The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں‌ مزید قیام خطرناک ہوتا، امریکی وزیر دفاع

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع نے افغانستان سے انخلا غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم مزید قیام کرتے تو یہ خطرناک ہوسکتا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان سےانخلا اور طالبان کے کنٹرول کے حوالے سے امریکی عسکری قیادت سے سینیٹ ارکان نے سخت سوالات کیے۔

وزیردفاع ، کمانڈ سینٹ کام سمیت  اور عسکری قیادت سینیٹ کمیٹی کےسامنے پیش ہوئے، جہاں اُن سے اراکین نے سخت سوالات کیے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کو بائیڈن کی غلطی پالیسی قرار دیا۔

امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان میں القاعدہ ایک بار پھر سر اٹھا سکتی ہے کیونکہ افغان طالبان کے ابھی بھی اُن کے ساتھ تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’انٹیلی جنس بھی افغان آرمی کے جلد ہتھیار ڈالنےکی معلومات نہ دے سکی، افغان جنگ کاخاتمہ اس طرح نہیں ہوا جس طرح چاہتےتھے، اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ طالبان کا اقتدار مضبوط ہوتا ہے یا دو افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی ہوتی ہے’۔

جنرل مارک ملی نے بتایا کہ ’عسکری اداروں نے ٹرمپ اور بائیڈن کو خبردار کیا تھا کہ اچانک انخلا سے افغان حکومت گرسکتی ہے مگر اُس کے باوجود انخلا میں جلد بازی کی گئی، جس کے بعد اب صورت حال سب کے سامنے ہے‘۔

امریکی وزیر دفاع نے کہ کہ ’ہم نے افغانستان سے تاریخ کا سب سے بڑا انخلا کیا، افغانستان میں مزید قیام زیادہ خطرناک ہوتا، ہم نے افغانستان میں20سال کی طویل جنگ لڑی، اس دوران 2461امریکی فوجیوں کو کھ ودیا اور 20 ہزار سے زائد زخمی  ہوئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں ریاست بنانے میں مددکی مگر وہ قوم نہ بن سکے، اندازہ نہیں تھا افغان فوج اس قدر جلد ہتھیار ڈال دے گی، دوحہ معاہدےکے تحت افغانستان نہ چھوڑتے تو دوبارہ حملے شروع ہوجاتے جس میں مزید جانی نقصان ہوتا، سابق افغان حکومت کی کرپشن، قائدانہ صلاحیتوں کے فقدان کا ادراک نہ کرنا بھی ہماری ناکامیوں میں سے ایک ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں