی اقدام کا جواب دیا جائے گا، چین کا نقصان دنیا کا نقصان ہے، امریکا بھی اس کی زد میں آئے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی انتظامیہ نے 34 ملین ڈالر کی مالیت کی چینی اشیا پر 25 فی صد محصولات عائد کی تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں