site
stats
عالمی خبریں

ٹرمپ انتظامیہ کا رمضان کا روایتی افطار ڈنرنہ کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن : امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کا مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی کوشش کے بعد اب روایتی افطار ڈنر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے روایتی افطار ڈنر کی تقریب کی درخواست مسترد کر دی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گزشتہ ہفتے دورہ سعودی عرب ، اور وہاں چالیس سے زیادہ مسلم ممالک کے سربراہان کی شرکت ، اسلام پر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب عندیہ دے رہا تھا کہ شاید ٹرمپ انتظامیہ مسلمانوں کے حوالے سے اپنا رویہ تبدیل کرنے کیلئے تیار ہے لیکن واشنگٹن میں وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کسی اور موڈ میں ہی موجود ہیں۔

ریکس ٹلرسن نے ہر سال امریکی محکمہ خارجہ میں رمضان المبارک کے حوالے سے منعقد ہونے والی روایتی افطار ڈنر اور عید الفطر کا استقبالیہ منعقد کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ہر سال دیا جانے والا افطار ڈنر اس سال نہیں ہوگا۔

حکومت ڈیموکریٹس کی ہو یا ری پبلکنز کی امریکی محکمہ خارجہ 1999 سے ہر سال افطار ڈنر کا اہتمام کرتا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ خصوصی طور پر شرکت کرتے رہے ہیں تاہم اس سال ریکس ٹلرسن نے رمضان یا عید الفطر کے حوالے سے کسی بھی تقریب کے انعقاد کی اجازت نہیں دی۔

اس با برکت مہینے کے حوالے سے اپبا بیان ضرور جاری کیااور مسلمانوں کورمضان کی مبارکباد دی۔

خیال رہے کہ اٹھارہ سال میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ محکمہ خارجہ میں رمضان المبارک کی تقریب نہیں ہوگی۔

امریکی محکمہ خارجہ میں رمضان المبارک کے حوالے سے ہر سال منعقد کی جانے والی تقریب میں مسلمان ممالک کے سفیر، مسلم کانگریس مین، تھنک ٹینکس اور مسلم تنظیموں کی بڑی تعداد شرکت کرتی تھی اور اس سال اس تقریب کی منسوخی پر یہی خیال کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مسلمانوں سے شاید کوئی قریبی روابط نہیں چاہتی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top