The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور روس آمنے سامنے

نیویارک: امریکا کی درخواست پر بلائے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یوکرین کے معاملے پر امریکا اور روس آمنے سامنے آ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مشرقی یورپ میں فوجی تعطل پر ماسکو کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، امریکا نے یوکرین کے قریب اپنی فوجیں جمع کرنے پر روس پر تنقید کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پیر کے اجلاس کا استعمال کیا ہے۔

واشنگٹن نے روس کو یوکرین پر حملے کی صورت میں سخت پابندیوں کی دھمکی دی ہے، امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین نے اجلاس سے قبل کہا کہ روسی اقدامات عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ جب کہ روسی نائب سفیر نے کہا کہ امید ہے سلامتی کونسل امریکی پی آر اسٹنٹ کی حمایت نہیں کرے گا۔

ادھر روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کے درمیان سیکیورٹی کونسل کی سائیڈ لائن پر ملاقات ہونے کا امکان ہے۔

اجلاس کے ذریعے امریکا نے ماسکو پر یوکرین کی سرحد پر تعینات ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو واپس بلانے کے لیے دباؤ ڈالا۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ روس کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین قلب پر حملے کے مترادف ہیں، یہ امن اور سلامتی کے لیے اتنا ہی واضح خطرہ ہے جتنا کہ کوئی تصور کر سکتا ہے۔

انھوں نے اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میری بات واضح طور پر سن لیں، کئی دہائیوں میں یہ یورپ میں فوجیوں کی نقل و حرکت کی کارروائیوں میں سب سے بڑی نقل و حرکت ہے۔

دوسری طرف روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے سختی سے امریکا کے دلائل کو مسترد کر دیا، اور واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ بیان بازی کے ذریعے کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔

نیبنزیا نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود حملے کی دعوت دے رہے ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ یہ ہو، اور آپ اس کے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، گویا آپ اپنے الفاظ کو حقیقت بنانا چاہتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں