The news is by your side.

Advertisement

دباؤ کے باوجود بوئنگ 737 پر پابندی نہیں لگائیں گے، امریکی ایوی ایشن اتھارٹی

واشنگٹن : امریکی ایوی ایشن اتھارٹی کا بوئنگ 737 سے متعلق کہنا ہے کہ ’ہم بے تحاشا دباؤ کے باوجود بوئنگ 737 میکس ایئرکرافٹ پر کوئی پابندی عائد نہیں کریں گے‘۔

تفصیلات کے مطابق ایتھوپیا میں گذشتہ دنوں ہولناک طیارہ حادثہ پیش آیا تھا، بوئنگ 737 میکس 8 طیارے میں سوار 35 ممالک سے تعلق رکھنے والے 157 مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکا کی فیڈریل ایوی ایشن اتھارٹی نے اپن جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’طیارے کے نظام میں کوئی کارکردگی کا مسئلہ نہیں ہے‘ اور نہ ہی طیارے کو بند کرنے کی کوئی بنیادی وجوہات ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ کے دوران بوئنگ 737 کا یہ خوفناک حادثہ ہے جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

ایتھوپین ایئرلائن کے طیارہ حادثے کے بعد دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے بوئنگ 737 پر پابندی لگانے کی ایک لہر چل پڑی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہانگ کانگ، ویت نام، نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے بوئنگ 737 طیارے کی اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ، چین، یورپی یونین اور آسٹریلیا پہلے ہی بوئنگ 737 کے تمام ماڈلز پر پابندی لگا چکے ہیں۔

ایوی ایشن و اسپیس کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ ’مجھے یقین کہ امریکا بھی دیگر ممالک کی طرح عارضی طور پر بوئنگ 737 پر پابندی عائد کردے گا جب ایف اے اے طیارے اور مسافروں کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرواتا‘۔

ڈیموکریٹ کی امریکی صدارتی امیدوار الیزبتھ وارن کا کہنا ہے کہ ’فیڈریل ایوی ایشن اتھارٹی (ایف اے اے) دیگر ممالک کی تقلید کرے اور فوری طور پر تمام بوئنگ 737 طیاروں پر پابندی لگا دے‘۔

مزید پڑھیں: ایتھوپیا میں طیارہ حادثہ، امریکی ٹیم تحقیقات کرے گی

یاد رہے کہ ایک روز قبل ایتھوپین ائیرلائن کا بوئنگ طیارہ تباہ ہوا جس کے نتیجے میں 157 افراد ہلاک ہوئے تھے، اسی طرح اکتوبر 2018 میں بھی اسی ماڈل کا طیارہ کریشن ہوا تھا جس کے نتیجے میں 189 مسافر مارے گئے تھے۔

امریکی کمپنی بوئنگ 737 طیارے تیار کرتی ہے، ایتھوپیا کے پاس اب اس ماڈل کے چار طیارے باقی ہیں جنہیں سول ایوی ایشن کے حکم پر فوری گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں