The news is by your side.

Advertisement

میانمار میں فوج کا اقتدار پر قبضہ، امریکا اور اقوام متحدہ کا رد عمل آ گیا

واشنگٹن: جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار (سابقہ برما) میں فوج کے اقتدار پر قبضے پر امریکا اور اقوام متحدہ نے اپنا رد عمل ظاہر کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے میانمار کی فوج سے اقتدار سے دست برداری کا مطالبہ کر دیا ہے، جوبائیڈن نے میانمار پر پابندیوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میانمار کی فوج فوری طور پر اقتدار سے دست بردار ہو جائے۔

ادھر اقوام متحدہ نے بھی میانمار میں نظر بندیوں کے خاتمے اور سیاسی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، یو این نے میانمار کی صورت حال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی کل طلب کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ پیر کی صبح میانمار کی فوج نے ملک کے صدر یوون منٹ اور برسر اقتدار جماعت کی رہنما آنگ سان سوچی کو گرفتار کرنے کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ میانمار میں انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جس کے بعد فوج نے بغاوت کرتے ہوئے ملک کا کنٹرول سنبھالا۔

میانمار میں فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا، آنگ سان سوچی گرفتار

فوج نے برسر اقتدار جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کی رہنما آنگ سان سوچی، ملک کے صدر یوون منٹ اور دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد میانمار کی فوج نے ٹی وی پر اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایک سال کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کر رہی ہے، فوج کی جانب سے کہا گیا کہ کمانڈر ان چیف من آنگ ہلاینگ کو اختیارات سونپے جا رہے ہیں۔ فوج نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں الیکشن میں فراڈ کے نتیجے میں عمل میں لائی گئیں۔

خیال رہے کہ آنگ سان سوچی کے پاس کوئی باقاعدہ سیاسی عہدہ موجود نہیں تھا تاہم وہ برسر اقتدار جماعت کی سربراہی کر رہی ہیں اور ان کی طویل سیاسی جدوجہد کے باعث انھیں ہی ملک کی حقیقی رہنما سمجھا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں