پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد امریکی ٹیرف عائد ہونے کے معاملے پر حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح اسٹیئرنگ کمیٹی اور ورکنگ گروپ قائم کیا ہے جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو 12 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے۔
امریکا کے ساتھ اضافی ٹیرف کے معاملے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
سیکریٹری تجارت جواد پال کو ورکنگ گروپ کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے، اسٹیئرنگ کمیٹی ٹیرف کے معاملے پر قائم ورکنگ گروپ کی نگرانی کرے گی۔
19 رکنی ورکنگ گروپ میں متعلقہ سیکریٹریز، کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں۔
امریکی حکومت نے پاکستان سے درآمدات پر 29 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیا ہے، جو کہ 10_فیصد بنیادی (baseline) ٹیرف کے علاوہ ہے۔
یوں پاکستان کی برآمدات پر مجموعی ٹیرف 39 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اس فیصلے نے امریکہ میں پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر ٹیکسٹائل، کی قیمتوں میں مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے۔
یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں "یومِ آزادی تجارت” (Liberation Day) کے نام سے نئی تجارتی پالیسی کے اعلان کے تحت کیا۔ نیا ٹیرف 9 اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوگا، جب کہ 10 فیصد کا بیس لائن ٹیرف 5اپریل سے لاگو ہوگا۔