عمر رسیدہ خاتون کو کرنٹ لگانے والا امریکی پولیس اہلکار بے قصور قرار us woman
The news is by your side.

Advertisement

عمر رسیدہ خاتون کو کرنٹ لگانے والا امریکی پولیس اہلکار بے قصور قرار

واشنگٹن: امریکی پولیس نے ایک عمر رسیدہ شامی خاتون کو برقی پستول کے ذریعے کرنٹ لگائے اور اس پر تشدد کے ملزم ایک پولیس اہلکار کو بے قصور قرار دے کر بری کردیا گیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی جارجیا ریاست کے پولیس چیف شاٹسورتھ اٹیرریڈنگ نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے روز 87 سالہ ایک شامی خاتون ’مارتا البشارۃ‘ اپنے گھر کے قریب چھری کی مدد سے ایک جنگلی سبزی ’ککروندا‘ کے پتے کاٹ رہی تھیں، اس دوران پولیس اہلکار نے اسے دیکھا اور چھری نیچے رکھنے کو کہا مگر خاتون انگریزی نہ سمجھ سکی اور چھری لے کر پولیس اہلکار کی طرف بڑھی۔

پولیس اہلکار نے چھری اٹھائے اپنی طرف آنے والی خاتون کو پکڑ کر زمین پر گرادیا، اسے زدوکوب کیا اور اس کے ہاتھ باندھ دئیے، اس کے بعد اسے برقی پستول کے ذریعے جھٹکے لگائے گئے۔

این بی سی ٹی وی کے مطابق البشارۃ کی پوتی مرتادون کا کہنا ہے کہ اس کی دادی نے ایسے محسوس کیا جیسے اسے گولیاں ماری گئیں، ان کا کہنا تھا کہ برقی پستول کے ذریعے جھٹکے لگانے کے بارے میں ہم سے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے تاہم پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس نے بوڑھی شامی خاتون کو ٹیزر سے بجلی کے جھٹکے لگائے تھے۔

پولیس نے نوٹس میں آنے والے اس واقعے میں خاتون کو برقی جھٹکے لگائے پولیس اہلکار کو یہ کہہ کر بری کردیا کہ چھری اٹھا کر خاتون کا اس کی طرف بڑھنا خطرے سے خالی نہیں تھا، پولیس اہلکار نے اپنے دفاع میں شامی خاتون کو برقی پستول سے جھٹکے لگائے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں